فریادِ کشمیر – سماویہ وحید




میں جنت ہوں؟؟ ہاں میں جنت ہوں. میں کافروں کے لیے بنائی گئی ایک خوبصورت جنت ہوں. میری زمین بے بس ہے. میں بے سہارا ہوں؟؟؟ ہاں میں ہی بے سہارا ہوں. میں قدرتی آبشاروں میں بہتی اِک خوبصورت جنت ہوں. میں رنگ برنگ پھولوں کی دنیا ہوں. میں مظلوم ہوں؟؟ ہاں میں ہی وہ مظلوم جنت ہوں. میں نباتات کا خوبصورت میلہ ہوں.

میں سیاحوں کے دل کی رونق ہوں. میں چیخ و آہ کا نمونہ ہوں؟؟ ہاں میں چیخ و آہ میں گونجتی اِک وادی ہوں. میں کافروں کا ہدف ہوں. میں قبرستان سے بھی بدتر ہوں. میں آزادی سے محروم ہوں. میں بہتے خون کے آبشاروں کی دنیا ہوں. میں بوسیدہ ہوں. میں معصوموں کا قبرستان ہوں میں امت محمدی صلی اللّٰه علیہ وسلم سے فریاد کرتی ہوں مجھے بچاؤ اس قید بھری زندگی سے، میں ناشکری تو نہیں کر رہی لیکن مجھے آزاد دنیا کو دیکھ کر حسرت ہوتی ہے. کب اس ذلت کی زندگی سے چھٹکارا پاکر میں اپنی زندگی جیوں گئی. میں تھک گئی ہوں ان بے گناہوں کو تڑپتا دیکھ دیکھ کر. میں بے بس ہوں. میں امام مہدی کی منتظر ہوں، کب کوئی امام مہدی پیدا ہوگا جو میری زمین اور اس پر رہنے والے گلابوں کا سہارا بنے گا. کہتے ہیں لوگ مجھے، دنیا میں رب نے اتار دى جنت کشمیر کی صورت میں، کیا کبھی کوئی جنت کافروں کو بھی مل سکتی ہے؟؟؟

میری سرزمین تو بدترین اسلام کے دشمنوں کی وراثت ہے. کیا مجھے آزاد رہنے کا حق نہیں ہے؟ مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے، جب میری زمین پر ناحق خون بہایا جاتا ہے، جب میری زمین پر ماوؤں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں، میں بھی تو حسرت بھری نگاہوں سے آزاد دنیا کو عیاشی کرتے دیکھ کر روتی ہوں. سوچتی ہو کیا کبھی میں بھی آزاد ہوں گئی؟؟ کوئی تو اٹھے نا، جو مجھے اس ذلت بھری زندگی سے بچائے. کوئی تو اٹھے نا، جو میرے لئے سینہ تان لے. کوئی تو اٹھے نا، جو میرے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگا دے. کوئی تو تو سن لے نا، میری آہ, میں تڑپ رہی ہوں. آخر کوئی تو بچا لے مجھے, میں بنجر ہو چکی ہوں. میں مردوں کی رہائش گاہ بن چکی ہوں. کوئی تو اٹھے نا، شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لے.

کوئی تو بتائے مجھے, میری زمین پر کب آزادی کا سورج طلوع ہوگا؟؟ میں کب آزاد فضاؤں میں سانس لوں گئی؟؟ کب میں ان گائے کے پوجنے والوں سے چھٹکارا پاؤں گئی؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں