جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر53




سورج اپنے پورے شباب پر تھا،گرمی روح کو  جھلسا رہی تھی،

سڑک پر ٹریفک نا ہونے کے برابر تھا لیکن قاسم سوچوں میں گھرا پھر بھی کار بہت آہستہ چلا رہا تھا،

ابھی وہ انٹیلی جنس کے ایک اہم افسر سے میٹنگ کر کے آ رہا تھا،وہ ناصر کو ہر قیمت پر نقصان پہنچانا چاہتا تھا،ہر روز اسے ناصر کے بارے میں نئی نئی خبریں مل رہیں تھیں انٹیلی جنس کے بہت سے افسران سے اسکے روابط تھے اور انہی کے توسط سے یہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی،اسے کُچھ معلوم تھا وہ سب اسنے انہیں بتا دیا تھا اور جواب میں یہ انکشاف اسکے لیے دھماکہ خیز تھا کہ فارن ایجنٹ ملک میں موجود ہے اور اسکا ہدف انٹر نیشنل مارکیٹ میں پہنچ جانے والی دو کمپنیا ں ہیں۔۔۔۔۔یعنی اے جی ایف۔۔۔اور اے ایل سی۔۔!!

وہ ابھی کار ڈرائیو کرتے ہوئے اسی کے متعلق سوچ رہا تھا اور کڑیاں ملانے کی کوشش کر رہاتھا کہ اسکا موبائل بجنے لگا،

کار کی رفتار مزید ہلکی کرتے ہوئے اسنے اسکرین کو دیکھا،نائلہ کا نام جگمگا رہا تھا،اسکے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی،

صبح نائلہ کی باتوں پر سوچنے کے بعد دوبارہ اسکے ذہن میں اجیہ کا خیال نہیں آیا تھا اور وہ اس حوالے سے بہت پر سکون تھا،

ویسے ہی مسکراتے ہوئے اسنے کال ریسیو کی،

”کیسی ہو نائلہ۔۔۔؟؟“

اسکا لہجہ بے تحاشا نرم تھا،

”مجھے چھوڑو۔۔۔مجھے ایک بہت ہی اہم اور عجیب سی بات پتہ چلی ہے۔۔۔تم ہاسپٹل آ سکتے ہو۔۔۔۔؟؟“

نائلہ کی سانس پھولی ہوئی تھی،

”کیسی بات نائلہ۔۔۔۔؟؟“

اسکے چہرے پر تفکر پھیلا،

”ابھی نہیں بتا سکتی۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں وہ بات تمھارے بہت کام کی ہے۔۔!!“

وہ بہت تیز تیز بول رہی تھی،

”اوہ۔۔۔تو ابھی بتا دو نا۔۔۔؟؟؟“

”نہیں قاسم۔۔۔اگر ہماری کال کوئی ٹریس کر رہا ہوا تو پھر تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا نا۔۔۔!“

نائلہ کا لہجہ دھیما ہو گیا،

”اچھا ایسی بات ہے۔۔۔اوکے میں آ تا ہوں۔۔۔۔“

اسنے لائن کاٹ دی اور کار کا رُخ ہاسپٹل کی طرف کر دیا،

پندرہ منٹ بعد وہ کار پارک کر کے نائلہ کا نمبر ڈائل کر رہا تھا،

”نائلہ میں پارکنگ میں ہوں۔۔۔۔تم یہیں آ جاؤ۔۔“

”نہیں میں اندر نہیں آ رہا۔۔۔مجھے جلدی ہے۔۔۔“

چند لمحوں بعد نائلہ آتی دکھائی دی،

”چلو لان میں چلتے ہیں،“

وہ دونوں ہاسپٹل کے لان کی طرف بڑھ گئے،درختوں کے نیچے سبز گھاس پر آمنے سامنے بیٹھ کر قاسم نے غور سے نائلہ کو دیکھا،

وہ بہت پر جوش لگ رہی تھی،

”اب بتاؤ۔۔۔؟؟“

وہ نائلہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا اشتیاق سموتے ہوئے بولا،

”بتاتی ہوں۔۔۔لیکن میری بات کے بیچ میں ایک لفظ نہیں بولنا۔۔۔۔سمجھ گئے۔۔؟؟؟؟“

نائلہ نے سنجیدہ بننے کی کوشش کی،

”ہاں سمجھ گیا۔۔۔۔“اسنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے شرارت سے بولا،

نائلہ مسکرائی لیکن پھر سنجیدہ ہو ئی،

”ابھی تھوری دیر پہلے میرے پاس نازیہ کا فون آیا تھا اسنے جو بات بتائی وہ بہت عجیب سی ہے اسکی کوئی کزن ہے صبا۔۔وہ یو اے ای سے یہاں آئی ہے۔۔۔۔صبا کہہ رہی تھی صبا کے شوہر کا نام ناصر ہے۔۔۔۔ناصر اشفاق۔۔۔وہ اپنے شوہر کی تلاش میں یہاں آئی ہوئی ہے۔۔۔میں بہت حیران ہوئی کیوں کہ اجیہ کو رانگ کال کرنے والے کا نامم بھی یہی بالکل یہی ہے۔۔۔۔لیکن یہ حیرانی کی بات نہیں۔۔۔۔نازیہ نے اس دن میری باتیں سن لیں تھیں۔۔۔جب میں تم سے ناصر کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔اس نے بس اسی لیے مجھے یہ بات بتائی۔۔صبا کے کہنے پر اس نے مجھ سے ناصر کی کوئی تصوہر مانگی تھی۔۔تم نے مجھے اس دن جو ناصر کی تصویر دی تھی وہ میں نے اس کو دے دی۔۔اس نے صبا کو جب یہ پکچر دکھائی توجانتے ہو کیا ہوا۔۔۔۔صبا کی حالت پاگلوں جیسی ہو گئی۔۔۔وہ ابھی ہاسپٹل میں ہے۔۔اسکے بقول وہ تصویر اسکے شوہر کی ہے۔۔۔لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔لو یہ تو ممکن ہے کہ صبا کا شوہر یہاں آگیا ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ آجکل جتنے بھی واقعات ہو رہے ہیں وہ سب کے سب کسی ناصر نامی شخص سے جا کر مربوط ہو جاتے ہیں۔۔کیا ہم اسے اتفاق کہہ سکتے ہیں۔۔۔یا۔۔۔۔“

وہ بولتے بولتے خاموش ہو کر کُچھ سوچنے لگی پھر قاسم کی طرف دیکھا،

”قاسم کیا ان میں سے کوئی بھی بات تمھاری مد د کر سکتی ہے۔۔؟؟“

قاسم کی آنکھوں میں مدھم سی چمک آ گئی تھی،

”ناصر کون سے ملک کا ہے۔۔۔صبا والا۔۔۔“

وہ بے خیالی میں کہہ گیا،

”یو اے ای سے یہاں آیا تھا وہ۔۔“

یو اے ای۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے ذہن میں ذرد بلب جل بجھ کرنے لگا میٹنگ میں انٹیلی جنس کے اس افسر کی وہ بات ذہن میں روشن ہو گئی،

”آپ کے تعاون کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔اس فارن ایجنٹ کا تعلق یو اے ای سے ہے۔۔۔۔!!“

اب کی بار ذہن میں جھماکا ہو اتھا بہت ساری بکھری ہوئی کڑیاں آپس میں مل گئیں تھیں،

وہ تیزی سے کھڑا  ہوا،

”نائلہ تمھارا بہت شکریہ۔۔۔۔تم نہ ہوتیں تو میں کبھی بھی مقصد کی تہہ تک نہ پہنچ پاتا“

وہ نائلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوا پارکنگ کی طرف بڑھنے لگا لیکن پھر رک کر مڑا،

”نائلہ۔۔۔۔مجھے ابھی اسی وقت جانا ہو گا۔۔وقت بہت کم ہے۔۔۔تم اجیہ کے پاس جاؤ۔۔شاہد انکل سے کہنا شام کے وقت ان سے ملنے آؤنگا۔۔بہت ضروری کام ہے۔۔۔ٹھیک۔۔؟؟“

نائلہ کی آنکھیں پریشانی سے پھیلی تھیں۔۔۔۔،

”ٹھیک ہے احتیاط کرنا خدا حافظ۔۔!!!“

”خدا حاٖفظ“

وہ مسکرا کر پلٹ گیا اور نائلہ سر جھکا کر دھیمے قدموں سے چلتے اندر کی طرف بڑھ گئی،

اسکے جانے کے بعد درخت کے پیچھے سے ایک شخص باہر آیاتھا،اسی درخت کے پیچھے سے جس کے نیچے وہ گھاس پر بیٹھے تھے،

اسنے دھوپ کی وجہ سے چندھیاتی آنکھوں کے اوپر ہاتھ رکھتے ہوئے نائلہ کو جاتے دیکھا اور موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا،

”جی۔۔۔سر۔۔۔؟؟“

”جی۔۔۔جی۔۔۔میں نے ان دونوں کی باتیں سنی ہیں۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے اندازے سے زیادہ بہت زیادہ جانتے ہیں۔۔۔۔انہیں باس کے یو اے ای سے تعلق کا علم ہو گیا ہے۔۔۔!!“

’’ارے میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔یہ قاسم عباس ضرورت سے زیادہ عقلمند ہے۔۔۔ابھی تفصیل کا وقت نہیں۔۔۔لیکن حالات تیزی سے ہمارے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔!!“

”ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔اوکے۔۔۔بائے!!“

اسنے لائن کاٹ کر ادھر ادھر دیکھا اور درخت کے پیچھے غائب ہو گیا۔۔!!“

٭٭٭

شام کا ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا مغرب کی اذان ہو چکی تھی اور پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ گئے تھے،

شاہد انصاری ریسپشن ایریا کی راہداری میں ٹہل رہے تھے انکے ماتھے پر تفکرانہ لکیریں پھیلیں تھیں،صوفے پر بیٹھا قاسم انہیں خاموشی سے ادھر سے ادھر ٹہلتا دیکھ رہا تھا،

ہاسپٹل میں ملاقاتیوں کا رش مغرب کے بعد بڑھ جاتا تھا اور ابھی بھی وہ برابر آ جا رہے تھے لیکن انکا شور اس راہداری تک بہت کم آ رہا تھا،

قاسم اور شاہد انصاری کے درمیان پچھلے چند منٹوں سے گہری خاموشی چھائی تھی،

وہ ایک گھنٹے پہلے ہی ہاسپٹل پہنچا تھا اور آتے ہی شاہد انصاری کے ساتھ یہاں آ گیا تھا اور اسکے بعد پون گھنٹہ لگا تھا شاہد انصاری کو اپنی بات سمجھانے میں۔۔۔۔۔

شُروع سے لے کر آخر تک اسنے شاہد انصاری کو ہر بات بتائی تھی،

اجیہ کے حادثے سے بات شُروع کر کے وہ پہلے اپنے اور نائلہ کیا سکینڈل تک آیا تھا،اس کال کے بارے میں بھی اسنے انہیں بتایا تھا جس کو اسکینڈل بنانے کی دھمکی دے کر اس سے اجیہ کا نمبر مانگا تھا۔۔۔۔۔اجیہ کو آنے والی رانگ کال تک پہنچ کر وہ صبا کے شوہر والی بات کی طرف مڑ گیا تھا۔۔۔۔پھر نازیہ کے منگیتر کے بارے میں بتاتے بتاتے اسنے نائلہ کو آنے والی کال کے بارے میں بتایا،وہی کال جو اسے کینٹین میں آئی تھی اور جس کی وجہ سے ناصر کی مہارت سے کی جانے والی سازش اسی پر الٹی ہونے والی تھی۔۔۔۔اپنی اور شاہد انصاری کے درمیان ہونے والے اس چھوٹے سے معاہدے کے بارے میں بات شُروع کر کے اسنے کاغذات کے غائب ہونے کے بارے میں بتایا تھا اور یہ کہ وہ ملازمہ جس نے یہ کاغذات غائب کیے وہ ناصر کی دوست تھی اور اسے کسی شخص نے یہ کام کرنے کو کہا تھا۔۔۔۔۔۔ناصر کا عجیب طریقے سے اسکا دوست بننے کی کہانی شُروع کر کے وہ کلب جانے والی بات بھی بتا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

غرض کہ اسنے پون گھنٹے میں شاہد انصاری کے سامنے سارا کچا چٹھا کھول دیا تھا۔۔۔۔اور یہ سب بتانے کے بعد آخر میں اسنے کہا تھا۔۔۔،

”شاہد انکل۔۔انٹیلی جنس ناصر کی تلاش میں ہے۔۔۔۔ان کے مطابق وہ فارن ایجینٹ ہے اور یہ سارے کام اسنے منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے ہیں اور انکاہدف اے جی ایف اور اے ایل سی کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے اب وہ اپنے ان کاموں کے ذریعے ہمیں تباہی کی طرف کیسے دھکیلے گا۔۔۔آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔۔شاہد انکل۔۔۔انکا مقصد یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہماری بڑھتی ترقی کو روک دینگے۔۔۔یہ بلا واسطہ ملک کی معیشت پر حملہ ہے۔۔۔بہر حال یہ سب انٹیلی جینس والوں کا خیال ہے۔۔۔لیکن میں بھی اس کے بارے میں جتنا سوچ سکتا ہے اتنا ہی میرے ذہن میں ییہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سب دونوں کمپنیوں کے مابین دشمنی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔اگر ہمارے درمیان اتحاد ہوتا تو شاید اجیہ کے ساتھ اتنا برا نہ ہوتا۔۔۔۔!!“

یہاں تک کہہ کر وہ چند لمحوں کے لیے رکا تھا اور شاہد انصاری کے چہرے پر اپنی بات کااثر ڈھونڈنا چاہ رہا تھا،

”شاہد انکل۔۔۔۔میں پہلے بھی اس دشمنی اور راستے الگ کرنے پر مطمئن نہیں تھا اور اب تو میں بالکل بھی اسکے حق میں نہیں ہوں۔۔۔۔

دیکھئے سرمد میری کمپنی میں ہے میرا اسسٹنٹ ہے سرمد اور اجیہ کی منگنی ہو چکی ہے۔۔۔۔اگر  ہم اس بات سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں تو ہمیں ضرور اُٹھانا چاہیے۔۔۔نائلہ اور اجیہ ایک دوسرے کی ایس دوستیں ہیں کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکتی ہیں۔۔۔وہ آج سے پہلے چھپ چھپ کر ملتی تھیں تو صرف اس وجہ سے کہ دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کی مخالف تھیں۔۔۔۔

شاہد انکل۔۔۔میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں میں اے ایل سی کے ایم ڈی ہونے کے ناطے چاہتا ہوں کہ دونوں کمپنیاں ایک ہو جائییں۔۔۔اتحاد ہو جائے۔۔۔اس طرح دشمن کی سازش کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے اور آپ اپنی بیٹی کا بدلہ بھی لے سکتے ہیں۔۔۔انکل اگر یہ دونوں کمپنیاں ایک ہو جائیں تو ہم عالمی مارکیٹ میں اپنے ملک کی نمائیندگی کرنے والی واحد کمپنی بن جائیں گے۔۔انکل۔۔۔اس طرح ہم ملک کو وہ فائدہ دے سکتے ہیں جو اکیلے کام کر کے نہیں دے سکتے۔۔شاہد انکل۔۔۔ان تما م واقعات کے بعد پورے خلوص سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ میری تمام باتوں پر غور کریں۔۔۔۔۔!!“

وہ خاموش ہو کر گہری سانس لینے لگا بولتے بولتے وہ تھک گیا تھا،

شاہد انصاری پوری توجہ سے اسکی ابت سن رہے تھے ان کے چہرے پر تناؤ بکھر گیا،

چند لمحوں بعد وہ دوبارہ گویا ہوا،

”آپ ان باتوں کو مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں آ پکا تجربہ مجھ سے زیادہ ہے۔۔۔۔انکل۔۔اگر آپ میری بات سمجھ سکیں اور اتحاد کے لیے راضی ہو جائیں تو میں کل ہی با ضابطہ لیٹر بھجوانے کے لیے تیا رہوں۔۔۔۔!!“

شاہد انصاری اسکی آخری بات پر مسکرائے تھے اور اوپر اُٹھ کر ٹہلنے لگے تھے اور پھر،

اسکے بعد سے دس منٹ ہو گئے تھے وہ مسلسل گہری سوچ میں سر جھکائے ٹہل رہے تھے،

بالآخر قاسم نے ہی کھنکا ر کر ماحول کا سناٹا توڑا،

”انکل۔۔۔۔۔میری ان تمام باتوں کے بعد آپکا کیا ارادہ ہے۔۔۔؟؟“

وہ بات کرتے ہوئے بالکل اے ایل سی کا ایم ڈی لگ رہا تھا،

ایک با وقار اور ذمہ دار شخص۔۔۔

شاہد انصاری ٹہلتے ٹہلتے رکے اور مڑ کر اسے دیکھا،

ان کی نگاہوں میں نرمی تھی،

وہ مسکراتے ہوئے اسکے برابر میں آ کر بیٹھے،

”قاسم بیٹا۔۔۔۔۔کسی زمانے میں مجھے کسی نے بتایا تھا کہ عباس لیدر کمپنی کا ایم ڈی بہت عقلمند شخص ہے اور اپنی کمپنی کو ہمارے مد مقابل لانے میں اسکے دن رات کی محنت شامل ہے تب میں نے بتانے والے سے پوچھا تھا کہ اس عقلمند کی عمر کتنی ہے اور عمر سن کر میں نے اس بات کو مذاق میں اُڑا دیا تھا۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔

میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔۔۔۔لیکن اب۔۔۔!!!“

وہ مسکرائے،

”اب مجھے یقین ہو گیا ہے اے ایل سی کا ایم ڈی ایک علقلمند شخص ہے!!“

وہ ہلکا سا ہنسے،

”پچھلے دنوں جو واقعات بھی ہوئے اس دوران میں تمھارے اور نائلہ کے خلوص سے حقیقتاََ متاثر ہوا تھا جس طرح نائلہ نے میرا اور نازیہ کا خیال رکھا۔۔۔۔جس طرح تم بلڈ ڈونیٹ کرنے کے لیے بھاگے باگے آتے تھے۔۔

سرمد کو جس طرح میرا خیال کر کے لیو دے دی تھی اگر سچ پوچھو تو ان دنوں میں جب کبھی سوچنے لگتا تو ایک پچھتاوا سا گھیر لیتا۔۔۔۔کہ کیوں ہمارے درمیان دشمنی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی۔۔۔

قاسم،۔۔۔۔تم نے جو اتنی بڑی تقریر کی اسکی ضرورت نہیں تھی بیٹا۔۔۔۔۔میں حالات کے رُخ کو پہچانتا ہوں۔۔اور اب میں تم سے شرمندہ ہوں۔۔۔اتحاد کی بات کرنے میں پہل تو مجھے کرنی چاہییے تھی۔۔۔بہر حال باضابطہ طور پر لیٹر میری کمپنی کی طرف سے بھیجا جائے گا اگر تم اجازت دو تو۔۔؟؟“

وہ مسکراتے ہوئے بات کرتے کرتے خاموش ہوئے اور سوالیہ تاثر سے قاسم کو دیکھا۔۔

”ارے انکل۔۔۔!!“

کیسی بات کر رہے ہیں۔۔۔میری اجازت کیسی۔۔۔آپ خود مختار ہیں۔۔۔جو بہتر سمجھیے وہ کریئے!!!“

قاسم بہت رسان سے بولا تھا،شاہد انصاری کی مسکراہٹ گہری ہوئی،

”ٹھیک ہے۔۔۔۔میں دو تین دن بعد میٹنگ بلاتا ہوں۔۔۔اور سب لوگوں کو اعتماد میں لے کر لیٹر جاری کرنے کے احکامات دوں گا۔۔۔اجیہ ٹھیک ہو جائے اور نازیہ کے بھی ٹیومر کے نارے میں ڈاکٹروقعی فیصلہ کر لیں کہ اسکا برین آپریٹ کرنا چاہیے یا نہیں۔۔۔

اسکے بعد میڈیا کے سامنے ہم باضابطہ طور پر معاہدے پر دستخط کر دینگے۔۔۔!!“شاہد انصاری نے بات ختم کر کے قاسم کی طرف تائیدی انداز سے دیکھا،وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا رہا تھا،پھر نجانے اسکے دل میں کیا آیا،

ذرا سا آگے آ کر اسنے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا،شاہد انصاری نے ہنستے ہوئے اسے گلے لگا لیا

”تمھارا بہت شکریہ۔۔۔۔!!“چند لمحے وہ یونہی کھڑے رہے۔۔۔

”قاسم۔۔۔؟؟؟“نائلہ کی آواز پر قاسم چونک کر شاہد انصاری سے الگ ہوا،

”تم دو گھنٹوں سے ہاسپٹل آئے ہوئے ہو اور مجھے بتانے کی زحمت ہی نہیں کی۔۔۔۔“وہ راہداری کی دہلیز ہر ہاتھ سینے پر ٹکا کر کھڑی تھی۔۔۔۔

”نہیں۔۔۔۔وہ۔۔۔۔“قاسم ہکلا سا گیا۔،شاہد انصاری بے ساختہ ہنسنے لگے،

”چلو بھئی۔۔۔۔تم دونوں اب جھگڑا کر لو۔۔۔میں اجیہ کے پاس جاتاہوں۔۔۔!“

وہ ہنستے ہوئے باہر نکل گئے اور قاسم نے ڈرے ڈرے سے انداز میں نائلہ کو دیکھا وہ مسکراتے ہوئے اسکے قریب چلی آئی۔عشاء کی اذان میں فضا میں نغمہ کی مانند پھیلتی جا رہی تھی۔۔۔۔رات تاریک ہو گئی تھی۔۔۔۔تارے جگمگا رہے تھے۔۔۔چاند کی روشنی آج بہت ذیادہ جھلملا رہی تھی!

٭٭٭

(جاری ہے۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں