خاندان،قدرت کا ماسٹر پیس – سحرش کنول




خاندان دنیا کا سب سے پہلا معاشرتی ادارہ ہے، دنیا کو وجود میں لانے کے بعد آدم اور حوا کی تشکیل کا سبب خاندان کی بنیاد رکھنا ہی تو تھا کیونکہ ایک خوبصورت معاشرتی زندگی کے لیے قدرت کا یہ سب سے حسین اور ضروری فارمولا ہے۔ قدرت کے وضع کردہ اس فارمولے میں ردوبدل معاشرتی ارتقاء میں بھیانک تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

اگر خاندان کو قدرت کا ماسٹر پیس کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ جب بھی کسی معاشرے میں تباہی پھیلتی ہے تو اس کی ابتداء خاندان سے ہی ہوتی ہے اگر معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو خاندان کو تباہ کردینے سے معاشرہ خود برباد ہو جاتا ہے۔ آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ عورت اور مرد میں تصادم کی فضا پیدا کی جارہی ہے، عورت کو زبردستی مرد کا مدِمقابل بنایا جارہا ہے حالانکہ قدرت نے دونوں کو الگ الگ مقام دیا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو روزِ اوّل سے مرد کے ذمہ دنیا کی دیگر مشقتیں ہیں جبکہ قدرت نے عورت کو اپنی سب سے قیمتی اور اشرف مخلوق کی پیدائش و پرورش کا ذمہ دار بنایا۔ عورت پر اتنی بھاری ذمہ داری کی وجہ سے ہی اسے معاش کی ذمّہ داری سے بری الذمہ کر دیا گیا۔ تاکہ کائنات کی افضل ترین مخلوق کی بہترین تربیت ہو سکے اور بہترین معاشرہ وجود میں آئے۔

اسی ضرورت کے تحت عورت کی فطرت شرافت، وفا، تحمل، نزاکت، صبر و استقامت جیسے مکمل احساسات کے ساتھ ڈیزائن کی گئی۔ لیکن اگر اسے دنیا کے سخت اور تند و تیز ماحول میں برابری کے نام پر پھینک دیا جائے گا تو یہ اس کی فطرت اور معاشرے کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا کیونکہ اس کے نتیجے میں عورت کی فطرت میں بھی بدل جائےگی اور اس تبدیلی کا اصل اثر انسان کی تربیت کے عمل پر نمایاں نظر آئے گا۔۔۔ بلکہ آرہا ہے کہ وہ معاشرہ جسے قدرت کے طے کردہ قانون کے سایہ میں چلنا چاہیے تھا وہ اپنے مدار سے ہٹنا شروع ہو چکا ہے۔ جو کہ بہت خطرناک عمل ہے۔ عورت کو باحیا و باحجاب رہنے کا حکم باقاعدہ عورت کے فطری تقاضوں کے تناظر میں دیا گیا ہے یہ محض پوشیدہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے پیچھے قدرت کا پورا معاشرتی فارمولا موجود ہے جو بہترین معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ دنیا کی مزدوری اور معاش کی فراہمی مرد کا کام ہے۔

لیکن اگر ایک عورت گھر بھی سنبھالے پھر مرد کے شانہ بشانہ پیسہ کمانے کے لیے دنیاوی دوڑ میں بھی دوڑے تو معاف کیجیے گا یہ آزادی نہیں بلکہ ہتھکڑیاں ہیں جو مغربی معاشرہ اپنی خواتین کے بعد اب ہماری خواتین کو بھی پہنا رہا ہے۔ یہ آزادی نہیں بلکہ یہ دنیا کے اس سرمایہ دار اور بزنس کلاس طبقہ کی وہ چالاکی ہے جس سے وہ پوری دنیا پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ وہ پورے معاشرتی نظام کو اپنے مقاصد کے لیے Re-design کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا سب سے خاص ہدف خاندان اور اس کی عورت ہے۔ پہلے انہوں نے مغرب کا خاندانی نظام تباہ کیا۔ آج ہم ان کی حالت دیکھ سکتے ہیں۔ سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا آج وہ لوگ مالی طور پر تو کافی مستحکم ہیں مگر معاشرتی حالت انتہائی قابلِ افسوس ہے، وہاں کی عورت بہت “آزاد” ہے مگر ایک مزدور سے زیادہ کچھ نہیں۔ جبکہ ہمارے یہاں معاشی تنگی ہے مگر عورت ابھی بھی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے روپ میں باعزت ہے۔

اسی لیے ان پالیسی میکرز کی نظریں اب ہمارے معاشرتی نظام کو تباہ کرنے پر جمی ہوئی ہیں۔ جو نعرہ دو بچے خوشحال گھرانہ سے شروع ہوا تھا آج میرا جسم میری مرضی تک آگیا ہے اور یقیناً ان کی خواہش اس سے مزید زیادہ ہے۔ ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس خطرناک کھیل کو اپنے معاشرے میں پروان نہ چڑھنے دیں۔ اس کا واحد حل قرآن و سنت کے احکامات پر مکمل عمل پیرا ہو کر اپنے خاندان اور اس سے تعلق کو مضبوط کرنے میں ہے۔ کسی بھی صورت میں ہم اپنی نئی نسل کی غلط ری پروگرامنگ ہونے نہیں دے سکتے ورنہ ہمارا معاشرہ بھی مغربی معاشرے کی طرح ذہنی طور پر مفلوج ہو کر انسان کی پروڈکشن سے زیادہ مزدوروں کی پیداوار بڑھانے کی مشین بن کر رہ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں