عید اور ہم – ج۔ا




” عید کا چاند نظر آگیا۔ مبارک ہو بہت۔””کل عید ہوگی۔”” حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔ عید کا چاند نظر آچکا ہے۔ کل انشاءاللہ عید کی نماز 8:00 ہوگی۔”چہار جانب سے آتی یہ صدائیں واضح پیغام پہنچا رہی تھیں کہ کل عید ہوگی۔

” چلو یار بازار چلو۔ تھوڑا گھوم پھر کر آتے ہیں، رمضان میں تو گھر میں ہی قید ہوگئے تھے۔ آج کی تو رونقیں دیکھنے والی ہونگی۔ “” ہاں ہاں چلو۔ ” اسماء کی آواز پر رانیہ نے اسکی تائید کی۔تھوڑی دیر بعد دونوں بازار میں موجود تھیں۔” اللہ اللہ! ایسا لگ رہا ہے سارا جہاں سمٹ کر بازار میں آگیا ہے۔ “” یہی تو چاند رات کی رونقیں ہیں، آخر کو پتہ تو چلے کل عید ہے۔ ” طلعت بیگم اور جہاں آراء باتیں کرتی ہوں بازار میں گھوم رہی تھیں۔” امی بتا دیں کل کے لئے کیا کیا لانا ہے؟ رومیصہ عید کی دعوت کے لئے سامان کی لسٹ پکڑے کھڑی تھی۔میں نے بریانی، کڑاہی، شیر خورمہ، رولز کا سامان تو لکھ لیا ہے اور بتائیں۔ “” اس میں آپی سے پوچھ کر پڈنگ، چارٹ کا سامان لکھوا لو۔ کل سب آئینگے، آخر کو پتہ تو چلے مسز ہارون کا گھر ہے۔ ” فاطمہ بیگم کے انداز میں نمایاں فخر جھلک رہا تھا۔برابر میں بیٹھے کام والی کے بچے حسرت سے انکی باتیں سن رہے تھے، انکو معلوم تھا ان سب میں انکا کوئی حصہ نہیں۔

” یہ کیا کیا تم نے؟؟؟ “” میرے اتنے مہنگے سوٹ کی ڑیڑ لگا دی۔ “درزی نے بوکھلا کر مریم کی جانب دیکھا” ستیاناس ہو تمہارا۔ ” غصہ میں وہ ناجانے کیا کیا کہتی چلی گئی۔” باجی کل عید ہے، خدا واسطے تھوڑی مدد کردو۔۔ “” دفع ہو یہاں سے۔ کیا ہر وقت مانگتے رہتے ہو۔ ایک تو ویسے ہی درزی نے سوٹ خراب کردیا اب تم آجاؤ دماغ چاٹنے!” بہت آس سے کہتا وہ بچہ پاس آیا لیکن اگلے ہی لمحے مریم کی جھڑک سے سہم کر دور ہوتا گیا۔یہ ہے ہمارے معاشرے میں عید اور چاند رات کا تصور !کیسا ہے۔۔۔۔ اچھا ہے نا بہت۔۔؟؟یقینا اللہ تعالی اپنے نیک و فرمانبردار بندوں کو رمضان کے بعد اپنی نافرمانیاں کرتا دیکھ کر خوش ہورہے ہونگے۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں میں!!ذرا چلتے ہیں ان پرانے وقتوں میں جب رمضان آتا تھا اور لوگوں کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس ماہ میں ٹریننگ لیکر، اگلے گیارہ ماہ عمل میں لائیں گے۔

وہ اپنی قیمتی راتیں بازاروں میں ضائع تھوڑی کرتے تھے، آخر عید کی رات تو جزا کی رات ہوتی ہے۔ بندہ اپنے رب سے مزدوری لیتا ہے، اور ہم۔۔۔۔ ارے چھوڑیں اس رات جزا کسے چاہئے ہوتی ہے، بازاروں کی رونقیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔۔۔!! وہ ان دنوں زیادہ سے زیادہ انفاق کرتے اور آس پاس کے ضروتمندوں کی مدد کرتے تھے آخر کو عید ایک بڑا تہوار ہے جس میں خوشیاں منانا سبکا حق ہے اور ہم۔۔۔ ارے پھر وہی بات! چھوڑیں ہمارا مال کم ہوجائے گا کسی کی مدد کرنے سے۔۔!! قرآن کی سورہ یونس کی آیت نمبر ۵۸ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: ” یہ اللہ کا فضل ہے اور اسکی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی۔ اس پر تو لوگوں کو خوشیاں منانی چاہئیں۔ یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔”رمضان کا مہینہ یعنی قرآن کا مہینہ اور یہ جو فضل ربی ہے اس پر خوشی ہم عید کی شکل میں مناتے ہیں۔

عید کا دن انعامات کا دن ہے۔ اللہ بندوں کو انکی مزدوری دیتا ہے۔ اب یہ اچھی بات تو نہیں ہوئی نا کہ پورا رمضان سچے مسلمان بنے رہے اور پھر دوبارہ شیطان کی ہتھے چڑھ گئے جیسا کہ وہ پہلے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔۔۔ہماری عید اور چاند رات سے تو آپ لوگ بخوبی واقف ہونگے!! کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس سال اور آگے بھی ہم عید اسی طرح منائیں جس طرح منانی چاہئے۔۔؟؟ ہم خوش ہوں اس بات پہ نہیں کہ رمضان ختم ہوا عید ہے بلکہ ہم اس بات پہ خوش ہونے والے ہوں کہ ہم نے اس ایک ماہ شیطان کو نیچا دکھایا اور اللہ کی قربت حاصل کی، اب اللہ سے انعام ملے گا۔ (انشاءاللہ)ہم ضروتمندوں مندوں کی مدد کرنے والے بنیں۔ کچھ نہیں تو تھوڑی بہت مالی نہ سہی دوسری ضروریات پوری کردی جائیں۔ جو لوگ خوادداری کی وجہ سے جھجکتے ہیں ہم انہیں تحائف دینے والے ہوں جس سے انکی مدد بھی ہو اور دل پرسکون بھی۔۔ دوسروں کو معاف کرنے والے بنیں۔ کیوں ہم چھوٹی سی بات پہ کسی کی عزت نفس مجروح کریں، ہوسکتا ہے آپکا سوٹ غلطی سے اس نے ایسا سی دیا ہو!

رمضان کا مہینہ تو برداشت سکھاتا ہے تو ایسا کیونکر ہے کہ ہم ذرا برابر اس سے کچھ سیکھ نہ سکے! اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، ہم کیوں نا اس کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوجائیں تھوڑی سی قربانی دیکر۔۔ چاند رات بہترین موقع ہے، کیوں ہم اسے اس دفعہ بھی بازاروں میں اور فضول کاموں میں گزاریں۔۔ کیوں نا ہم سب اللہ سے اپنی جزا طلب کریں اور باقی کے مہینے بھی بس اسی کے ہوکر رہیں۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟! کچھ نہیں تو سوچئے گا ضرور۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں