کرنٹ – ابن فاضل




ستر کی دہائی میں جو استری عام طور پر گھروں میں استعمال ہوتی تھی اس میں گرم کرنے کیلئے جو حرارتی عنصر ( heating element ) استعمال ہوتا تھا وہ ابرق پر نائیکروم کی تار لپیٹ کر بنایا جاتا تھا. چھ یا سات برس کی عمر میں ایک ٹوٹا ہوا ایلیمنٹ کہیں سے ہمارے ہاتھ لگ گیا. ہم نے ایلیمنٹ کی تار پر برقی عوامل کا ‘فرسٹ ہینڈ نالج’ حاصل کرنے کیلئے ایک دو پن ساکٹ پلگ کے ساتھ اسے جوڑا اور بجلی کے ساکٹ میں لگانے کی کوشش کی.

ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ ہم زمین پر تھے. ایلیمنٹ کی ننگی تاروں کو چھونے کی وجہ سے بجلی کا زوردار جھٹکا لگا تھا. سر اس قدر زور سے زمین سے ٹکرایا تھا فی الواقع آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا. حواس بحال ہونے میں کافی وقت لگا. ننھے ذہن نے سارے معاملے کا بغور جائزہ لیا. معلوم ہوا کہ بہت بڑی غلطی ہوئی ہے. بجلی اور اس سے جڑے نظام اصول ضوابط ہیں. ان ضوابط کو نظر انداز کرنے پر بجلی کے جھٹکے لگتے ہیں جو جان لیوا بھی ہوسکتے ہیں. اس ایک جھٹکے سے ایسا سبق حاصل ہوا کہ الحمدللہ ساری زندگی دوبارہ کبھی کوئی حادثہ نہیں ہوا. سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی معاشرتی شعور چھ، سات سال کے بچے جتنا بھی نہیں. کہ ہمیں ہر ماہ دو ماہ بعد پہلے سے بھی شدید جھٹکا لگ رہا ہے.

ابھی کچھ دن قبل ہم سب ایک تصویر پر نوحہ کناں تھے کہ کوئی نوجوان اپنی ساتھی کی لاش ہسپتال میں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا. آج ہم ایک اور تصویر پر ٹسوے بہارہے ہیں. خاکم بدہن کچھ دن بعد پھر کہیں اور سے کرنٹ لگے گا تو پھر سب چیخیں مار رہے ہوں گے لیکن حادثہ کی وجوہات پر کوئی غور نہیں کرتا. کیا آگ بجھانے کی سعی کیے بغیر محض اس کے نقصانات پر ماتم کرنے سے یا اس کی تصاویر اتار کر سب لوگوں کو اس کی تباہ کاریوں سے باخبر کرنے سے کبھی آگ بجھی ہے؟ میرے علم کے مطابق آج تک کسی سرکاری یا نجی ادارے میں، کسی سماجی یا سیاسی تنظیم نے ایک بھی میٹنگ، جلسہ، سیمینار یا ورکشاپ اس موضوع پر نہیں کی کہ ہماری معاشرتی اقدار کی تنزلی کی وجوہات کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے کیا جاسکتا ہے.

خدا کیلئے سب اہل علم وحکمت سر جوڑ کر بیٹھیں، اس انتہائی اہم سماجی مسئلہ کی بنیاد تلاش کریں ، اسکی بیخ کنی کیلئے عملی اقدامات تجویز کریں. سرکار پر ان تجاویز پر عمل درآمد کیلئے دباؤ ڈالیں. میڈیا کو بچوں کی گھروں اور تعلیمی اداروں میں تربیت کے لئے نئی جدید حکمت عملی وضع کریں، ہم سب جانتے ہیں معاشرے میں کچھ عناصر، تعلیمی ادارے اور الیکٹرانک میڈیا کے کچھ حصے کی مالی منفعت اس بات سے جڑی ہے کہ بے راہ روی کی ترویج ہو، ان کا ناطقہ بند کریں. اور اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو براہ کرم خوامخواہ شوروغل کرنا بند کردیں. آگ بجھانے کی سعی نہیں کرسکتے تو اس کی ترویج بھی نہ کریں. لیکن یاد رہے کہ آگ کا کام ہے پھیلنا اور جب یہ پھیلتی ہے تو گھر کسی کا بھی نہیں بچتا.

اپنا تبصرہ بھیجیں