جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر46




لیکن ناصر۔۔۔کون ہے۔۔۔۔نائلہ کل رات ناصرکے بارے میں ایک اور بات بتانا چاہتی تھی۔۔۔کون سی بات۔۔۔نائلہ۔۔۔نائلہ۔۔وہ تو رو رہی تھی۔۔۔اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔لیکن اب وہ کہاں ہے ہاں وہ آئی سی یو میں تھی لیکن۔۔۔۔۔اسنے چونک کر سامنے دیکھا،نرسیں آ جا رہیں تھیں،کوریڈور کی دہلیز پر سورج کی کرنیں گر رہیں تھیں۔۔۔شاہد انصاری ابھی تک نماز کے کمرے سے باہر نہیں آئے تھے

اس طرح اچانک سامنے دیکھنے پر اسکے سر کا درد اکسٹریم پر پہنچا تھا خالی خالی نگاہوں سے وہ آس پاس دیکھ کر دوبارہ سیدھا ہو گیا،اسے محسوس ہوا تھا کہ نائلہ آرہی ہے۔۔۔نائلہ کے قدموں کی دھیمی سی چاپ بھی وہ دور سے محسوس کر لیا کرتا تھا،،،،لیکن آج سے وہم ہو گیا تھا نائلہ کہیں نہیں تھی ایک بار پھر اسکی آنکھیں نیند کے اثر کی وجہ سے بند ہوئیں تھیں کہ ایک بار پھر مانوس قدموں کی چاپ سن کر اسنے آنکھیں کھولیں،اب کی بار وہم نہیں تھا سرمد دور سے سرخ آنکھوں کے ساتھ آ راہا تھا ہاتھ میں دو سینڈوچ تھے اسکی چال دیکھ کر لگتا تھا جیسے قدموں کو گھسیٹ رہا ہو۔۔۔۔۔وہ آئی سی یو کے سامنے سے گزرا تھا تبھی ایک نرس شیشے کا دروازہ سرکا کر باہر آئی

سلائیڈنگ ڈور کے سرکتے ہی کسی مریض کے کراہنے کی آواز فضا کو اداس کر گئی تھی،سرمد قریب آ کر قاسم کے برابر میں بیٹھ گیا ایک لمحے کے لیے اسنے سر کو پیچھے کر کے گہری سانس لی تھی پھر قاسم کی طرف سینڈوچ بڑھاتے ہوئے اسنے ہلکے سے گلا کھنکا را،

”سر۔۔لیجئے۔۔۔۔؟؟؟“قاسم نے نیند سے بھاری ہوتی آنکھیں کھولتے ہوئے سرمد کو مسکرا کر دیکھا،

”تم اتنی دیر سے کہاں تھے سرمد۔۔؟؟“کہہ کر اسنے سر کو جھٹکا دیا اور رسٹ واچ کو دیکھ کر گہری سانس لی،سات بج رہے تھے،رات سے صبح ہو گئی تھی۔ایک بجے سے سات بج گئے تھے اجیہ کا آپریشن ہوئے چھ گھنٹے ہو گئے تھے لیکن وہ ابھی تک تاریکی میں تھی،

”سر۔۔۔میں۔۔۔۔وہ نماز پڑھ کر ماما کا فون آ گیا تھا۔۔۔۔اجیہ کا پوچھ رہیں تھیں۔۔۔۔تو۔۔۔۔پھر بس اس لیے۔۔۔۔،وہ بولتے بولتے اٹک سا گیا،

”تمھاری ماما اجیہ کو جانتی ہیں کیا۔۔؟؟“قاسم سیدھا ہوا،

”جی سر وہ۔۔رات کو بتایا تھا نا میں نے ماما کو کہ۔۔۔۔“قاسم نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔،

”اوکے۔۔اوکے۔۔۔!“اسنے آہستگی سے مسکرا کر سرمد کے ہاتھ سے سینڈوچ لے لیا،

”تھینک یو۔۔۔مجھے بھی بھوک لگ رہی تھی!“”جی۔۔۔وہ تو آپ کے چہرے سے لگ رہا ہے۔۔۔میں اسی لیے لے آ یا آپکے لیے بھی۔۔سرمد نے پیچھے ہو کر دیوار سے ٹیک لگا لیا،کل کی رات کتنی لمبی تھی۔۔بلکی ایک لمحہ۔۔۔۔جو گزر رہا تھا صدیوں کے برابر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اور شاید جب تک اجیہ ہوش میں نہ آتی۔۔ہر لمحے نے صدیوں پر ہی محیط ہونا تھا۔۔۔۔

ایک بار پھر اسکی نگاہوں کے سامنے کوریڈور میں ہر طرف قوس قزح کے رنگ چھانے لگے تھےسفید اسکارف میں لپٹا وہ حسین چہرہ ہرطرف مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔اس چہرے سے پھوٹتی وہ نور کی کرنیں۔۔۔۔دلکشی۔۔۔۔

سینڈوچ تھامے اسکا اوپر منہ کی طرف بڑھتا ہاتھ نیچے آ گیا بھوک ایک بار پھر اُڑ گئی وہ سکون جو نماز پڑھ کر اسے محسوس ہو رہاتھا ایک بار پھر کہیں تحلیل ہو گیا اسکے دل کو دوبارہ سفید اسکار ف میں لپٹے اس پیارے چہرے نے مٹھی میں لے لیا تھا آنکھوں میں دوبارہ بے چینی در آئی،اگر اجیہ کو ہوش نہ آیا تو۔۔۔۔۔یہ خیال دوبارہ پھن پھلائے ناگ کی طرح اسکے حواسوں پر چھا گیا تھا،

برابر میں بیٹھا قاسم اسکی نسبت ذراآسودہ سا سینڈوچ کھا رہا تھا لیکن ابھی اسنے سینڈوچ پورا نہیں کیا تھا کہ کوریڈور کے آخری سرے پر آئی سی یو کا سلائیڈنگ ڈور کھلا اور۔۔۔۔۔ایک نرس باہر نکل کر بہت پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی،جیسے ہی اسکی نظر ان دونوں پر پڑی اسنے جیسے سکون کا سانس لیا ہو،وہ اب بھاگتے ہوئے ان دونوں کے قریب آ رہی تھی،

قاسم اور سرمد حیرت بھری پریشانی سے کھڑے ہوئے،دل کو بے قابو ہونے سے روکنے کی کوشش میں ناکام ہو کر اسنے بے اختیار قاسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جواباََ قاسم نے بھی پیچھے ہو کر اپنا ہاتھ سرمد کے سرد ہاتھ پر رکھ دیا تھا،ان دونوں کے ہی ہاتھ سرد ہوئے تھے اور ان دونوں کو ہی تسلی کی ضرورت تھی،نرس قریب آئی تھی اور قاسم آگے بڑھا تھا اور سرمد کے چہرے پر دنیا جہاں کا خوف سمٹ آیا تھا۔۔۔اللہ۔۔۔۔اللہ۔۔۔اجیہ کو کُچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔اجیہ۔۔۔جیا۔۔۔وہ میری زندگی۔۔۔ہے۔۔۔۔د ل یکبارگی بے قابو ہو کر دھڑکنے لگا تھا،

”نائلہ عباس کا کزن کون ہے۔۔۔۔؟؟؟“نرس کی سانس پھول رہی تھی،

”میں ہوں۔۔۔۔کیا ہوا نائلہ کو۔۔۔۔؟؟؟“

”آپ ہیں۔۔۔اچھا میرے ساتھ آئیے پلیز۔۔۔۔!!“نرس گلے میں پڑا ہوا اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی تھی،

”کیوں۔۔۔کہاں آؤں۔۔۔؟؟؟“قاسم نے چہرہ موڑ کر سرمد کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی تھی،آئیے بس،۔۔۔پلیز جلدی۔۔۔۔ہماری ہید اسٹاف راؤنڈ پر آنے والی ہیں۔۔۔۔اور آئی سی یو میں کسی کو بھی مریض کے پاس رکنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔نائلہ عباس اپنے پیشنٹ کے پاس سے کسی طور نہیں ہٹ رہی ہیں مجھے ڈر ہے وہ کہیں پاگل نہ ہو جائیں۔۔۔۔ہم نے بہت کوشش کر لی مگر وہ عجیب طریقے سے ہذیانی ہوئی جا رہی ہیں۔۔۔اور۔۔۔۔نازیہ انصاری۔۔۔انہیں تو سکتہ ہو گیا ہے بھئی۔۔۔۔وہ تو مریضہ کے بیڈ کے پاس سے ہٹ ہی نہیں رہیں ہیں۔۔۔بت بنی مریضہ کے چہرے پر نگاہیں جمائے وہ جانے کب سے وہاں یونہی کھڑی ہیں۔۔۔اب آپ ہی آئیں اور ان دونوں کو کسی بھی طریقے سے وہاں سے نکالیں۔۔ورنہ ہمیں سیکورٹی کو کال کرنا پڑے گا۔۔۔پلیز۔۔۔چلئیے میرے ساتھ۔۔۔۔!“

نرس بات کہتے کہتے مڑ چکی تھی،قاسم پر پوری بات سن کر اطمینان سا طاری ہوا تھا،

”اوہ ہ۔۔۔اوکے چلیئے۔۔۔۔!!“اسنے مڑ کر سرمد سے بیٹھنے کے لیے کہا اور نرس کے ساتھ آگے بڑھ گیا پیچھے سرمد نڈھال سا ہو کر واپس بیٹھ گیا تھا،قاسم نرس کے ہمراہ آگے جا کر آئی سی یو میں چلا گیا تھا،سرمد کے ہاتھ میں سینڈوچ ویسا کا ویسا ہی تھا،اجیہ تم کب ہوش میں آؤ گی۔۔۔سر چکرانے لگا تھا اسکا،نہ چاہتے ہوئے بھی اسنے پلکیں جھپک کر اس چہرے کو نگاہوں کے سامنے سے غائب کرنے کی کوشش کی اور سینڈوچ کھانے لگا،پندرہ منٹ گزر گئے،اسکے ہاتھ میں سینڈوچ کا آخری نوالہ باقی تھا جب آئی سی یو کا سلائیڈنگ ڈور ایک بار پھر سرکا اور قاسم باہر نکلا اسکے پیچھے نائلہ اور نازیہ بھی باہر نکلی تھیں،کس قدر تکلیف دہ تھا اجیہ کو مشینوں کے درمیان بے ہوش دیکھنا اور۔۔اور اسکی بے بسی۔۔۔۔نائلہ سرخ آنکھوں اور اور بھینچے لبوں کے ساتھ بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے آ رہی تھی اور نازیہ۔۔۔۔۔اسکے چہرے سے اسکی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا،وہ قدموں کو گھسیٹتے ہوئے چل رہی تھی،چہرہ بار بار موڑ کر پیچھے دیکھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے سر کا درد۔۔۔ایک دن ہی تو ہوا تھا اسکے برین ٹیومر کی تشخیص ہوئے۔۔۔۔

کسی بھی قسم کا صدمہ اسکے لیے کس حد تک خطر ناک ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور یہ تو اجیہ کو پہنچنے والی تکلیف کا صدمہ تھا وہ تو اجیہ کے وجود پر خراش بھی برداشت نہیں کرتی تھی۔۔اور اب۔۔۔۔۔قاسم سرمد کے قریب آ کر رکا،

سرمد۔۔۔۔میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں نائلہ کے ساتھ۔۔۔آپ نازیہ کا خیال رکھیئے گا انکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔شاہد انصارے نماز کے کمرے میں ہیں۔۔۔۔اوکے۔۔۔؟؟؟“سرمد کھڑا ہوا،

”اوکے سر۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔!!“

”قاسم پلیز۔۔۔مجھے اجیہ کے پاس رہنا ہے۔۔!!“وہ بے بسی بھرے لہجے میں بولی تھی،

”نائلہ تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔تھوڑی دیر جا کر گھر آرام کر لو تو پھر آ جانا۔۔۔!!“

”نہیں نا قاسم۔۔۔اجیہ اکیلی ہے۔۔۔تم نے دیکھا وہ آنکھیں نہیں کھول رہی ہے۔۔۔اسنے کبھی میری بات نہیں ٹالی۔۔۔۔مجھے اس سے لڑنا ہےمیں ناراض ہوں وہ کیوں میری بات نہیں مان رہی ہے۔۔۔قاسم مجھے اسکے پاس  رہنے دو نا۔۔۔!!“نائلہ کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو جمع ہو گئے تھے،

”نائلہ دیکھو۔۔مجھے ایک بات بھی کرنی ہے تم سے۔۔۔اجیہ کے بارے میں۔۔۔تم چاہتی ہو نا اجیہ کا جس نے یہ حال کیا ہے وہ انجام تک پہنچے۔۔۔؟؟“قاسم کی آنکھوں میں نا محسوس سی چمک آ گئی تھی،

”ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔بالکل چاہتی ہوں۔۔۔میری اجیہ کو تکلیف دینے والا عبرت کا نشان بننا چاہیے۔۔“نائلہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے نفرت سمٹ آئی تھی،

”ہاں۔۔۔۔میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔۔تم میرے ساتھ تو آؤ۔۔۔۔!!“اسنے نائلہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا اور نائلہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا اور وہ دونوں راہداری میں آگے بڑھ گئے تھے،سرمد اور نازیہ پیچھے رہ گئے تھے،نازیہ ابھی تک آئی سی یو کو دیکھ رہی تھی ابھی تک ساکت ہوئے اسکے رخساروں پر آنسو پھسل رہے تھے،اسنے نائلہ اور قاسم کی باتوں کو شاید سنا بھی نہیں تھا۔۔سرمد کو بے اختیار اس پر ترس آیا تھا،

”نازیہ۔۔۔۔آپ بیٹھ جائیں پلیز۔۔۔۔!!“وہ آہستگی سے بولا،نازیہ نے چونک کر اسے دیکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے بیٹھ گئی سرمد بھی سینڈوچ کا نوالہ منہ میں ڈالتاہوا بیٹھ گیا تھا۔۔قاسم نائلہ کا ہاتھ تھامے پارکنگ میں چلا آیا تھا،فرنٹ ڈور کا دروازہ کھو ل کر پہلے اسنے نائلہ کو بیٹھنے میں مدد دی اسکے بعد خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا،

”کیا با ت کرنی ہے قاسم۔۔۔؟؟“اسکے بیٹھتے ہی نائلہ نے کہا تھا،

”نائلہ مجھے تمہاری مدد چاہیے۔۔۔دیکھو۔۔۔مجھے ناصر کے بارے میں بہت کُچھ سمجھ میں آنے لگا ہے۔۔۔ٹھیک طرح سے سمجھنے میںمجھے تمہاری ہیلپ چاہیے۔۔۔؟؟“

قاسم دھیمے لہجے میں بول رہا تھا،

”ناصر۔۔۔۔۔وہ ناصر۔۔۔۔۔۔قاسم مجھے یقین ہے اجیہ پر فائرنگ اسی خبیث انسان نے کی ہے۔۔۔۔۔قاسم میں۔۔۔“

وہ اچانک پر جوش ہو گئی تھی جیسے ناصر کو سولی پر لٹکتا دیکھ رہی ہو۔۔،

”نائلہ دیکھو۔۔میری بات سنو۔۔کل رات تم مجھے ناصر کے بارے میں ایک اور بات بتانا چاہتی تھی نا کہ سرمد کی کال آ گئی تھی اور تم بتا نہیں سکی تھی۔۔۔؟؟؟“

اسکا لہجہ سوالیہ تھا،

”نہیں قاسم۔۔تم نے مجھے برا بھلا کہا تھا جسکی وجہ سے میں بتا نہیں سکی تھی۔۔۔!!“

نائلہ کے سامنے کل کے واقعات لہرائے،پہلے سے چھائی کلفت میں مزید اضافہ ہوا تھا،

’ہاں نائلہ میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا اس سب کے لیے لیکن۔۔۔۔۔“

اسنے سر جھٹکا،،

”ابھی ان باتوں کا وقت نہیں ہے تم پلیز مجھے وہ با ت بتاؤ۔۔۔۔!!“

قاسم نے رسٹ واچ پر نظریں دوڑائیں،ساڑھے آٹھ ہو گئے تھے،

”وہ بات۔۔۔!“

نائلہ نے ذہن پر زور دینا چاہااجیہ کا خیال آتے ہی اسے کُچھ ہونے لگتا تھا

”ہاں۔۔۔۔وہ بات۔۔۔قاسم دیکھو۔۔۔۔تم عباس لیدر کمپنی کے ایم ڈی ہو۔۔۔اور اجیہ بھی انصاری گارمنٹ فیکٹریز کی دو وارثوں میں سے ایک ہے تو۔۔۔۔دیکھو ناصر نے پہلے تم دونوں کو ہی ٹارگٹ کیا نا۔۔۔۔تو کیاا س بات کا تعلق۔۔۔۔۔۔

یعنی دونوں کمپنیوں کا تعلق ہو سکتا ہے کیا۔۔۔میرا خیال ہے کہ ناصر کے کاموں کا تعلق تمھاری اور اجیہ والی دونوں کمپنیوں سے ضرور ہے۔۔۔۔دولت حاصل کرنے کے لیے۔۔۔یا جو بھی۔۔۔۔بس یہی بات

تھی۔۔۔!!“

نائلہ نے گہری سانس لی،

اپنے اندر کی اضطرابیت اور بے سکونی کی وجہ سے وہ پوری طرح قاسم کو اپنی بات نہیں سمجھا پائی تھی لیکن۔۔۔۔۔

قاسم نے اسکی بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ لی تھی،جو کُچھ ناصر کے بارے میں اسے پتہ چلا تھا ان تمام سوچوں کو جیسے نائلہ کی بات سے درست رخ مل گیا تھا،حقیقت میں اسے اب سب کُچھ سمجھ آیا تھا۔۔۔

اسکی آنکھیں کسی خیال کے تحت چمکی تھیں اور اس چمک میں انتقام لینے کا جذبہ خوف ناک حد تک نمایاں تھا۔۔۔۔

”نائلہ خدا کی قسم۔۔۔تم مجھے یہ سب نہ بتاتیں تو میں کبھی ناصر کا اصل مقصد نہ سمجھ پاتا۔۔۔۔تم ادھر ہی بیٹھو،۔۔میں ابھی آتا ہوں۔۔۔!!“

نائلہ کی آنکھیں حیرانی سے پھیلی تھیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ کُچھ کہتی قاسم باہر نکل چکا تھا،قاسم باہر نکل کر تیزی سے پارکنگ کے سنسان گوشے کی طرف بڑھا تھا،

ادھر پہنچ کر اسنے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا تھا،لائن جا رہی تھی تبھی اسے اس سنسان گوشے میں اپنے پیچھے اسے آہٹ محسوس ہوئی تھی۔

 مڑ کر اسنے دیکھا کوئی نہیں تھا اپنا وہم سمجھ کر اس نے سر جھٹکا تبھی کال ریسیو کر لی گئی،

”قاسم عباس اسپیکنگ۔۔۔۔!!“رابطہ ملنے پر قاسم نے تیزی سے اپنا تعارف کروایا،

”جی،شکریہ،مجھے ایک شخص کے بارے میں پوری معلومات چاہیئں اسکا بیک گراؤنڈ،کہاں سے آیا ہے۔۔۔۔تعلق کہاں سے ہے۔۔۔ریکارڈ کیسا ہے۔۔۔۔جرائم پیشہ ہے یا نہیں۔۔۔پاکستانی شہری ہے یا نہیں۔۔۔۔سب کُچھ۔۔۔۔!!“

”ہاں ہاں کوئی نہیں ایک دن لگ جائے بس معلومات مکمل ہونی چاہیے۔۔۔۔اسکا نام ناصر اشفاق ہے فون نمبر اور گھر کا ایڈریس ابھی سینڈ کرتا ہوں۔۔۔۔!“

”اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔۔شیور۔۔۔بائے!“

کال کاٹ کر اسنے موبائل کان پر سے ہٹایا تبھی ایک بار پھر قدموں کی چاپ ابھری وہ چونکا لیکن پیچھے کوئی نہیں تھا،ادھر ادھر دیکھ کر اسنے اطمینان کیا پھر آگے بڑھ کر کار کی طرف چلنے لگا،

کا رمیں بیٹھ کر اسنے نائلہ کی طرف دیکھا ایک اور بات اسکے ذہن میں آئی تھی لیکن،

نائلہ سو چکی تھی،سوتے ہوئے بھی اسکے ماتھے کی سلوٹیں برقرار تھیں،بے اختیار مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گئی،وہ جھک کر کار اسٹارٹ کرنے لگا۔

                                                                                                                           (جاری ہے۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں