اور میرا درس !!!! – زبیر منصوری




درس حدیث شروع ہوا ……! میں نے شرکاء سے کہا ، آئیے ، آج اپنے لئے ُپر تعیش ترین زندگی کا خاکہ بناتے ہیں ، سوچتے جائیں کیا کیا چاہیے ؟ وہ سب بھی جو کہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا یا جس کے بارے میں کسی سے سنا یا پھر دل کی گہرائیوں یا خیال کی بلندیوں میں جسے سوچا میں اسے بورڈ پر لکھتا جاتا ہوں ………….

بس پھر کیا تھا نوجوانوں کے تو مزے آ گئے خیال کے گھوڑے دوڑے تو نہ جانے کہاں کہاں جا پہنچے سوئٹزر لینڈ میں ایسی حسین بیوی کے ساتھ ایسا ایسا گھر اور ایسے بچے ایسی گاڑی ایسا کاروبار اتنا روپیہ اور اور اور اور ۔۔۔۔۔ بورڈ بھر گیا دوسرا بورڈ لایا گیا . پھر ہم نے ان خواہشات کی جزئیات پر بات کی تو دل مچل مچل اٹھے . آخر گھنٹے بھر بعد سب نے ہاتھ اٹھا لئے . بولے ………….. بس ختم ! سب کچھ کہہ دیا اب کچھ اور نہیں …………. ذرا سا بھی نہیں ………… بالکل نہیں
میں نے مسکرا کر مارکر ٹیبل پر رکھا آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے قریب آیا . کلاس کی گہری خاموشی کو اپنی کھنکھار سے توڑا اور بولا

میرے پیارو ! آقا ص فرما گئے ہیں ! جنت وہ جگہ ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے اس کی تعریف نہیں سنی حتی کہ کسی دل میں اس کا خیال تک نہیں آیا (او کما قال) تمہاری یہ تمام تر خواہشات کی لسٹ جہاں ختم ہوتی ہے میرے رب کی جنت وہاں سے تو شروع ہوتی ہے اور پھر نہ ختم ہونے والی انتہاوں تک جاتی ہے ۔۔۔ تو پھر کیوں نہ زندگی کے یہ چند برس اللہ کے نام کر کے اس سے ہمیشہ ہمیشہ کی جنت لے لیں ؟

میرا درس حدیث ختم ہو چکا تھا!!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں