وقت – ابن فاضل




باپ بیٹے سے کہہ رہا تھا.. “بیٹا ابھی پیسے نہیں ہیں کچھ دن ٹھہر جاؤ.. میں لے دوں گا سائیکل اپنے بیٹے کو” . وقت دولت ہے. مبصر نے کہا،” محمد حفیظ کی انگلی شدید زخمی ہیں. ایک ہفتہ تک صحتیاب ہونگے تو کھیل سکیں گے.” وقت صحت ہے. ماں نے بیٹے کو تسلی دی.. بیٹا ابھی تو دوا لی ہے ابھی کچھ وقت لگے گا اثر ہونے میں، پھر ہی درد کم ہوگا…

وقت تاثیر ہے. دوست نے دوست سے کہا.. “تم بہت ذہنی دباؤ میں ہو میری مانو تو کچھ دن کیلیے مری چلے جاؤ. ذہن تازہ ہوجائے گا.”وقت آسودگی ہے. ” بیچارے کا باپ اچانک فوت ہوگیا. زخم ابھی تازہ ہے. کچھ وقت گذرے گا سنبھل جائے گا.” وقت مرہم ہے. “ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے. کچھ وقت تو دو میں سوچتا ہوں کچھ..” وقت سلجھن ہے. یہ کیسا بے ذائقہ سا آم ہے.. بھئی ابھی تو مصالحہ لگا کر رکھا ہے.. ایک دو دن میں دیکھنا شہد جیسا میٹھا ہوگا. وقت چاشنی ہے. کیا حال کیا ہے لکڑی کا. تمہیں تو ٹھیک سے رندہ لگانا بھی نہیں آتا. سر ابھی کچھ عرصہ ہوا کام سیکھنا شروع کیا ہے تھوڑے عرصہ میں سیکھ جاؤں گا.. وقت مہارت ہے. وقت کیا نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ وقت ہی سب کچھ ہے. اب سوچیں ذرا جب ہم کسی کا وقت ضائع کرتے ہیں تو کیسا ظلم ڈھاتے ہیں.

جب استاد جماعت میں نہیں آتے. جب مریض گھنٹوں ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہتے ہیں. جب افسران خوش گپیوں کی ‘میٹنگ’ میں ہوتے ہیں اور سائلین غلام گردشوں میں خوار ہورہے ہوتے ہیں. جب مظلومین، حصول انصاف کے سالوں کچہریوں کے چکر لگاتے ہیں، جب کسی گاہک کو وقت مقررہ پر مطلوبہ شے نہیں دی جاتی اور کچھ دن بعد آنے کا کہا جاتا ہے.

جب ہماری غلط پارکنگ، کسی مظلوم کو تادیر انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں، جب دکان سے باہر اشیاء رکھ کر لوگوں کے سفر کو کئی گنا بڑھادیتے ہیں تو تھوڑا وقت نکال کر سوچیں کہ ہم کتنا مقروض ہورہے ہیں. اور قرض تو شہید کو بھی معاف نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں