ڈرامہ انڈسٹری اور بے راہ روی – کرن وسیم




یو این وومن اور کشف فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ڈرامہ سیریل “دل ناامید تو نہیں” ٹی وی ون سے نشر ہورہا ہے.. اس میں جو فحش موضوعات پر ڈرامہ سازی کی گئی ہے معاشرے میں ایسی برائی بہت کم تناسب میں ہوگی مگر میڈیا کو اس قسم کے کردار دکھانے سے کیا ملتا ہے.. ڈرامے میں انتہائی واہیات ڈائیلاگز, نامناسب لباس, شراب نوشی اور فحش طرز زندگی دکھانے سے کون سی اصلاح کرنا چاہتے ہیں یہ این جی او اور یونائیٹڈ نیشن وومن کے کرتا دھرتا.. نجانے نئی نسل کو کس اندھے کنوئیں میں دھکیل رہے ہیں میڈیا اور پروڈکشن ہاؤسز .. جس برائی کو ہمارے گھروں میں موضوع گفتگو بھی نہ بنایا جاتا ہو اسے ڈرامے کی صورت گھر گھر پہنچانے سے کیا مقصد حاصل ہوگا… بجائے یہ کہ حکومتی سطح پر ان برائیوں کو روکا جائے.. میڈیا اسکو عام لوگوں تک پھیلارہا ہے..

یقیناََ اس بات سے انکار نہیں کہ چائلڈ ایب یوز, ہیومن ٹریفیکنگ اور جسم فروشی جیسے غلیظ جرائم دنیا میں ہو رہے ہیں.. تو انکا سدباب کرنے کیلیئے بااختیار اہلِ اقتدار اور قانون نافذ کرنے کے ذمہ داران کو مؤثر کاروائی کرنا ضروری امر ہے یا ٹی وی ڈراموں کے ذریعے ان فحش موضوعات کو ہر عام فرد کے گھر اور فیملی تک پہنچانا اس جرم کو ختم کرےگا؟؟؟

اس ڈرامے کیلیئے بجٹ فراہم کرنے والے, اس موضوع کو دکھا دکھا کر کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں.. یہ ہر عام پاکستانی بخوبی سمجھ رہا ہے.. بے راہ روی کو دکھا دکھا کر ہر فرد کیلئے اسے قابل قبول بنایا جاتا ہے .. ہر گناہ اور فحش برائی پر ہی ڈراموں کے موضوعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ میڈیا والوں کو معاشرے کو سدھارنے سے زیادہ غیر ملکی فنڈنگ اور نام نہاد این جی اوز کا مفاد عزیز ہے … افسوس کا مقام ہے کہ کمرشلائزیشن نے ہماری پاکیزہ اقدار نگلنا شروع کردی ہیں..

میری تمام بااختیار لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر دل میں ذرہ برابر بھی آخرت کی جوابدہی کا احساس ہو تو براہ مہربانی اس ڈرامے کو روکنے میں اپنے اختیارات استعمال کریں.. صرف ٹی وی بند کر دینے کا لوگوں کو مشورہ نہ دیا جائے. برائی کی تشہیر کو بھی روکا جائے..

اپنا تبصرہ بھیجیں