یوم مزدور اور اردوغان۔ عالم خان




یوم مزدور پر اردوغان کی یہ تصویر دیکھ کر ان دنوں کی یاد تازہ ہوگئی جب اٹھ سال پہلے میں نے ترکی کے سر زمین پر قدم رکھا پہلی بار گھر سے اتنا دور آیا تھا کہ جہاں میں حقیقی معنوں میں اجنبی تھا کوئی جاننے والا نہیں تھا اور نہ ہی زبان، ثقافت اور ماحول سے آشنا تھا جب بھی دل بیٹھ جاتا تھا تو مستقبل کو خیال کر ہنسنے کی مصنوعی کوشش کرتا تھا۔

جب کولیگز کے ساتھ پہلی بار پروفیسرز مس گیا تو کہیں خادم اور ویٹر نظر نہیں ارہا تھا لیکچرار سے لے کر پروفیسر تک نے اپنا ٹرے خود اٹھایا ہوا تھا حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی کہ ایک دن کھانے کے بعد محسوس ہوا کہ میرے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھا ہوا شخص گویا میرا منتظر ہے جان پہچان نہ تھی اس لیے سیلف سروس کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اٹھا اور اپنا ٹرے جہاں سے اٹھایا تھا وہاں رکھ کر لفٹ کی طرف گیا قدموں کی آہٹ سے پتہ چلا کہ وہ بھی میرے پیچھے آ رہا ہے جوں ہی ہم لفٹ میں داخل ہوئیں تو انھوں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کہ آپ عالم خان ہیں میں نے ہاں میں سر ہلایا تو انھوں نے فورا ہاتھ آگے کرکے کہا میرا نام پروفیسر احسان گون آئیدن ہیں میں اس یونیورسٹی کا ریکٹر ہوں اور آپکو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں چوں کہ ایک ایسے دیس کا باشندہ تھا جہاں یونیورسٹی کا وائس چانسلر تو در کنار ایک سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی جب ہاتھ دھوتا ہے تو ایک نوکر اگر پانی لے کر کھڑا ہوتا ہے تو دوسرا ٹاول لے کر دست بہ سینہ کھڑا رہتا ہے۔ اس لیے یہ منظر مجھے عجیب لگ رہا تھا اور اپنے کانوں پر یقین نہیں ارہا تھا کہ جس شخص نے میرے ساتھ کھانے کے بعد اپنا ٹرے اٹھایا وہ اس یونیورسٹی کا ریکٹر ہے لیکن اسی دن مجھے اپنے ملک میں وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کے نعرے کا سمجھ بھی آیا کہ اس نعرے کے لگانے والے مملکت خداد میں ایک ایسے ہی معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں محمود و آیاز برابر ہوں وہ الگ بات ہے کہ یہی نعرے صرف اقتدار سے پہلے لگائے جاتے ہیں بعد میں سب بھول جاتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کلچر کا خاتمہ ترقی یافتہ اقوام اور ممالک کی ترقی کا راز ہے۔

یوم مزدور پر اردوغان کی یہ تصویر دیکھ کر ان دنوں کی یاد تازہ ہوگئی جب اٹھ سال پہلے میں نے ترکی کے سر زمین پر قدم رکھا پہلی بار گھر سے اتنا دور آیا تھا کہ جہاں میں حقیقی معنوں میں اجنبی تھا کوئی جاننے والا نہیں تھا اور نہ ہی زبان، ثقافت اور ماحول سے آشنا تھا جب بھی دل بیٹھ جاتا تھا تو مستقبل کو خیال کر ہنسنے کی مصنوعی کوشش کرتا تھا۔

جب کولیگز کے ساتھ پہلی بار پروفیسرز مس گیا تو کہیں خادم اور ویٹر نظر نہیں ارہا تھا لیکچرار سے لے کر پروفیسر تک نے اپنا ٹرے خود اٹھایا ہوا تھا حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی کہ ایک دن کھانے کے بعد محسوس ہوا کہ میرے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھا ہوا شخص گویا میرا منتظر ہے جان پہچان نہ تھی اس لیے سیلف سروس کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اٹھا اور اپنا ٹرے جہاں سے اٹھایا تھا وہاں رکھ کر لفٹ کی طرف گیا قدموں کی آہٹ سے پتہ چلا کہ وہ بھی میرے پیچھے آ رہا ہے جوں ہی ہم لفٹ میں داخل ہوئیں تو انھوں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کہ آپ عالم خان ہیں میں نے ہاں میں سر ہلایا تو انھوں نے فورا ہاتھ آگے کرکے کہا میرا نام پروفیسر احسان گون آئیدن ہیں میں اس یونیورسٹی کا ریکٹر ہوں اور آپکو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ میں چوں کہ ایک ایسے دیس کا باشندہ تھا جہاں یونیورسٹی کا وائس چانسلر تو در کنار ایک سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی جب ہاتھ دھوتا ہے تو ایک نوکر اگر پانی لے کر کھڑا ہوتا ہے تو دوسرا ٹاول لے کر دست بہ سینہ کھڑا رہتا ہے۔ اس لیے یہ منظر مجھے عجیب لگ رہا تھا اور اپنے کانوں پر یقین نہیں ارہا تھا کہ جس شخص نے میرے ساتھ کھانے کے بعد اپنا ٹرے اٹھایا وہ اس یونیورسٹی کا ریکٹر ہے لیکن اسی دن مجھے اپنے ملک میں وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کے نعرے کا سمجھ بھی آیا کہ اس نعرے کے لگانے والے مملکت خداد میں ایک ایسے ہی معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں محمود و آیاز برابر ہوں وہ الگ بات ہے کہ یہی نعرے صرف اقتدار سے پہلے لگائے جاتے ہیں بعد میں سب بھول جاتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کلچر کا خاتمہ ترقی یافتہ اقوام اور ممالک کی ترقی کا راز ہے۔_

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies. Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

اپنا تبصرہ بھیجیں