دو سائے – بنت سعید رفیق




“یہ سمندر بس پانی کا جم غفیر نہیں ہے بلکہ یہ تو قدرت کی نشانیوں میں سے ہے” شامی نا صرف ساحل سمندر کے قریب ہورہا تھا بلکہ اپنے ساتھ چلتی مریم پر اپنے خیالات بھی افشاں کر رہا تھا۔۔۔ شادی سے پہلے تو مریم کو یہ سب فلسفہ لگتا تھا لیکن مزاجی خدا دلفریب لفظوں کا احاطہ اپنے اور اس کے گرد بچھاتے کہ لفظ حقیقت بیانی کرتے ہوئے ماحول کو پر مسرت سا کر دیتے تھے۔۔

آج بھی تازہ ہوا کی غرض سے شامی اپنی شریک حیات مریم کو ساحل سمندر کی طرف لے آیا تھا۔۔ساحل کے کناروں کو مریم کے پیروں نے ابھی ٹھیک سے چھوا بھی نہیں تھا اور شامی نے قدرت کی نشانیوں کو باآور کرنا شروع کردیا تھا۔۔”ھمممم۔۔بالکل ٹھیک کہا آپ نے”مریم نے شامی کی تائید کی تھی ۔۔ اسی فرمانبردای نے شامی کو گویا حکام بالا سے اسپیکر میں بولنے کی اجازت مل گئی تھی۔۔ شامی نے بولنا شروع کیا ۔۔ “کبھی تم نے غورکیا رب کائنات کی ملکیت یہ سمندر اپنی حد کو توڑتا ہوا،کنارے کو چھوتا ہوا اس دنیا کو اپنی موجوں میں کیوں نہیں لپیٹتا ۔۔۔؟” شامی نے سمندر کو دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اس نے پیچھے رخ کرتے ایک نظر دھند میں دور سے نظر آتے بستی کے گھروں ک چھت پر نظر ڈالی تھی۔۔

“مریم ! یہ تو بس اپنی موجوں میں موجیں مارتا ہوا ٹھاٹھیں مارتا ہوا شور لیے اپنی ہی دھن میں مگن ہے” اسے چپ دیکھ کر شامی نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔دونوں ٹھہلتے ہوئے نم ریت پر چلتے گئے۔۔۔ شامی مسلسل اپنے خیالات سے مریم کو روشناس کروارہا تھا۔۔وہ مسکراتے ہوئے سنے جا رہی تھی۔۔۔ہلکی ٹھنڈی ہوا سے ان کے لباس پھڑپھڑا رہے تھے۔۔موجیں مارتے سمندر کی بڑی لہروں نے دونوں کے ساتھ اٹھکیلیاں شروع کر دی۔۔وہ پلٹ پلٹ کر آتیں اور ان کے پیروں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔۔” “سبحان اللّٰہ “۔۔شامی کے منہ سے بے اختیار نکلا تو مریم نے بھی شامی کے آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پرمسرت ہوکر الحمداللہ کے الفاظ ادا کیے۔۔ شامی مریم کے اس کلمے پر مسکرا دیا تھا۔وہ جانتا تھا ایسے موقع پر مریم کے الحمداللہ کہنے کی تشریح یہی ہے کہ آپ کے ساتھ سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہے ۔

“مریم! پتہ ہے اللہ ہمارا حاکم جو ہے نا وہ ایک بہت زبردست قانون رکھنے والا ہے ۔۔”شامی نے مریم سے تھوڑا قریب ہوتے ہوئے دوبارہ گفتگو کو رواں کیا تھا۔ “آؤ تمھیں اس کے قانون کی ایک جھلک دکھاؤں ” شامی کو جیسے یک دم کوئی خیال آ وارد ہوا تھا اور وہ لمحے کی تاخیر کیے بغیر مریم کا ہاتھ پکڑ کر کچھ قدم کنارے سے آگے پانی کی طرف چل دیا تھا۔ مریم بھی بے ساختہ شامی کے ساتھ سائے کی طرح چل پڑی تھی۔۔ چند ہی قدم ساحل سے کوچ کر کے وہ دونوں سمندر کی گود میں آ گئے تھے۔ اب دونوں آدھا وجود پانی میں لیے کھڑے تھے ۔۔ “دیکھو مریم ۔۔” پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ شامی نے مریم کو گویا حکم صادر کیا تھا۔ مریم نے یکایک چونک کر پہلی نظر شامی پر ڈالی اور دوسری کو سمندر کی نظر کیا تھا ۔بغور دیکھنے کے باوجود مریم کچھ نا دیکھ سکی تھی ۔

شامی مریم کو بھانپ گیا تھا کہ وہ تدبر نہیں کر پا رہی۔ اس سے پہلے کہ وہ خالی نظروں سے اپنا مدع شامی کو بتاتی ،شامی نے خود ہی بیانی شروع کی۔۔”سنیے اہلیہ محمد شامی ۔۔” مریم انداز تخاطب پر بے اختیار مسکرا کر رہ گئی۔۔ “جی سرتاج. فرمائیے ۔۔۔”مریم نے بھی شامی کے ہاتھ کی انگلیوں میں خود کی انگلیوں کو قید کرتے ہوۓ گویا سماعت کا احاطہ باندھ دیاتھا.
“یہ جو دو ساۓ ہیں یہ کس تہہ پے ہیں ؟ مریم محو حیرت سے پانی پر ڈولتے ہوۓ دو سائیوں کو دیکھتی رہ گئی جو ان دونوں کا ہی عکس تھے پانی پر۔ مریم نے جھٹ سے جواب دیا تھا۔ “جی بلکل” ۔۔ “ماشاءاللہ” مریم کے جواب پر شامی نے اس کا حوصلہ بڑھایا تھا۔ “دیکھو! دو ساۓ مسلسل پانی کی سطح پرمنڈلا رہے ہیں. کتنی ہی لہروں نے ان کو چھوا ہی نہیں ہے بلکہ ان پر سے گزر بھی گئیں ہیں۔

لیکن جب تک ہم اس جگہ سے کوچ نہیں کرجاتے ہم یہاں ساکن ہیں۔اور یہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ ساکن ہیں بھلے پانی کی موجیں ان کا توازن برقرار نہیں رکھ پارہی ہوں۔۔۔ اور دیکھو وہ سورج آب و تاب سے چمک رہا ہے نا ؟ مریم نے فورا نگاہوں سے سورج کا نشانہ باندھا۔ جو واقعی روشن منور جگمگارہا تھا ۔پانی میں کھڑے ہونے کی بناء پر احساس ہی نہیں ہوا تھا دھوپ کا۔۔ سورج کی کرنیں بھی ان سائیوں کو مسلسل چھیڑ چھاڑ کی تگ و دو میں تھیں۔۔ “غور کرو کبھی ایک دم یہ ہمارے سائے اچک لیتی ہیں. اللّٰہ کا قانون ہے کہ ہر چیز اس کے تابع ہے اور وہ اسی کے حکم کی بجا آوری کر رہی ہے۔” “ہمممم۔۔۔مریم نے گویا شامی کو اشارہ دیا تھا کہ میں بغور سن رہی آپ بس بولتے رہیں۔۔ “مریم ۔۔۔۔! شامی نے مریم کو مخاطب کیا تھا ۔۔
“ہم دونوں کون ہیں؟”

مریم شامی کے اس اچھنبے سے سوال پر لمحے بھر کے لیے تو سانس لینا بھی بھول گئی ۔۔ زرا سی دیر کے لیے بھی شامی مریم کو اس سوال پر پریشان نا دیکھ سکا اور پھر خود سے ہی جواب دینا شروع کیا۔۔ “دیکھو مریم اس اچھنبے سے سوال کا جواب ہم دونوں کو ہی معلوم ہے بلکہ تم تو مجھے کئی بار یہ بات بآور کروا چکی ہو کہ ہم ایک دوسرے کے لباس ہیں۔ مطلب تم اس تعلق کو اچھے سے سمجھتی ہو” “الحمداللہ۔۔ایسا ہی ہے۔۔”مریم نے جواب دیا. آھممم۔۔۔شامی نے گلہ کنکھارتے ہوئے کہنا شروع کیا “آج میں تمہیں کچھ کہنا چاہتا ہوں یا یوں سمجھ لو کہ بتانا چاہتا ہوں ۔۔” “جی۔۔۔؟ مریم نے صراحی نما گردن کو زرا سا آگے کیا. مریم ہمہ تن گوش مکمل سماعت کے ساتھ شامی کو سننا چاہتی تھی ۔

“ان سائیوں کو دیکھوں .انہیں نا صرف سمندر کی موجیں مارتی ہوئی لہروں نے پریشان کیا نا گول سورج کی ٹکیہ کی بھیجی گئیں لاکھ کرنوں نے بلکہ ان سائیوں نے ہمارے وجود کو بھی سہا بھلے ہماری گفتگو ان کے ساۓ میں ہوتی رہی، ساحل پر کھڑے ہر شخص کی نگاہوں کو بھی، ہر لہر ان کے ساتھ اٹھکلیاں کرتی رہی پر یہ چپ سادھے متواتر گویا ایک دوسرے کا سایہ بنے رہے اور ساتھ رہے۔۔ ساحل سمندر پے کھڑا کوئی عاشق غم بھلانے کے واسطے کوئی پتھر بھی اپنی پرزور طاقت کے ساتھ ان پر مارتا تو یہ تب بھی استقامت دکھاتے بھلے وہ کنکر اپنا مرکز انکی جبیں بناتا یا رخسار ۔۔ مریم ان سائیوں کو کوئی چیز الگ نہیں کرسکتی سواۓ اسکے کہ ( تمھارے پاس سے “میں” یا میرے پاس سے “تم” ) کہیں چلے جائیں۔” شامی کی باتوں کا مفہوم مریم کے دل میں رقم ہورہا تھا۔۔

“مریم ہماری زندگی میں کوئی ٹھاٹھے مارتا ہوا طوفان آۓ یا کوئی چھوٹا سا کنکر ۔۔ہمیں خود کو طوفان کی ہر لہر اور کنکر کی ہر چوٹ سے بچانا ہے۔ ہمارے درمیان کوئی خلا نا ہو جسے کوئی بے ضرر چیز پر کرجاۓ اور ہمیں پتا بھی نا چل سکے ۔۔” شامی نے مریم کی انگلیوں سے خود کی انگلیوں کو آزاد کرواکے دونوں ہاتھوں سے مریم کے وجود کو کندھوں کے ذریعے سے تھاما تھا۔ “ہمیں وہ سایہ بننا ہے کہ لوگوں کے لیے ہم مثلِ سایہ ہوں.”

پروقار انداز سے مریم نے جملہ مکمل کیا تو یک دم شامی کے زباں سے الحمداللہ نکلا ۔۔اور اب کی بار خدا کی تعریف خدا کے اس بندے نے اکیلے ہی نہیں کی تھی۔ ساتھ سمندر کی ہر ہر لہر سورج کی ہر ہر کرن، ساحل سمندر پے سیر و تفریح کرتے وجود کے ہر ہر سایہ نے سمندر کے اوپر اور سمندر کے اندر مخلوق خدا بھی گویا قدرت کا قانون یک دم قدرت کی تعریف میں بکثرت ذکر رہا تھا۔۔ “الحمداللّٰہ الحمداللّٰہ الحمداللّٰہ”

اپنا تبصرہ بھیجیں