رشتے نازک اور قیمتی – شگفتہ بھٹی




جب سے اس نے اپنی عمر کے سترہویں برس میں قدم رکھا تھا اور کچھ خوبصورت سے خواب اس کی آنکھوں کے راستے دل پر دستک دینے اور اس کی جواں ہوتی دھڑکنوں کو گدگدانے لگے تھے تب سے وہ سوچنے لگی تھی کہ اسے بیاہنے کوئی خوبرو شہزادہ آئے گا اور پھر وہ اسکے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جب اور جہاں چاہے گی گھومے گی اپنی مرضی سے اپنے اس گھر میں حکومت کریگی،

جہاں اس کے ساتھ اس کے جیون ساتھی کے سوا کوئی نہیں ہوگا وہ اپنے اور اپنے شوہر کے درمیان کسی اور کو برداشت نہیں کریگی۔ انہی خوابوں اور خیالات کے ساتھ آخر وہ دن آ ہی گیا جب وہ سرخ جوڑے میں دلہن بنی اپنا میکہ چھوڑ پیاجی کے گھر کی چوکھٹ پر کھڑی تھی ۔ مگر یہ کیا یہاں تو اور بھی بہت سے لوگ تھے اسکی نندوں نے اسے بڑے چاو لاڈ سے لاکر گھر کے لاؤنج میں بٹھا دیا اور پھر اسکے گرد بہت سے لوگ تھے اور ہنسی کی آوازیں تھیں سب اسے تحفے دے رہے تھے پیار اور شرارت سے چھیڑ رہے تھے یہاں تک تو سب اسے اچھا لگ رہا تھا مگر جب عجلہءعروسی میں آتے ہی اسکے شوہر نے محبت کے دو بول بولنے کے بعد اسے یہ کہا کہ ” رملہ!! میں امید کرتا ہوں تم میرے ساتھ ساتھ میرے والدین سے بھی محبت کروگی،

اور انکی خدمت اپنے والدین سمجھ کر ہی کروگی تو اسکی آنکھوں میں پلتے برسوں پرانے سارے خواب ریزہ ریزہ ہوگئے ہوں اس کے خوبصورت خیالات کامحل دھڑام سے گرا اور اسے لگا اسکے اور اسکے پیاجی کے بیچ میں تو پورے دو وجود پہلے سے موجود ہیں ۔ وہ تڑپ اٹھی اب کیا ہوگا ؟؟ ساس سسر کی خدمت اس کا فرض ہے نہ ذمہ داری پھر اس پر زبردستی مسلط کیوں کی جائے ۔ اس کے دل نے کہا نہیں نہیں تم اس کی پابند نہیں ہو لہذا پریشآن مت ہو بس تم اپنے شوہر سے محبت کرکے اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا باقی سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ اس نے اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے چند ہی دنوں میں اپنے میاں جی کو اپنا گرویدہ کرلیا شروع کے چند روز شوہر کے سامنے ساس سسر کے چند کام کرکے انھیں بھی خوش رکھا پھر وہ انکی طرف سے لاپرواہی برتنے لگی،

اور اپنے ناروا سلوک پر نہ صرف اپنے شوہر بلکہ نندوں اور دوسرے سسرالی رشتہ داروں کو بھی بعض علمائے دین کے لیکچرز میں سے حوالے نکال کر کہنے لگی کہ اسلام میں بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض نہیں ہے نہ ہی ان کے ساتھ عمر بھر رہنے کا کوئی حکم موجود ہے انکی خدمت کے لئے انکا بیٹا یعنی اسکا شوہر چاہے تو ملازم رکھے یا وہ خود انکا خیال رکھے اسے جب یہ فرض اسلام نے نہیں سونپا تو وہ کسی کی جواب دہ نہیں ہے ۔ بیچارے تمام سسرالی رشتہ داروں سمیت شریف شوہر نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور یوں بوڑھے ہوتے بیمار کمزور اور لاچار ساس سسر کی طرف سے اس نے بالکل ہی اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ اب وہ ایک آزاد خود مختار اور آرام دہ زندگی بسر کررہی تھی ۔ ایک دن اس کی امی کا فون آیا اور انھوں نے بتایا کہ اسکے ابو کو دل کاشدید دورہ پڑا ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں ۔

رملہ روتی ہوئی پریشآن حالت میں وہاں پہنچی تو اس کے ابو کی حالت تشویشناک تھی رملہ کا دل تڑپ رہا تھا آنکھیں برس رہی تھیں اس سے انکی یہ حالت برداشت نہیں ہورہی تھی ڈاکٹر باربار کہہ رہے تھے انھیں کسی ذہنی دباؤ اور صدمے کی وجہ سے یہ اٹیک ہوا ہے ۔میرے ابو کو کس صدمے نے آئی سی یو تک پہنچایا وہ یہ جاننے کے لئے اپنی امی کے پاس آرہی تھی مگر اسکے قدم اپنی بھابی کی تیز آواز سن کر کمرے کے باہر ہی رک گئے وہ اپنی ساس یعنی رملہ کی ماں سے اسکے بھائی ( اپنے شوہر) کے سامنے ٹھیک وہی دلائل دہراتے ہوئے کہہ رہی تھی “جاوید!! آپکے والدین کی جدت مجھ پر فرض نہیں ہے تو آپ کیوں مجھے زبردستی اس پر مجبور کرتے ہیں اب میں ان کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی آپ یاتو میرے ساتھ الگ گھر میں چل کر رہیں یا پھر مجھے طلاق دے کر آزاد کردیں ”

رملہ کے کانوں میں جیسے ابلتا ہوا لاوا بھابی نے انڈیل دیا تھا مگر یہ خیالات یہی الفاظ اسی طلاق والی دھمکی کے ساتھ وہ بھی اپنے شوہر کو دے کر اپنے ساس سسر سے الگ ہوچکی تھی اسے لگا اسی کے الفاظ نشتر بنکر اسکے دل کو کاٹ گئے ہوں وہ چکراکر دیوار سے لگ گئ اس کی امی روتے ہوئے اپنی دور جدید کی تعلیم یافتہ بہو کو سمجھارہی تھیں دیکھو بہو!! بھلے دین اسلام نے بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض نہیں کی مگر ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین تو کی ہے اور پھر جو دین ایک پڑوسی کے حقوق رشتہ داروں کے برابر بیان کرے اور جس دین اسلام کو دنیا میں اپنے عمل سے بتانے سمجھانے اور سکھانے والے ہمارے آخری نبی پیارےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم خود پر روزانہ کوڑا پھینکنے والی خاتون کی بیماری میں انکی خدمت کرنے اسکے گھر جاتے ہوں اس میں بوڑھے ساس سسرکو بےبس اور تنہا چھوڑنے کا حکم کیسے ہو سکتا ہے؟

امی کے الفاظ رملہ کے جہرے پر طمانچوں کی طرح پڑرہے تھے ۔اس نے دیکھا اسکی بھابی بھی خاموشی سے کھڑی کچھ سوچ رہی تھیں رملہ ہمت کرکے اندر گئی اس نے اپنی ماں کو شکائتی نظروں سے دیکھ کر کہا”امی جان!! کاش آپ نے مجھے سسرال رخصت کرنے سے پہلے یہ باتیں سمجھائی ہوتیں ۔ وہ شرمندگی سے نظریں جھکا کر بولیں ” سچ کہتی ہو رملہ یہ درس ہم مائیں اگر اپنی بیٹیوں کو انکی شادی سے پہلے سمجھانے لگیں تو تمہاری اور صائمہ جیسی خودغرض سوچ والی بہوئیں اپنے سسرالی گھروں کا سکون برباد نہ کریں کاش تم دونوں جیسی آجکی آزاد سوچ رکھنے والی بہوئیں اپنے ساس سسر کا جمال یہ سوچکر ہی رکھنے لگ جائیں کہ اس سے انکے شوہر کتنے خوش اور مطمئن ہونگے اور انکو خوش رکھنے پر اللہ ان سے کتنا راضی ہوگا ۔رملہ کو اپنی خودغرضی اور غلطی کا احساس ہوگیا تھا وہ جلدی سے اپنے گھر جانے کو پلٹی وہاں اس کے سسر بھی تو بیماری اور تنہائی کا صدمہ کاٹ رہے تھے ۔

صائمہ کی آواز نے اس کے قدم ایک بار پھر روک لئے وہ کہہ رہی تھی رملہ!! کاش ہم بھابیاں کبھی یہ بھی سوچیں کہ ہم کسی کی نندوں بھی تو ہیں وہ نندوں جو اپنے والدین کے لئے لازم یہی سوچتی ہے کہ اس کی بھابی اس کے والدین کی ضرور خدمت کرے ۔ رملہ کی شرمندگی میں ڈوبی آواز آئی جی بھابی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں پھر وہ رکے بنا وہاں سے چلی گئی اور صائمہ نے آگے بڑھ کر اپنی ساس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا جلدی چلیں آنٹی! جاوید ہسپتال میں انکل کے پاس اکیلے پریشان ہورہے ہونگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں