توبتہ النصوح – ذویا کامران




توبہ کے لفظی معنیٰ پلٹ جانے کے ہیں۔ انسان جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور غلطی کا احساس ہونے پر جب وہ اپنے رب کے حضور اس کی ذات سے معافی کی امید لگاتا ہےاور گڑگڑاکر معافی طلب کرتا ہے اسے توبہ کہتے ہیں۔ توبہ دراصل دل میں پیدا ہونے والی ایک کیفیت ،شرمندگی یا ندامت کا نام ہے جس کے پیدا ہونے سے انسان اللّٰه تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی غلطی کا اقرار کرکے معافی طلب کرتا ہے۔

گناہ اللّٰه اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنا اور اللّٰه کی قائم کی ہوئی حدود کو توڑنا ہے۔سورہ النساء آیت نمبر ١٠ میں اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: ”جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے، پھر اللّٰه سے بخشش طلب کرے تو وہ اللّٰه کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائے گا“۔ جب انسان اللّٰه سے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے تو اللّٰه تعالیٰ کی صفتِ رحم و کرم اور معاف کرنے کی صفت کو آواز دیتا ہے تو اللّٰه تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہےاور الله تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔توبہ کے بارے میں رسول اللّٰهؐ نے فرمایا کی اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ :”اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید وابستہ رکھے گا ،تو تُو جس حالت میں ہوگا میں تجھے معاف کرتا رہوں گا

اور میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تُو مجھ سے معافی طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور کوئی پرواہ نہیں کروں گا، اے ابنِ آدم ! اگر تُو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے، پھر تُو مجھ سے اس حال میں ملے کی تُو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں بھی اتنی مغفرت کے ساتھ تجھے ملوں گا جس سے زمین بھر جائے“۔۔ (ترمذی) اب لفظ نصوح کو سمجھ لیتے ہیں۔ نصوح سے مراد ہے ”بلکل خالص“۔ یہ لفظ النصیحہ سے ماخوذ ہے۔انسان گناہ کرنے کے بعد جب اللّٰه رب العزت سے سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور اپنی ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اب اس سے یہ گناہ دوبارہ سرزد نہ ہوتو اسے توبتہ النصوح کہا جاتا ہے۔ سورہ التحریم آیت نمبر ٨ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: ”مومنوں اللّٰه کے آگے صاف دل سے توبہ کرو“۔

توبہ کو نصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہوگا کہ آدمی ایسی خالص توبہ کرلے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو، یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیرخواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچالے یو توبہ کرکے وہ اپنی زندگی کو اتنا سنوار لے کہ دوسروں کے لئے وہ نصیحت کو موجب ہو اور اس کی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسی کی طرح اپنی اصلاح کرلیں۔توبتہ النصوح کا شرعی مفہوم ایک حدیث سے ملتا ہے کہ، ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے توبتہ النصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللّٰهؐ سے یہی سوال کیا تھا آپ نے فرمایا: ” اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو،

پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللّٰه سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو“۔ یہی مطلب حضرت عمرؓ ، حضرت عبداللّٰه بن مسعودؓ اور حضرت عبداللّٰه بن عناسؓ سے بھی منقول ہے اور ایک اور روایت میں حضرت عمرؓ نے تونتہ النصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی کا اعادہ تو درکنار ، اس کے ارتکاب کا ارادی تک نہ کرے ۔ ( ابنِ جریر ) حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا توفرمایا ” یہ توبتہ الکذابین ہے“ ۔ اس نے پوچھا ! ”پھر صحیح توبہ کیا ہے؟“ فرمایا ” اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہیئے ١۔۔ جو کچھ ہو چکا اس پر نادم ہو۔۔۔۔ ٢۔۔ اپنے جن فرائض سے غفلت ہو ان کو ادا کر۔۔۔ ٣۔۔ جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کر۔۔

٤۔۔ جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ۔۔ ٥۔۔ آئندہ کے لئے عزم کرے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔۔ ٦۔۔ اپنے نفس کو اللّٰه کی اطاعت میں گھلادے جس طرح تو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو اطاعت کی تلخی کا مزہ چکھا جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزہ چکھاتا رہا ہے“۔ (کشاف) اللّٰه سبحان و تعالیٰ کی بے شمار اور انتہائی خوبصورت صفات ہیں جن میں ایک صفت ” الغفار “ ہے جس کے معنیٰ ہیں ”بخشنے والا“ ۔ اللّٰه تعالیٰ اپنے بندے کو کبھی مایوس نہیں لوٹاتے ۔ اللّٰه سے معافی کی امید لگا کر سچی توبہ کرنی چاہیئے ۔ اللّٰه تعالیٰ اپنے بندے کر انتظار میں ہوتا ہے کہ کب وہ گناہوں سے توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرے۔

توبتہ النصوح انسان کا عمل بدل دیتی ہے۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی، سود، کرونا وبا، مہنگائی ، جھوٹ اور بے انتہا برائیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں اللّٰه تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے توبتہ النصوح کرنی چاہیئے تاکہ ہم ان برائیوں سے بچ سکیں اور اللّٰه کے پسندیدہ بندے بن سکیں اور اپنے اخلاق و کردار کر سنوار کر اللّٰه کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں ۔۔۔۔

گناہ بہت ہیں کرلئے
اب بھی اگر سمجھ لے
مالک کو اب منالے
توبہ کا در کھلا ہے
اب بھی اگر نہ سمجھے
تو موجب سزا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں