عالمی یوم خواتین اور ہم خواتین – افشاں مراد




صبح سویرے آ نکھ کھلی اور موبائل پر ہماری نظر پڑی تو تاریخ دیکھ کر یہ خیال آ یا کہ اوہو آ ج تو ہمارا دن ہے جی یہ چاہا کہ یا ہو!کا نعرہ لگائیں اور بستر سے چھلانگ لگا کر اتریں ۔ہم نے سوچ لیا کہ آ ج ہمارا عالمی دن ہے تو بس آ ج کچھ نہیں کرنا بس آ رام کرنا ہے۔یہ سوچتے ہی میاں جی کو جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔اجی سنتے ہیں،اگر آج ناشتہ کرنا ہے نا تو باہر سے لے آ ئیے گا۔

میاں جو پہلے ہی جھنجھوڑے جانے پر حواس باختہ تھے اس افتاد کا سن کر مزید ہونق ہو گئے۔۔۔کیا کہہ رہی ہو بھئ!یہ صبح اٹھتے ہی خرچے کی باتیں شروع کر دیں۔خدا کو مانو کیوں ننھی سی جان پر ظلم ڈھا رہی ہو۔۔۔۔بس میں نے کہہ دیا آ ج ناشتہ کیا،کھانا بھی یا تو باہر سے آئے گا یا آ ج آ پ میری دعوت کر دیں۔۔۔مگر کس خوشی میں یہ بھی تو بتاؤ کیا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو تمہاری دعوت کروں میں؟ارے آ پ کو نہیں پتہ کہ آ ج ہمارا عالمی دن ہے۔اس دن عورت کے حقوق کے لیے بڑی بڑی تنظیمیں میدان میں آ جاتی ہیں۔آپ کیا ان سب سے ٹکر لیں گے۔۔۔۔ارے جاؤ جاؤ کیا خواتین کا عالمی دن اور کیا ان کی تنظیمیں۔۔۔۔جاواور جلدی سے زبردست سا لچھے دار پراٹھا اور بہترین سا آ ملیٹ بنا لاؤ۔۔۔۔کیا مطلب ہے آ پ کا ،یعنی ہمارے دن کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

ہم کو آ رام کرنے کا کوئی حق نہیں؟ہم نے منہ بسور کر کہا کہ شاید میاں کو ترس آ جائے۔ لیکن نہیں جناب۔۔وہ تو تولیہ کندھے پر ڈال کر باتھ روم سدھار گئے اور ہم شرافت کے سارے عالمی ریکارڈ توڑتے ہوئے کچن میں آ گئے۔ناشتہ کرتے ہوئے ہمارے میاں جی کہنے لگے بیگم دعا کرنا کہ آ پ کی ماسی کو آ ج کے دن کا پتہ نہ چلے۔ورنہ کہیں وہ بھی چھٹی کر گئی نا تو آ پ کا عالمی دن آ ج یوم سوگ بن جائے گا۔ارے اللہ نہ کرے ،کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ماسیوں کا کون سا عالمی دن۔۔۔کیوں وہ عورت نہیں ہے کیا….میاں نے مسکرا کر ہمیں چڑایا۔اچھا بھئ معاف کریں اور آ پ تو جائیں اپنے آ فس۔۔ لیکن ہم یہ سوچنے لگے کہ برسوں سے یہ عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن کیا خواتین کی حالت میں کوئی تبدیلی آ ئی۔

ہمیں تو اب صورتحال زیادہ بدترین لگتی ہے۔ان کے معاشی حالات میں تو تھوڑی بہت تبدیلی ضرور آ ئی ہے لیکن مجموعی صورتحال اور خوفناک ہو گئ ہے۔جس طرح عورتوں میں ڈپریشن،اور ذہنی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔جس طرح جنسی استحصال بڑھ رہا ہے،جس طرح نہ صرف خواتین بلکہ ننھی ننھی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ عورت کی عزت میں اضافہ تو نہیں اس کی عزت کو پامال ضرور کیا جارہا ہے۔گھر کی عورت کو نوکری کے سبز باغ دکھا کر جس طرح پھر اس کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے وہ بھی ایک علیحدہ ہی عنوان ہے۔میڈیا پر عورت کو جیسے دو کوڑی کا کر دیا گیا ہے اس کو بکاؤ مال بنا دیا گیا ہے،اس نے تو تمام خواتین کا سر جھکا دیا ہے۔

اس وقت کی عورت اپنے آ پ کو بہت ماڈرن ،بہت مضبوط،بہت محفوظ، بہت آ زاد تصور کرتی ہے لیکن جتنے زیادہ زیادتی، خود کشی،اور ہراسمنٹ کے کیسز ابھی سامنے آ رہے ہیں ہمارا نہیں خیال کہ وہ عورت کو کہیں سے بھی مضبوط اور محفوظ ظاہر کرتے ہیں۔اگر ہم اپنی ان خواتین کو دیکھیں جو ہمارے اسلاف کے زمانے میں تھیں تو ان سے زیادہ بہادر،ان سے زیادہ،مضبوط اور ان سے زیادہ محفوظ تو کوئی عورت نہ تھی،وہ خواتین جو اپنے مردوں کے جہاد پر جانے کے بعد مہینوں،سالوں نہ صرف اپنی عزتوں کی حفاظت کرتی تھیں بلکہ اپنے بچوں کی بہترین پرورش بھی کرتی تھیں،جوکہ تیر اندازی،تلوار بازی،گھڑ سواری،شوہر کے دل کی رانی۔۔اور ہر وہ کام کر سکتی تھیں جو آ ج کی سو کالڈ ماڈرن عورت سوچ بھی نہیں سکتی۔

اپنی طرف اٹھنے والی گندی نظروں کو وہ نوچ کے پھینک دیتی تھیں اپنی طرف بڑھتے ہاتھوں کو وہ کاٹ ڈالتی تھیں کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ ان خواتین پر میلی نگاہ ڈال سکے۔اور اسی تناظر میں آ ج کی عورت کو دیکھیں تو ان کو کیا چاہیے کہ میں کھانا گرم کیوں کروں؟تمہارا موزہ میں کیوں ڈھونڈوں،یا اپنی پوشیدہ باتوں کو پلے کارڈ پر چپکا کر یا مردوں کی طرح ٹانگیں کھول کر بیٹھنے کو وہ آ زادی نسواں سمجھتی ہیں۔عورت کو گھر سے بے گھر کر کے طلاق کو بڑھاوا دے کر وہ عورتوں کی نہ جانے کون سی خدمت کر رہی ہیں۔ہم تو آ ج بھی اپنے ہر کام کے لیے اپنے شوہر،اپنے بھائ،اپنے ابا یا اپنے بیٹے پر بھروسہ کر کے بے فکر ہو جاتے ہیں۔ مقابلہ بازی کر کے ہم فطرت سے کیسے جنگ کر سکتے ہیں؟

عورت اور مرد کے بغیر یہ دنیا کیسے چل سکتی ہے۔ہاں ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ عورت مضبوط ہو محفوظ ہو لیکن آ ج کی طرح نہیں بلکہ پرانی عورتوں کی طرح۔جو اپنے اوپر میلی نگاہ ڈالنے والے کی آ نکھیں نوچ لے یا اپنی طرف بڑھنے والے ہوس زدہ مردوں کو ایسا سبق سکھائے کہ آ ئندہ وہ کسی کی بھی بہں،بیٹی،بیوی یا ماں کو رسوا نہ کر سکے۔ہمیں مضبوط عورت چاہیے لیکن اپنے خاندان کے سائے میں ہمیں محفوظ و مامون عورت چاہیے لیکن اپنے مرد کے تحفظ میں۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں