جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر45




سفید اسکارف میں چمچماتا ہوا وہ چہرہ اور نائلہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو۔۔۔۔۔بہت کُچھ اسکے لیے نا قابل برداشت تھا،

”ہاں۔۔۔سر۔۔بلکل میں پہچان لوں گا۔۔۔۔!!“

”گُڈ۔۔۔!!“وہ بہت کُچھ سوچ چکا تھا،اسکی آنکھیں ایک لمحہ کے لیے چمکی تھیں،

”لیکن سر۔۔۔۔۔۔؟؟؟“سرمد بات بدلنا چاہتا تھا،

”آپ کو پتہ ہے وہ اے جی ایف کے مالک شاہد انصاری کی بیٹی ہے۔۔۔۔؟؟؟اور ان سے تو ہمارے تعلقات۔۔۔۔“قاسم نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔۔،

”میں جانتا ہوں سرمد علی۔۔۔لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ یہ دشمنی ختم ہو جائے کیا کُچھ ہماری اس دشمنی کی وجہ سے برباد ہو رہا ہے تم نہیں جانتے اسی لیے میں نے وہ ایک معاہدہ کروانے کے لیے اتنی محنت کی تھی بس اب یہ سب ختم ہو جانا چاہیے۔۔۔!!!“

”ہاں۔۔۔۔آپ ٹھیک کہتے ہیں سر۔۔!!“سرمد پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور نڈھال ہو کر دیوار سے سر ٹیک دیا ذہنی تھکن بھی ذیادہ تھی اور جسمانی طور پر بھی وہ تھکا ہوا تھا ہی بھوک بھی لگ رہی تھی لیکن کاش وہ دلنشین مسکراتا ہوا چلرہ اسکی نگاہوں سے غائب ہو پاتا۔۔۔۔

”اگر اجیہ ہوش میں نہ آئی تو۔۔۔۔۔آگے سوچنا روح فرسا تھا،قاسم آہستگی سے چلتا اسکے برابر ا ٓکر بیٹھ گیا،

”تھک گئے ہو سرمد۔۔؟“

”نہیں۔۔۔۔نہیں سر۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔!!“وہ گڑ بڑا کر بولا،

قاسم مسکرا دیا،”آؤ چل کر کُچھ کھا لیتے ہیں۔۔!!“

”ارے رہنے دیں سراس وقت کیا ملے گا َ؟؟“

اسنے گھڑی کی طرف دیکھا چار بجنے والے تھے،

”آؤ تو۔۔ہاسپٹل کی کینٹین کھلی ہوتی ہے وہاں سے مل جائے گا۔۔۔۔!“قاسم کہتے ہوئے اُٹھ کھڑ اہوا اور سرمد کو دیکھا،

”اوکے جیسے آپکی مرضی۔۔!!“وہ ہلکا سا مسکرا کر کھڑا ہوا،لیکن تبھی کوریڈور میں بہت دور سے بھاگتے قدموں کی آواز آئی،وہ دونوں پریشان ہو کر اس طرف دیکھنے لگے

نائلہ بھاگتے ہوئے آ رہی تھی وہ قریب آئی تو دونوں کی پریشانی بڑھ گئی،قآنکھوں سے بری طرح آنسو گر رہے تھے پھولی ہوئی سانسوں کو قابو کرتے ہوئے وہ رکی اور دونوں کو باری باری دیکھا پھر اسکی سرخ گیلی آنکھیں قاسم کے چہرے پر رک گئیں،قاسم نے سرمد کو دیکھااور سرمد نے نائلہ کو۔۔۔

”کیا بات ہے نائلہ۔۔۔۔۔اجیہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔؟؟؟؟“بہت سارے خدشات ایک ساتھ ذہن میں آئے تھے وہ آگے بڑھ کر بولا،نائلہ کے آنسو اور تیزی سے گرنے لگے اسکا پورا وجود کانپا جا رہا تھا الفاظ جیسے آنکھوں کے سامنے ناچ رہے ہوں اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو گئیں تھیں۔۔۔۔۔پیچھے ہٹتے ہٹے وہ دیوار کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھتے چلی گئی تھی،

”اجیہ۔۔۔۔اجیہ۔۔۔۔اجیہ۔۔۔۔سسکیوں میں دبے ہوئے لفظ بمشکل اسکے منہ سے نکل رہے تھے،سرمد اور قاسم بری طرح بوکھلا گئے تھے،

”قاسم۔۔۔۔۔قاسم ا۔۔۔۔اجیہ۔۔۔وہ۔۔وہ۔۔۔اجیہ۔۔۔۔۔نائلہ کی یہ کیفیت وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا،

”نائلہ کیا ہوا ہے اجیہ کو۔۔۔۔؟؟؟“اضطرابیت کی انتہا تھی،

”نائلہ خدا کے لیے کُچھ بولیں۔۔۔۔اجیہ کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟“سرمد رو دینے کو تھا،

اجیہ۔۔۔اجیہ۔۔۔۔۔۔نائلہ کی سسکیاں کوریڈور کے پر سکون سناٹے میں عجب ارتعاش پیدا کر ریں تھیں،

”نائلہ بولتی کیوں نہیں۔۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔۔؟؟‘قاسم کی برداشت ختم ہو گئی،وہ نائلہ کے سامنے دو زانو بیتھا اور اسکے بازو پکڑ کر آہستگی سے جھنجھورے،آنکھیں بند کیے سسکتی نائلہ کی پلکیں جھٹکے سے اوپر اُٹھی تھیں وہ جیسے ہوش میں آئی ہو ایک لمحے کے لیے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسنے قاسم کو دیکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی،

”قاسم۔۔اجیہ۔۔وہ ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔ابھی بھی بولنا اسکے لیے مشکل تھا،سرمد ضبط کیے منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا،

”ڈاکٹر کہتے ہیں۔۔۔۔“اسنے گلے پر ہاتھ پھیرا۔

وہ کہہ رہے ہیں اجیہ کے ہوش میں آنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔میری اجیہ موت کے منہ میں جا رہی ہے۔۔۔۔اسکی سانسیں ختم ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔قاسم۔۔۔قاسم۔۔۔وہ۔۔۔وہ کومہ میں جا سکتی ہے۔۔۔۔اجیہ۔۔۔وہ۔۔اسے بلڈ بھی چاہئے ہے۔۔۔۔“رندھے ہوئے گلے سے وہ کہتے ہوئے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی سرمد کا وجود شل ہو چکا تھا،

”قاسم آؤ۔۔۔جلدی۔۔۔۔اجیہ کو بلڈ چاہیے۔۔۔۔!!“یکدم کُچھ یاد آنے پر وہ چونکی،

”ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جلدی کہیں سے بلڈ رینج کریں۔۔۔۔جلدی چلو قاسم۔۔۔۔!“وہ ساکت کھڑے قاسم کو بازو سے پکڑ کر تیزی سے آگے بڑھ گئی،شل ہوئے سرمد کے ارد گرد سناٹا باقی رہ گیا تھا،وہ دونوں دوڑتے قدموں سے آئی سی یو کی طرف چلے گئے تھے،

اجیہ۔۔۔۔کیا تم مجھے چار سالوں بعد اس لیے ملی تھی کہ جدائی کا گہرا زخم دے کر ہمیشہ کے لیے چلی جاؤ۔۔۔۔۔چار سالوں کے لیے میں اس لیے تمھیں ڈھونڈتا رہا تھا۔۔۔۔ماما کو اسلیے شادی سے انکار کیا تھا

میں نے۔۔۔اجیہ۔۔۔۔کیا اسی لئے۔۔۔۔یہ جو تمھارے رشتہ دار ہیں۔۔۔۔۔یہ تو جان بھی نہیں پائیں گے۔۔۔اگر تم چلی گئی تو یہ تو جان بھی نہیں پائیں گے اجیہ کہ میرے لیے کیا تھی تم۔۔۔۔۔نہیں اجیہ۔۔۔تمھیں زندہ رہنا ہو گا ورنہ میرے ان خوابوں کا کیا ہو گا جو میں روز جاگتی آنکھوں سے دیکھتا رہتا ہوں۔۔۔۔وہ بہت نڈھال ہو کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا تھا آنسوؤں کے چند قطرے نیچے گرے تھے لیکن اسے احساس نہیں ہوا تھا۔۔۔

اسنے گھٹنوں میں سر دے دیا۔۔۔۔آنسو نیلی جینز میں جذب ہونے لگے،کوریڈور سے باہر درختوں پر چڑیاں بیدار ہو رہیں تھیں۔۔رات کا مہیب سناٹا ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔۔،

پرندے اپنی اپنی زبانوں میں حمد وثناء بیان کر رہے تھے تہجد کا وقت رخصت ہونے والا تھا۔۔۔سیاہ آسمان نیلگوں ہو رہا تھا۔۔۔۔،ستارے غائب ہوتے جا رہے تھے۔۔ رات اپنے دامن میں اداسیاں اور دکھ سمیٹ کر صبح کے لیے جگہ خالی کر رہی تھی رات اور صبح کے مدغم ہونے کا منظر ہمیشہ کی طرح بہت حسین تھا لیکن سرمد کا دل خالی ہو گیا تھا،

بہت دیر تک وہ یونہی بیٹھا رہا اور پھر آہستگی سے اُٹھ کر کوریڈور کے آخری سرے کی طرف دیکھا،آئی سی یو کے باہر چہل پہل نظر آرہی تھی۔۔ متحرک سی نرسیں مریضوں کی خدمت کے لیے خود کو تیار کرتی ادھر ادھر جا رہیں تھیں،بے اختیار اسکا دل چاہا کہ وہ آئی سی یو جا کر اجیہ کو دیکھ آئے،

لیکن نہ جانے کیوں اجیہ کا زرد چہرہ دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اسمیں۔۔۔پھر کچھ سوچ کر وہ آستینیں فولڈ کرتا کوریڈور میں آگے بڑھ گیا بہر حال آئی سی یو کے سامنے سے تو گزرنا تھا اسے۔۔۔۔اس طرح رونے سے بہتر تھا کہ وہ نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے التجا کر لیتا،یہی سوچ کر وہ وضو کرنے جا رہا تھا آئی سی یو کے سامنے سے وہ آنکھیں بند کر کے گزر گیا،کھلی آنکھوں سے حقیقت کا سامنا کرنے کی ہمت ہر ایک میں نہیں ہوتی نا۔۔۔۔۔آئی سی یو سے تھوڑا آگے جا کر دائیں جانب نماز کا کمرہ اور وضو خانہ نظر آیا وہ ابھی موڑ تک پہنچا ہی تھا کہ ٹھٹھک کر رہ گیا،سامنے سے نازیہ اور شاہد انصار ی آرہے تھے،ایک لمحے کے لیے کُچھ سمجھ نہیں آیا اسے کہ کیا کرے۔۔نازیہ سرخ آنکھوں کو بار بار ٹشو سے خشک کر رہی تھی۔۔۔۔،شاہد انصاری کا چہرہ ستا ہوا تھا انکی آنکھوں میں دکھ رنج ملا ل د ہشت اور کیا کُچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ دونوں اسکے برابر سے گزر کر چلے گئے ایک پل کے لیے اسنے کُچھ سوچا اور پھر انکی جانب لپکا،

”ایکسکیوز می۔۔مسٹر انصاری۔۔۔۔؟؟؟“بلند آواز سے کہتے ہوئے اسنے اپنے لہجے کی نمی کو مشکلوں سے چھپایا تھا۔۔،وہ دونوں چلتے چلتے رکے اور پھر پلٹے،

”جی۔۔۔۔۔؟؟؟“

”آئی ایم سرمد۔۔۔!!“وہ انکے قریب آتے آتے اپنے چہرے کو نارمل کر چکا تھا،

”کون سرمد۔۔۔۔؟؟؟“انہوں نے الجھن بھرے لہجے میں کہا لیکن نازیہ نے انکی بات کاٹ دی،

”ابو انہوں نے ہی کال پربات کی تھی۔۔!!“

”اوہہ۔۔۔اچھا۔۔“انہوں نے گہری سانس سے اسے دیکھا۔۔۔،

”اجیہ کہاں ہے۔۔۔؟؟؟سرمد آپکو وہ کہاں ملی۔۔۔؟کیسے جانتے ہیں آپ اسے۔۔کس نے گولی ماری اسے۔۔۔۔آپ خود کون ہیں۔۔۔پلیز بتائیں۔۔۔۔؟؟؟“نازیہ آگے آ کر کہتی چلی گئی آخر میں اپنا سر دونوں ہاتھوں میں لے کر دبایا تھا اسنے،شاہد انصاری منتظر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تھے،

”اجیہ آئی سی یو میں ہے۔۔۔“بس ایک ہی جملہ تھا کہ نازیہ تڑپ کر شاہد انصاری کی طرف مڑی۔۔۔۔۔

”ابو۔۔۔۔آئی سی یو۔۔۔اجیہ کو۔۔۔۔“وہ پھر رو دینے کو تھی۔۔۔۔،”مس نازیہ پلیز۔۔۔ریلکس رہیں۔۔۔آپ نائلہ کو جانتی ہیں اسکے دوست ہے۔۔۔۔وہ بھی یہیں ہے اجیہ کے پاس آئی سی یو میں ہے آپ اگر چاہیں تو چلی جائیں پتہ نہیں اب دیکھنے دیں یا نہیں بہر حال ٹرائی کر لیں۔۔۔۔۔“وہ اشارے سے شیشیے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،نازیہ نے ایک نظر شاہد انصاری کی طرف دیکھا اور تیزی سے شیشے کا دروازہ سرکا کر راہداری میں آگے بڑھتی گئی۔۔شیشے کے دروازے سرخ رنگ سے آئی سی یو سٹاپ کے لفظ لکھے ہوئے تھے،اسے مال کے فرش پر دور تک بہتا سُرخ خون یا د آگیا تھا کرب سے آنکھیں بند کر کے اسنے کھولیں،

”آیئے سر میں آ پکو سب بتاتا ہوں۔۔!!“وہ شاہد انصاری کی طرف متوجہ ہوا وہ شیشے کے دروازے کے اس پار خالی راہداری میں کُچھ ڈھونڈ رہے تھے،

”آ۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔۔پلیز بتاؤ۔۔۔۔۔!“انکا لہجہ مشکور ہوا،وہ شاہد انصاری کے ساتھ کوریڈور میں دھیمے قدموں سے چلنے لگا،

”میں اجیہ کا کلاس فیلو تھا میٹرک میں،کل جب مال میں فائرنگ ہوئی تو میں وہیں تھا اتفاق سے اجیہ کو پہچا ن کر میں ہاسپٹل لے آیا وہ بہت ذیادہ زخمی ہو گئی ہیں آپریشن ہوا ہے انکا چار گھنٹے ہوئے انہیں آئی سی یو لے گئے ہیں۔۔۔۔انکا موبائل میرے پاس ہے۔۔۔۔یہ لیں۔۔۔۔!!“

اس نے جیب سے اجیہ کا موبائل نکال کر انکی طرف بڑھا دیا شاہد انصاری نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ موبائل تھام لیا۔۔۔

نہیں معلوم انکے دل پر کیا گزر رہی تھی۔۔۔۔نازیہ کا ٹیومر۔۔۔۔اسکا الم کم تھا کیا۔۔۔اور اب اجیہ۔۔لیکن۔۔

مردوں کو اپنے آپ بہت مضبوط ظاہر کرنا ہوتا ہے نا۔۔۔چاہے سینے کے اندر دل کتنے ہی ٹکڑوں میں ٹوٹ چکا ہو۔۔۔۔۔کتنے ہی تیر جگر میں پیوست ہو چکے ہوں۔۔۔لیکن انکی آنکھوں کی جھیلیں خشک رہتی ہیں۔۔۔

”اصل میں سر اجیہ کے موبائل میں آپکا ایک ہی نمبر ہے اس لیے میں نے بہت کال کی تھیں آپ کو۔۔۔۔پھر نائلہ کو کال کر لی۔۔۔۔کسی کو تو بتانا ہی تھا نا۔۔۔وہ تو شکر ہے نازیہ نے کال خود کر لی ورنہ میں۔۔۔۔مجھے بہت مشکل ہو جاتی آپکو انفارم کرنے کے لیے۔۔۔۔

وہ نارمل لہجے میں بات کرنے کی پوری کوشش کر رہاتھا اسکے باوجود اسکے جملوں کا ربط بری طرح ٹوٹ رہا تھا،

”اٹس اوکے۔۔۔۔اجیہ کیسی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟“

شاہد انصاری چلتے چلتے رک کر بولے،

اور سرمد کی آنکھوں کے سامنے ایک لمحے کے لیے اندھیرا چھاگیا،سفید پٹیوں میں لپٹا زرد بے جان چہرہ۔۔۔۔۔

اسنے تکلیف سے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔،

”سر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ۔۔۔۔“

بہت ہمت چاہیے تھی آگے بتانے کے لیے اور وہ وپنے اندر وہ ہمت نہیں جمع کر  پا رہا تھا،

”وہ کہتے ہیں کہ۔۔۔اجیہ۔۔اجیہ۔۔۔۔“بہت کوشش کے باوجود اسکے لہجے میں نمی گھل گئی تھی،

”وہ اگر ہوش میں نہ آئی تو۔۔۔۔۔“

شاہد انصاری ساکت ہوئے اسے دیکھ رہے تھے،

”ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اجیہ کے ہوش میں آنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔اسکی سانسیں اسکی زندگی کا ساتھ نہیں دے رہیں۔۔۔۔اجیہ۔۔۔۔اجیہ۔۔۔وہ کومہ میں جا سکتی ہے۔۔۔!“

اور چٹان کی طرح کھڑے شاہد انصارے بری طرح لڑکھڑائے تھے انکی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بھیگی تھیں لیکن بس ایک لمحہ۔۔،

وہ سنبھل گئے،

سرمد سر جھکائے ہونٹ کاٹ رہا تھا،

”اوکے۔۔۔۔انشاء اللہ وہ ہوش میں آجائے گی۔۔۔تم کون ہو۔۔؟؟؟؟“

سینے میں ڈوبتے دل کو انہوں نے سنبھال لیا تھا،

”میں۔۔۔۔سرمد علی۔۔۔۔وہ۔۔۔۔اصل میں۔۔۔قاسم عباس کا اسسٹنٹ ہوں میں۔۔۔۔۔عباس لیدر کمپنی کے ایم ڈی۔۔!!“

آہستہ سے وہ بولا تھا،

پتہ نہیں شاہد انصاری کس طرح کا رد عمل دینگے۔۔۔دل میں کہیں خوف تھا۔۔

”اچھا۔۔۔۔۔قاسم عباس کے اسسٹنٹ ہو۔۔۔۔ہوں۔۔۔چلو اچھی بات ہے۔۔۔۔کس نے سوچا تھا کہ ہم اس طرح اکٹھے ہونگے۔۔۔۔اس حالت میں کہ میں تمھارا احسان مند ہوں گا۔۔۔“

وہ کنویں کی گہرائی سے بول رہے تھے جیسے۔۔۔۔۔

”سر آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔کیسا احسان۔۔۔۔آپ جانتے ہیں۔۔۔قاسم عباس بھی یہیں ہیں۔۔۔۔اصل میں نائلہ جو اجیہ کی دوست ہے۔۔۔وہ سر کی وائف ہے۔۔۔اجیہ کو او نیگیٹو گروپ کی ضرورت تھی ورنہ انکی زندگی خطرے میں پڑ جاتی۔۔۔۔آدھا گھنٹہ پہلے سر بلڈ ڈونیٹ کرنے گئے ہیں آپ کی بیٹی کے لیے۔۔۔۔“

وہ آگے ہو کر شاہد انصاری کے کندھے پر ہاتھ رکھے تسلی آمیز لہجے میں بول رہا تھا،

اپنے اندر کی حالت پر تو وہ کسی قدر قابو پا چکا تھا لیکن سر کا درد ویسا ہی تھا،

شاہد انصاری نے بہت خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا،

”لیکن سر آپ یہ مت سمجھئے گا کہ قاسم یا میں نے اگر آ پ کی بیٹی کے لیے کُچھ کیا ہے تو وہ احسان بالکل بھی نہیں کیا آپ پر یہ سب ہمارا فرض تھا سر آپ کو پتہ ہے سر قاسم کتنا چاہتے ہیں کہ ہم دونوں کمپنیوں میں اتحاد ہو جائے۔۔سر انہوں نے اس چھوٹے سے معاہدے کے لیے ہی کتنی بھاگ دوڑ کی تھی سر اگر اس واقعے کے بعد ان دونوں کمپنیوں میں برف پگھل سکتی ہے تو پلیز آپ ایسا کر لیں۔۔۔۔!“

وہ بے خیالی میں بات کو کہیں سے کہیں لے گیا تھا خود اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح انہیں تسلی دے وہ ٹھٹھک کر اس وقت خاموش ہوا جب سامنے سے قاسم آتا ہوا دکھائی دیا وہ اپنے دائیں بازو کا دباتا ہوا سر جھکائے آ رہا تھا،

شاہد انصاری اسے دیکھ کر بے ساختہ سیدھے ہو گئے تھے خود کوآنے والے حالات کے لیے بہت تیزی سے تیار کیا تھا انہوں نے۔۔۔۔

دو ایسی کمپنیوں کے سربراہ جو ایک دوسرے کی خطرناک حد تک مخالف تھیں،تباہ کن حد تک ایک دوسرے کی دشمن تھیں،انٹرنیشنل مارکیٹ میں ان دونوں کا کوئی حریف نہ تھا سوائے ایک دوسرے کے،ان دونوں کے علاوہ ہر کوئی ان سے دبتا تھا جن کی مصنوعات کی دھوم پوری دنیا میں تھی ہر جگہ انکی لیدر پراڈکٹس کی بے تحاشا مانگ تھی۔۔۔۔۔

ایسی دو کمپنیوں کے سربراہ جو عام حالات میں شاید ایک دوسرے کا منہ دیکھنا پسند نہ کرتے آج ہاسپٹل میں کس طرح مل رہے تھے۔۔۔؟؟؟؟

قاسم قریب آیا تھا تو سرمد نا محسوس انداز میں مؤدب ہوا تھا،

شاہد انصاری کی نگاہیں قاسم پر تھیں۔۔۔قریب آتے آتے ہی اسنے سر اُٹھایا اور پھر رک گیا،چہرے پر ہلکی سی زردی تھی۔۔۔

شاہد انصاری کو دیکھ کر وہ مسکرایا اور ہاتھ بازو سے ہٹا کر آہستہ آہستہ چلتے انکے قریب آیا،

”السلام و علیکم سر۔۔۔۔!!“

ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسنے لہجے کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی آئی سی یو میں نائلہ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا وہ،کسی صورت وہ اجیہ کے بید پر سے نہیں ہٹ رہی تھی،عجیب ہذیانی سی ہو رہی تھی وہ۔۔۔بس اجیہ اُٹھ جاؤ۔۔۔۔اُٹھ جا۔۔۔چلائے جا رہی تھی۔۔۔،

نازیہ کو بھی اسنے پہچان لیا تھا اور اس سے کچھ کہے بغیر وہ خون نکلوا کر باہر آگیا تھا،

ایسی حالت میں اسکے لیے مسکرانا بہت مشکل تھا مگر شاہد انصاری کی تسلی بھی ضروری تھی سووہ مسکرایا تھا،

”وعلیکم السلام۔۔۔۔مسٹر قاسم۔۔۔“

بولتے ہوئے انکا لہجہ بہت شکستہ لگ رہا تھا،

قاسم کے دل میں پہلے ہی انکے لیے بہت عظمت تھی اور اب ان حالات میں تو یہ سب فطری بات تھی،

”سر آپ تسلی رکھیں۔۔۔انشاء اللہ۔۔۔میڈم اجیہ جلد ہوش میں آ جائینگی۔۔۔۔!!“

حتی المکدور اسنے اپنے لہجے کو تسلی آمیز بنا دیا تھا،

”ہاں انشاء اللہ۔۔۔قاسم آپکا بہت شکریہ۔۔۔اگر آپ بلڈ نہ دیتے تو نہ جانے ہمیں کہاں کہاں بھٹکنا پڑتا۔۔۔۔آپکا احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔!!“

وہ ویسے ہی اداسی سے بولے تھے۔

اور زبردستی مسکراتے انکے جملے قاسم کے دل پر چابک کی طرح لگے تھے۔۔۔۔

اجیہ کا زرد بے جان چہرہ نظروں کے سامنے آیا تھا اور۔۔۔۔اور روتی بلکتی نائلہ کے آنسو۔۔۔۔۔

کیا واقعی میں نے بلڈ دے کر احسان کیا ہے اس معصوم دلکش لڑکی پر۔۔۔

بہت کُچھ اتھل پتھل ہو گیا تھا اسکے اندر۔۔۔۔

”سر آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔۔۔یہ میرا فرض تھا۔۔۔میں نے کوئی احسان نہیں کیا آپ پر۔۔۔آئیند ہ ایسی بات مت کرئیے گا۔۔!!“

وہ سینے میں اُٹھنے والے درد کو برداشت کرتے ہوئے کہتا گیا تھا،

”پھر بھی قاسم۔۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔۔!!“

ہاسپٹل سے باہر آسمان پر نیلاہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی چاند صبح کے طُلوع ہونے پر رخصت ہو رہا تھاتارے مسکراتے مسکراتے غائب ہو گئے تھے فجر کی اذان کا شیریں نغمہ ڈھیروں خدا کے اطاعت گزار لوگوں کو بیدار کر رہا تھا،صبح کی روشنیاں نمایاں ہو رہیں تھیں۔۔۔۔ہوائیں اذان کا نغمہ بہت دور تک لے گئیں تھیں،بہت سارے عاشق آنکھوں کو ملتے ہوئے اُٹھ بیٹھے تھے لیکن اپنے ہر راز دل کو خدا سے کہنے والی اجیہ آج،،تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی،سفید کفن کے سے لباس میں زرد چہرے اور بند آنکھوں پر ڈھکی گھنی پلکوں کے ساتھ وہ اپنے آس پاس سے پوری طرح بے خبر تھی کیونکہ۔۔۔۔۔

بعض اوقات بے خبری بھی تو اچھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

”اچھا سر مجھے اجازت دیجئے میں چلتا ہوں۔۔۔۔جا کر کچھ کھاتا ہوں۔۔!!“

سرمد نے فجر کی اذان کی آواز سن کر کہا تھا،

”اوہ سرمد آپ نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا؟“

شاہد انصاری کو افسوس سا ہوا۔،

”نہیں۔۔۔وہ بس مغرب کے بعد سے ہاسپٹل میں تھا اور آپریش وغیرہ کے چکر میں اور پھر۔۔۔۔۔بس۔۔!!“

وہ سر جھکا کر بولا تھا،

”آپکا بہت شکریہ سرمد اتنی تکلیف اُٹھائی آپ نے۔۔۔۔،میں کس طرح شکریہ ادا کروں آپکا۔۔۔“

وہ دل سے مشکور ہوئے تھے،

”اٹس اوکے سر۔۔۔۔۔!“

وہ سر کو خم کر کے مسکرایا اور پلٹ گیا،

تھوڑا سا آگے جا کر وہ دائیں جانب مڑ گیا تھا،

ان دونوں کے درمیاں کُچھ دیر خاموشی رہی پھر شاہد انصار ی کی آواز نے سناٹا توڑا،

”اچھا قاسم مجھے نماز پڑھنی ہے میں چلتا ہوں۔۔۔“

”اوہ۔۔۔ہاں۔۔مجھے بھی پڑھنی ہے،آئیں ساتھ ہی چلتے ہیں۔۔“

وہ آگے آتے ہوئے بولا جواباََ شاہد انصاری مسکرائے اور پھر وہ دونوں کریڈور میں آگے چلتے گئے،پیچھے ایک بار پھر مہیب سناٹا باقی رہ گیا۔۔۔۔۔

مریضوں کی کراہوں اور سسکیوں سے لبریز ہسپتال کا پر درد ماحول ویسے ہی برقرار تھا۔۔۔۔۔

آسمان نیلا ہوتا گیاتھا،سمند ر کی لہریں واپس اپنی حدود میں چلتی گئیں تھیں روز کی طرح سورج کی نرم گرم شعاؤں کے پھیلتے ہی ہسپتال میں چہل پہل شُروع ہو گئی تھی آئی سی یو کے باہر کوریڈور کا سناٹا کسی حد تک کم ہو گیا تھا،

نماز پڑھنے کے بعد شاہد انصاری وہیں بیٹھ کر قرآن پاک پڑھنے لگے تھے ویسے بھی انہیں اس مقدس ترین کتاب کو کھولنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔مصروف زندگی نے انہیں اپنے رب سے ہی غافل کر دیا تھا کاروباری کاموں کے درمیان انہیں سجدہ کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی تھی لیکن۔۔۔۔آج اجیہ کی حالت انہیں بہت کُچھ باور کروا گئی تھی۔۔۔۔۔۔اور پھر بہت دنوں بعد انہوں نے اللہ کے لیے خالص ہو کر قرآن پاک کھولا تھا،کیونکہ۔۔۔ انسان کو خدا سی وقت یاد آتا ہے جب وہ مشکل میں گرفتار ہو اور مشکل بھی ایسی ہوجو۔۔۔۔۔ …زندگی کی قیمت کا احاطہ کرتی ہو۔

قاسم انہیں وہیں چھوڑ کر کوریڈور میں آ گیا تھا رات بھر کی بے خوابی اور پچھلے پورے دن کی تھکن اب اپنا اثر دکھا رہی تھی اسکے اوپر نیند طاری ہونے لگی تھی،دیوار سے ٹیک لگا کر بار بار بند ہوتی آنکھوں کو کھولتے ہوئے سر کے درد کو برداشت کرتے ہوئے وہ مسلسل ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ناصر کون ہے۔۔۔۔کیا چاہتا ہے۔۔۔۔۔نائلہ نے کل رات جو بتایا تھا وہ سب کس قدر دھماکہ خیز تھا اس وقت اس پر دوبارہ مائیگرین کا شدید اٹیک ہوا تھا۔۔۔دو دن سے وہ اسی بات پر سوچے جا رہا تھا۔۔۔اور وہ ملازمہ۔۔۔جس نے اسکے گھر سے پیپرز چرانے کی کوشش کی تھی۔۔۔وہ ملازمہ ناصر کی دوست تھی۔۔۔۔وہ بہت کُچھ سمجھ چکا تھا۔۔۔۔۔اور پھر اسکے سلگتے دماغ پر نائلہ کی باتوں نے
تیزاب کا کام کیا تھا۔۔۔۔وہ اسی لیے نائلہ پر زندگی میں پہلی بار چلایا تھا۔۔۔اور اس بات پر اسے اب ہمیشہ پچھتاوا رہنا تھا۔۔

(جاری ہے ۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں