رحمت – مدیحہ صدیقی




وہ وقت نہیں بھولتا ،وہ منظر تصور کے سامنے سے نہیں ہٹتا . وہ معصوم چیخیں اور آہیں سماعتوں سے ٹکراتی رہتی ہیں ………. کیا کہا ہوگا اس نے ،کیسی پتھرائی آنکھوں سے دیکھا ہوگا اسکے ننھے ذہن نے کیا سوچا ہوگا”

بابا ،بابا یہ مٹی کیوں ڈال رہے ہیں ،یہ تو میرے ریشم جیسے بالوں پر آرہی ہے بابا یہ میری آنکھوں میں جارہی ہے بابا مجھے سانس نہیں آرہی ایک اس ہوگی اسے ایک امید تو ہوگی شاید یہ ڈراؤنا خواب ختم ہو جائے بابا مجھے گودی میں لے لیں یا شاید وحشت کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسوں بھی نہ نکلے ہوں ،وہ ننھا وجود جو پیار بھرے لمس اور وہ معصوم گال جو شفقت بھرے بوسے کے حقدار تھے جیتے جی مٹی میں دبا دیئے گئے کتنی ہی دیر وہ ننھی انگلیاں مٹی سے لڑی ہوں گی . میں سوچنا چاہوں تو میرا دل انکار کردیا ہے میرا دماغ ساکت ہوجاتا ہے میں خیال یوں جھٹک دیتی ہوں جیسے کوئی دہشت ناک بات کسی ذندہ انسان کر زمین میں دبادینا اور اگر ننھا بچہ ہو بے بس سا سوچیں شل ہوجاتی ہیں بس کیا گزری ہوگی اور وہ ایک نہیں تھی ،

بیٹی عرب کے دور جاہلیت میں ذلت کا استعارہ ،کتنی ہی جانیں ژندہ زمیں کے اندر اتار دی گئی ہوں گی . پھر وہیں سے ایک ہستی بیٹی کے لیئے سہارا بن گئی جس کے سینے میں بیٹی کے لیئے رحمت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم بیٹیاں آپ سے بہت محبت کرتی ہیں، بہت بہت زیادہ آپ نے بیٹی سے کتنی محبت کی کتنا اکرام دیا . آج جب میں اپنے آس پاس باپ کو بیٹیوں پر جان نثار کرتی دیکھتی ہوں اور ننھی بچیوں کو باپ کی گودوں میں شرارتیں کرتی دیکھتی ہوں تو میرا دل خوشی کی ناقابل بیان کیفیت سے بھر جاتا ہے . کیسے سخت دل، اسلام نے موم کیئے، محبت کے چشمے جاری کردئیے ،کتنی بڑی تبدیلی کیسے پتھر سینے میں ہوا کرتے تھے اپنے جگر کا ٹکڑا گڑھے میں ڈال دینا کس قدر شقی القلبی ہوگی

باپ ایسے بھی ہوسکتا ہے جہالت ایسے بھی اندھا کردیتی ہے بے شک جہالت اندھا ہی تو کردیتی ہےکہ ہم بھول گئے اسلام کے احسان کو ،،رب کی مہربانی کو رب کی رحمت کو ایک جہالت وہ تھی اور ایک جہالت آج ہےاب ہم کیا چاہتے ہیں. مرضی،آذادی ،اسی اسلام سے آذادی اسی اسلام کے احکامات سے آزادی اسی اسلام کے حصار سے آذادی جس نے پناہ دی،زندگی دی . رسول اللہ نے عورت کو عفت،عزت و اکرام کا تاج پہنا دیا اس سے حسن سلوک کو جہنم سے آڑ کردیا لیکن ہمیں تو دین بار محسوس ہونے رہا …. آج امت کی بیٹی بھٹک گئی وہ شیطان کا آلہ کار بن گئین. کس نے اسےکٹھ پتلی بنالیا. کیا ہورہا ہے کیسے کھلونا بن گئی کیسے نمائش کی حقیر شے ہو گئی کس نے فریب دیا کس نے سبز باغ دکھائے ،اور کچھ نہیں ہوا اپنا مقام و مرتبہ کھودیا . لیکن اگر عورت کے لیئے امان ہے تو آج بھی صرف اسلام میں ہے . ہمیں اپنی بنیادوں سے جڑے رہنا ہوگا . حقیقت یہ ہے عورت مسلمان عورت بن کر ہی محفوظ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں