بچہ کیسے سیکھتا ہے – ہمایوں مجاہد تارڑ




آپ آٹھ دس لوگوں کا ایک گروہ ہیں۔ اُس میں ایک شخص باہر سے آ گیا، کسی دوسرے شہر یا ملک سے۔ یہ اجنبی / نان گروپ ممبر کچھ عرصہ آپ کی وَیلیوز اور سٹَینڈرڈز یعنی آپ کی قدروں اور معیارات کو دیکھ دیکھ کرپیروی کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ اِس ماحول میں کیا باتیں، اشیا اور رویے اہم ہیں، اُنہیں کس طور انجام دینا زیادہ تر قابلِ قبول ہے، اور اِس بنا پر وہ شخص بتدریج آپ کے رنگ میں رنگ جائے گا۔

یُوٹیوب پر ایک خاتون بتا رہی تھیں کہ اگر آپ یوروپی ملک فِن لینڈ میں ہیں تو یہاں کسی تقریب یا پروگرام میں تاخیر سے پہنچنے کو بے حد odd لِیا جاتا ہے۔ عین وقت پر پہنچنے یا ایک منٹ کی تاخیر کو بھی قہر آلود یا ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ گویا کالی بھیڑ بن جاتے ہیں جو سب میں اجنبی دِکھے گی۔ اِس لئے تاخیر سے پہنچنے کا چلن یہاں قطعی اجنبی ہے۔ اِسے یہاں سخت مائنڈ کِیا جاتا ہے۔ اِسی طرح، سُنا ہے سنگاپور میں چیونگم چبا کر ٹریش کین سے باہر پھینک دینے پر 500 سنگاپورین ڈالر جرمانہ ہے (کسی گواہ یا ویڈیو کلپ وغیرہ کیصورت ثابت ہوجانے پر)۔دیکھا جائے تو دو تین برس کا بچہ ـــ جو قدرے بول سکتا، چل پھر سکتا، گردوپیش میں برپا چھوٹے بڑے واقعات کو مشاہدہ کر کے اُن پر ردّ عمل دے سکتا ہے ـــ بھی آپ کے خاندان میں ایسا ہی ایک نان گروپ ممبر ہوتا ہے ـــ

ایک اجنبی جو آپ کی دنیا کی اقدار اور آپ کے معیارات کو جان لینے کی جستجو میں ہوتا ہے، خود کو ایڈجسٹ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ھوتا ہے۔ اس ابتدائی مرحلے کو سوشیالوجی کی زبان میں anticipatory socialization کہتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے آپس میں تعامل / سوشل انٹرایکشن پر مبنی ایک ایسا پراسیس جس میں ایک نان گروپ ممبر کسی ایسے گروپ کے طرزِ عمل، اُس کی اقدار اور معیارات کو سیکھ لے جسے وہ جوائن کرنا چاہتا ہے تا کہ اُس گروہ میں شمولیت کی اجازت پا کر وہ ممبرز کیساتھ روزمرّہ زندگی کی معاملت میں کامیاب/قابلِ قبول رویے اپنا لینے کے قابل ہو جائے۔ یعنی اِس مرحلہ پر ایک بچہ اِرد گرد کے ماحول کی بنیادی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے ـــ اگر آپ بچوں والے ہیں تو آپ نے خود بھی نوٹ کیا ہو گا ـــ کہ اِس ابتدائی مرحلے میں بچہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظوں کی بجائے آپ کی حرکات وسکنات پر زیادہ فوکس کرتا اور ان کو اپنا لیتا ہے۔ ایسے بچے کے سامنے آپ آیک لاکھ جملے بولیں، لیکچرز جھاڑیں، اُس کا معصوم ذہن جس شے کو قبولتا ہے وہ آپ کا رویہ ہے، آپ کا طرزِ عمل، آپ کی حرکات۔ یہ جو دو تین لفظ متواتر بولے جاتے ہیں، جیسے ambiance یعنی ماحول، اور behaviour یا treatment یعنی برتاؤ یا سلوک، یہ بچے کی زندگی میں اہم ترین ہیں۔اب آپ عمل، طرزِ عمل، ردّعمل، برتاؤ، سلوک، حسنِ سلوک ایسے لفظوں کو تین زاویوں سے دیکھ ڈالیں:

اوّل، بچہ نے خود کچھ کِیا، اُس پر دیا آپ کا ردّ عمل۔
اِسے وہ برق رفتاری سے اپنے اندر جذب کرتا ہے، اور خوب گہرائی تک ــــ چونکہ یہ بچے کا ذاتی تجربہ personal experience ہے۔

دوم، جب آپ نے خود بچے کی طرف رجوع کیا، یعنی کوئی حکم دینے، پیار کرنے، یا کسی بھی مقصد سے رجوع۔
اِسے بھی وہ برق رفتاری سے اپنے اندر جذب کرتا ہے، اور خوب گہرائی تک ــــ چونکہ یہ بچے کا ذاتی تجربہ یعنی personal experience ہے۔

سوم، جو کچھ آپ نے دوسروں کے ساتھ برتا،

جیسے گھر میں یا ٹیلی فون پر کسی سے بات چیت، گھر کے چھوٹے موٹے کام، یا دورانِ ڈرائیونگ ٹریفک سگنل کیساتھ آپ کا “برتاؤ” وغیرہ ۔۔۔۔۔ مشاہدہ۔

بچہ یہ سب انداز، الفاظ کا چناؤ، لب و لہجہ کے زیرو بم، بدن بولی وغیرہ اسی طور اپنا لیتا ہے ۔۔۔ اشتعال، طنز و تضحیک، چیخنا چِلّانا یا دھیما پن اور تحمل۔

اپنا تبصرہ بھیجیں