یوم فتح ۔ زرافشاں فرحین




یوم فتح مکہ “” 16 رمضان المبارک تاریخ کے سنہری ایام انقلاب آفریں لمحات …. باعث افتخار ہی نہیں آج کی مسلم دنیا کے لئے ایک ایسی یاددہانی جو امت کی بکھرتی ٹوٹتی سانسوں کو پھر سے حیات جاوداں دے سکے

جس طرح وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔۔۔۔ حادثے اچانک رونما نہیں ہوتے بلکل اسی طرح فتوحات کا مرحلہ بھی بتدریج عمل میں آتا ہے نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ مکی و مدنی زندگی کے ہر ہر موقع پر ہمارے لیے سبق رکھتی ہے جنھیں آج دہرانے کی ضرورت ہے ۔ عشق رسول اللہ ص کے لئے محض زبانی خرچ نعروں یا مدینے کی فلاحی ریاست کے دعووں سے بڑھکر کردار و عمل کی یاددہانی ہے ۔ بازو تیرا توحیدکی قوت سے قوی ہے _ تو مصطفوی مصطفوی ہے آج کے روزو شب….. ماہ مبارک کی ساعتیں مالک کائنات اور امت کے درمیان گرجانے والے پردے بڑھتی قربتیں…. جیسے نزع کے مریض کے ناک پہ رکھا جانے آئینہ اسکی سانس کے چلنے رہنے کی گواہی دیتا ہے یہ روزوشب ہمارے بچے کھچے ایمان کے گواہ ہیں کہ واقعی ہم فتح مکہ کی شاندار تاریخ کے وارث ہیں ۔۔۔۔آنکھیں نم ہیں اور دعاگو ربی مائل بہ کرم ہوں امت کی ڈوبتی سانسوں کو بچالیں ۔ ایمان کے آئینے پہ بڑی گرد جمی ہے ۔۔۔۔۔ اپنی رحمت کے بادل برسادیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر رب پکارتا ہے ۔۔۔۔۔۔ان لیس للانسان الا ماسعی


انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی “ہم کس کے لئے کوشش کررہے ہیں دعوے باتیں بہت اور عمل مفقود فتح مکہ جیسی عظیم شاندار کامیابی مقدر کب بنتی ہے… باوقار اصول پسند مخلص قیادت فکری و عسکری امت کی تربیت ولولہ شوق اور توکل الی اللہ کے ساتھ دعائیں .آئیے اپنی کوششوں کا جائزہ لے لیں…. ہم سب خیر و فلاح چاہتے ہیں ۔ امت مسلمہ کی آج بھی فتح کے خواہشمند ہیں انسانیت کی خیر….. سب کے لئے عام معافی کا اعلان…. امن وآشتی محبت کا پیغام لئے آج کا دن ہمیں یاددلارہا ہے یقین محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم _ جہادزندگانی میں یہی ہیں مردوں کی شمشیریں

اپنا تبصرہ بھیجیں