مجھے چپ لگی” مدعا “کہتے کہتے. ثریا ملک




بحیثیت قوم ہم نے ہر چیز کا بیڑا غرق ہی کیا ہے ۔ہم جو خاندان سے ہمیشہ سے جڑے ہوئے تھے اور ہیں ہم نے نشاندہی ہونے پر بھی اپنی سوچ کو،رویوں کو نہیں بدلا لہذا اب feminist ہمارے اور آپ کے گھروں سے نکل رہی ہیں،ہمیں لہجہ بدلنا تھا،دم کٹی لومڑیوں کے نئے نئے جال سے” ان” کو بچانا تھا لیکن ہم تو “سامع” تک نہ بن سکے ۔ ہم سننا بھی وہی چاہتے ہیں جو ہم نے پہلے سے سوچا ہوا ہوتا ہے اس سے ہٹ کر کوئی بات سننے کا جگرا ہی نہیں ہم میں ۔

نئی نسل کو روایتوں کا نہیں معلوم ۔۔۔ان کو ملنے والی روایتیں تھی ہی کیا ؟ ایک نظر ڈالیں تو سہی ۔ جو سنہرے اقوال ان کو سنائے جاتے ہیں اس پر عمل کیا ہی کب ہم نے ۔۔ اور کتنے والدین نے” والدین” کے اعزاز کو ذمہ داریوں کے ساتھ قبول کیا ہے۔ یقین جانیں اس مہینے ہم نے جتنے پروگرامات کروائے اس میں کوئی پروگرام ایسا نہ تھا جس میں کوئی نوجوان بچی چپکے سے اپنے آنسو نہ پونچھ رہی ہو یا بہت جارحانہ انداز میں بات نہ کر رہی ہو۔۔۔ دونوں ہی کیفیات اس کی ذہنی حالت کی نشاندہی کر رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ پھر بڑی کامیابی سے خود کو کمپوز بھی کرتی ہیں ۔۔ ہم بڑے ظالم لوگ ہیں ۔۔۔ بڑے۔۔۔۔کم ظرف لوگ ہیں ۔۔۔

ان بچیوں کے آنسو دل پر گرتے ہیں کیوں کہ بحیثیت ٹرینر اور کاوئنسلر ہر ایک کے حالات کا یا تو پہلے سے اندازہ ہوتا ہے یا پھر بعد میں جب ان کے کیسز سامنے آتے ہیں تو ہو جاتا ہے ،سارے کیسسز میں ایسے ایسے حالات سامنے آتے ہیں کہ خود میری نیندیں اڑ جاتی ہے ۔۔۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ یہ مسئلے حل ہو سکتے ہیں اگر ہم ظلم نہ کریں ،جیسے تشدد کی قسمیں ہیں ویسے ہی ظلم کی بھی ۔۔ آپ کو شاید ایسا لگے کہ توازن بگڑ رہا ہے اور حالات کو ایک ہی زاویے سے دیکھا جارہا ہے ۔۔ لیکن دوسرے سارے زاویوں پر بہت بات ہو چکی ہے اور ہوتی بھی ہے ہم ہر وقت تیار ہیں ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے جس میں ہماری ذمہ داری کم سے کم ہوتی ہے ،ہم بڑی آسانی سے رٹے رٹائے وہ سارے جملے بڑی آسانی سے متن کی صورت ppts کی صورت نیچے اتار دیتے ہیں اور بس۔۔۔

کتنا آسان ہے نا خاندان پر بات کرنا ؟ ایسے ہی تو بن جاتے ہیں خاندان۔ میں سیشن کے دوران بچیوں کو ٹائم مشین میں بٹھا کر مستقبل میں لے جاتی ہوں اور اس وقت کے ایک علامتی کردار “عائشہ خان “سے ملواتی ہوں پھر ہم اس کو پیش آنے والے چیلنجز پر بات کرتے ہیں ساتھ ہی ان opportunities پر بات کرتے ہیں جو ہمیں حاصل ہیں اور جن کی بنیاد پر ہم اپنی اور آج کے پاکستان کی حالت بہتر کر سکتے ہیں تا کہ کل کی “عائشہ خان” کے چیلنجز کچھ کم ہو سکیں ۔۔لیکن اس کے لیے تو آج کام کرنا ہو گا اور بڑے سائنٹفک طریقے سے کرنا ہو گا۔۔۔تو جن کے ذریعے کرنا ہو گا ان کو فکری طور سے مظبوط بھی تو کرنا ہو گا ،آج کی نوجوان نسل کو اعتماد بھی تو تو دینا ہو گا ۔۔۔ ورنہ کام کیسے ہوگا ؟

آخر کب ہمیں عقل آئے گی کہ جس خود اعتمادی کا شکار ہو کر ہم نے اپنے خاندانوں کو نظر انداز کیا ہے وہ کہیں ہمیں لے نہ ڈوبے ۔ ہمارے مخالفین کے کام کا توڑ صرف کام ہی ہو سکتا ہے کہ “دعا بھی حرف عزائم کا ساتھ دیتی ہے “۔ یہاں کسی رشتے کسی کردار کو برا نہیں کہا جا رہا بحیثیت استاد ایسا کر بھی نہیں سکتی ۔۔۔لیکن رنگین چشمے پہن لینے سے دنیا تو رنگین نہیں ہو جاتی۔ اس معاشرہ سے ظلم کا ہر سطح پر خاتمہ کرنے کے لیے ،نظام بہتر کرنے کے لیے جن لوگوں سے امید ہے ان سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ نظریاتی مظبوطی پیدا کرنے والے اپنے اس اہم ادارے “گھر” کا جائزہ لیں .

ورنہ سب جانتے ہی ہیں کمزور بنیادوں والی عمارتیں پائیدار نہیں ہوتیں۔ وہ الیکٹران جو سب سے باہر والے شیل میں ہوتا ہے اس کی association مرکز سے، نیوکلیئس سے سب سے کم ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اس کو نکالنا اس کو ورغلانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ تو ایسا نہ کریں “گھر “بنائیں “مکان “نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں