استنبول معاہدہ – عالم خان




ترکی میں “میری جسم میری مرضی” کو لگام دینے کے لیے “استنبول معاہدہ” کے نام سے موجود معاہدہ کو منسوخ کردیا گیا یہ معاہدہ کئی مغربی ممالک میں موجود تھا جس کا ظاہر خوش نما نعروں سے سجا ہوا تھا کہ عورت کو تحفظ اور مساوات کا حق دیا جائے اور باطن زہریلا تھا خواتین کو تحفظ دینے کی اڑ میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا جا رہا تھا جس کا کھلم کھلا اظہار اور نمائش بھی کیا جا رہا تھا۔

اس معاہدے میں خواتین کو حقوق دینے کے نام پر “عائلی زندگی” ختم کردی گئی تھی شرح طلاق میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا وجہ یہ تھی کہ میاں اور بیوی کے درمیان گھریلو مسائل میں عورت کے بیان کے مطابق عدالتی کاروائی کی جاتی تھی۔ جس کا اکثر خاتون خانہ غلط فائدہ اٹھا کر معمولی زبانی تکرار پر پولیس سٹیشن پہنچ جاتی اور شوہر کو گھر سے بے گھر کرنے کے لیے حکم نامہ لے آتی۔ کئی دفعہ سرکاری حکم کے سامنے مرد سر تسلیم خم کرکے گھر نکلتا تھا لیکن عمومی طور پر فورا شوہر طلاق دے کر اسی عورت کو اس سرکاری حکم نامے کے ساتھ گھر سے بے دخل کرتا تھا اور اسی طرح ایک آباد، ہنستا بستا گھر اجڑ جاتا۔ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھ کر صدر رجب طیب اردوغان نے اس معاہدے کے منسوخی کا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا

کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق اور مقام دیا ہے وہ عین فطرت کے مطابق ہے اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی خوبصورت رشتوں کی شکل میں شفقت، محبت، رحمت اور نعمت بناکر پیدا کیا ہے اور وہی حقوق اور آزادی دی ہے جس کا دنیوی قوانین میں کوئی نظیر نہیں۔ خواتین کی تحفظ کو ہر حال میں ممکن بنائی جائیگی لیکن اس معاہدے کے بعض شقیں خواتین کے حقوق کے نام پر حق تلفی اور ہم جنس پرستی کے جواز پر مبنی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف گھر اجڑ رہے ہیں تو دوسری طرف ہر جگہ LGBT کے جھنڈے اور کیمپس لگائے جاتے ہیں جس کا ہمارے دین اور قومی اقدار میں کوئی گنجائش نہیں۔

اس معاہدے کی منسوخی سے اگر ایک طرف مذہبی لوگ خوش ہیں تو دوسری طرف مذہب بیزار، سیکولر اور لا دین قوتیں نالاں ہیں اکثر شہروں میں کرفیو کی وجہ سے اب حالات نارمل ہے لیکن ان کو محاذ مل گیا یہ عین ممکن ہے کہ وہ اردوغان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال دیں گے جس میں اردوغان کی سر خرو ہونے کی دعا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں