انا المومنون اخوۃ – امتہ اللہ فاطمہ




چلتے چلتے اس کی نظر ایک جملے پر پڑی ….. دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے . وہ دو سیکنڈ کے لیے رکی پھر کسی نے آواز لگائی مومنہ تمھارا رکشہ آ گیا ہے وہ کالج سے باہر آئی اور اپنے گھر کی طرف جانے لگی آج وہ حسب معمول کچھ بولنا چاہتی تھی پر منہ سے الفاظ نکلے ہی نہیں جیسے حلق میں اٹک گئے ہوں وہ گھر آتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی .

اس کی امی نے کہا بیٹا منہ ہاتھ دھو لو پھر کھانے کے لیے باہر آ جانا ۔۔۔۔۔آج اس کا کھانے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا کیونکہ اس کے دماغ میں وہی جملے گھوم رہے تھے . اس نے سوچا میں بھی ایک مومن ہوں پر مجھے تو یہ دنیا کہیں سے بھی قید نہیں لگتی انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اس کا فون بجا اس پر سدرہ کا میسچ آیا تھا کہ فلسطین پر پھر سے حملہ ہو گیا . اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی تھی جس میں فلسطین کی بیٹی …………. مریم الفیفی کی زندگی کا وہ لمحہ تھا جب وہ قید کی جا رہی تھی . اس نے فون ایک طرف رکھا تھکاوٹ کی وجہ سے بہت نیند آ رہی تھی آنکھیں بند کیں تو سامنے اس کا چہرہ آ گیا جو اپنی گرفتاری کے وقت بھی مسکرا رہی تھی . ایک سکون،ایک نور، چمکتا چہرا۔۔۔ ایسے جیسے آگے کی منزل سے لا علم ہو مگر وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے پھر بھی وہ پر سکون تھی یہ بات اس دماغ میں نجانے کیوں بار بار گھوم رہی تھی پر سکون، پر سکون، پر سکون ….. آج وہ کالج میں داخل ہوئی تو اس کی سماعت میں پڑنے والے الفاظ نے اسے روک دیا وہ الفاظ اصل میں قرآن کی آیت تھی
انا المومنون اخوۃ ….. “بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں”

وہ کلاس میں تو موجود تھی پر خیالوں ہی خیالوں میں نجانے کہاں گم تھی . مومن ،بھائی ان کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی پر ناکام کوشش۔۔۔۔ اسی لمحے period کے ختم ہونے کی bel بجی اور سب کلاس سے باہر چلے گئے اور وہ انہیں سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ سدرہ اسے حال میں واپس لے کر آئی وہ اس کے لیے کینٹن سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئی تھی پر اس نے کھانے سے انکار کر دیا . سدرہ کے پر اسرا پر اس نے ایک چمچ لی اور یہ کہ کر اٹھ گئی کہ مجھے کام ہے میں لائبریری جا رہی ہوں . وہ لائبریری دراصل ان جملوں کا مطلب سمجھنے آئی تھی جو اس کے دل و دماغ پر زور ڈال رہے تھے اس نے ایک دو کتابیں اٹھائیں ان کو کھولا پر پھر بند کر کے رکھ دیا کیونکہ ان جملوں کا مطلب کہیں نہیں تھا وہ بوجھل دل لے کر باہر آئی اور دوسری کلاس لیے بغیر ہی پیدل گھر کے لیے نکل پڑی …. کالج سے اس کے گھر تک کا فاصلہ 15 منٹ کا تھا جو اس نے اپنے بوجھل دل کے ساتھ ایک گھنٹے میں طے کیا گھر پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئی اور اپنی الماری سے ساری کتابیں باہر نکالیں اور جلدی جلدی انہیں کھول کر پڑھنے لگی ایسے جیسے ان جملوں کا مطلب اسے کسی بھی طرح تلاش کرنا تھاسر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔

۔تھکاوٹ کی وجہ سے حالت خراب تھی۔۔۔۔۔پر پھر بھی ناکامی حاصل ہوئی اور اس نے ایک زور دار چیخ لگائی جیسے نجانے وہ اسی حالت میں مر ہی جاۓ گی۔۔۔۔چند لمحوں کے لیے ایک سناٹا سا چھا گیا۔۔۔۔۔ جب اس کی ماں نے آ کر اسے غصے سے چپ کروایاکچھ لمحوں بعد خاموشی ٹوٹی اور اس نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو وہ بستر پر موجود تھی اور ڈاکٹر اسے چک کر رہے تھےڈاکٹر نے کہا stress کی وجہ سے ایسی حالت ہوئی ہےکچھ میڈسن کھاۓ گی تو ٹھیک ہو جاۓ گیاگلے دو دن وہ کالج نہیں گئی پر وہ انہیں جملوں کو سوچتی رہی . وہ سوچتی سوچتی کمرے کی کھڑکی کے پاس پہنچ گئی رات کا اندھیرا رونما تھا باہر دیکھتے دیکھتے اس کی نظر آسمان پر پڑی جہاں بہت سے ستارے اور چاند چمک رہا تھا اس نے اللہ سے دعا کی اے اللہ! میرے دل میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب دے دے میں بہت تھک چکی ہوںاسی لمحے فون پر پھر ایک میسج آیا کہ برمہ میں ایک خود کش حملے کی وجہ سے 50 افراد شہید ہو گئے ہیںاسے فلسطین والا واقعہ یاد آ گیا اور مریم الفیفی کا وہ پر نور،پر سکون چہرہاسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے

وہ کالج میں بیٹھی تھی کہ Mam کے الفاظ اس کے کانوں میں ایک بجلی کی طرح گونجےnکشمیر ہماری شہ رگ ہے اور آج بھی کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں . ایک نیا لفظ آزادی اس کے دماغ میں بیٹھ گیا ….مومن،بھائی،آزادی . فلسطین،برمہ،کشمیر اس نے یہ اپنے رجسٹر پر اتارے جیسے وہ ان کا خصوصی مطالعہ کرنا چاہتی تھی ۔ آج وہ بہت دونوں کے بعد اپنے ابو کے پاس بیٹھی تھی جو کہ سورت ملک پڑھ رہے تھے جب وہ دوسری آیت پر پہنچے تب اس کے دل سے ایک آواز آئی اور وہ اس میں گم ہو گئی اس کے ابو نے سورت کب ختم کی اسے پتا ہی لگامومنہ مومنہ وہ اپنے حواسواں میں واپس آئیایک دم چونک کر کہا۔۔۔۔ابو سورت الملکانہوں نے جواب دیا وہ تو کب کی ختم ہو گئی تم کہاں پر کھو گئی تھیابو کے پوچھنے پر اس نے ساری باتیں جو اس کے دماغ میں گھوم رہیں تھیں سب کہہ ڈالیں پھر اس کے ابو نے کہا کہ میں تمھیں ان سوالوں کا جواب دیتا ہوں 1-آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ دنیا آزمائش کے لیے بنائی ہے کہ کون اس کے راستے پر چلتا ہے اور بہترین اعمال کرتا ہے 2- مسلمان آپس میں بھائی ہیں جس کے لیے ہم سب کچھ کر سکتے ہیں ، 3- آزادی اس بات کی کہ بس اللہ کا حکم نافذ ہو 4-قید خانہ جس میں صرف آقا کا حکم ہو ،

اس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئیاور ان جوابات کو ان سے ملانے لگی جو اس نے رجسڑ پر لکھے تھے
▫️ مومن کی آزمائش دنیا قید خانہ▫️ بھائی جس کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں▫️ آزادی جس بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا
مریم کا پر نور،پر سکون چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ اپنی آزمائش میں کامیاب ہو گئی ہے صرف اللہ کی خاطر ہر آزمائش سے گزرنے کو تیار ہے اور فلسطین،کشمیر،برمہ کے مسلمان اسی خاطر لڑ رہے ہیں کہ حاکم صرف اور صرف اللہ ہے اور اسی کی حاکمیت چلے گی اور ہم کیا کر رہے ہیں آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں ہے ان کا ہمارا دین ایک ہے لیکن وہ اس دین کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں اور………… ہم کیا کر رہیں ہیں ؟کیا ہم مومن ہیں؟کیا ہم بھائی ہیں؟کیا ہم آزاد ہیں؟ پھر سے یہ سوال اس کے دماغ میں چلنے لگے اتنے میں اس کے فون پر سدرہ کا وائس آیا تھا جو کہ اس کو ایک جوش اور ولولہ دے گیا جس نے اس کی رو کو اندر سے ہلا کر رکھ دیاوہ یہ عزم لے کر اٹھی کہ میرے بس میں جو ہوا میں وہ کروں گی

“جب حشر میں پوچھا جاۓ گا ، کیا اپنے قوی سے کام لیا
جب کفر کی دین سے ٹکر تھی، تو تم نے کس کا ساتھ دیا
اس وقت کہو گے کیا بولو ، آنکھیں تو جھکاؤں لب کھولو
اس وقت کہو گے کیا بولو ، ہر عذر کو کانٹے پر تولو” اتنے میں وہ نیند سے جاگ گئی جو کہ آلارم بجنے سے کھلی . وہ حیران تھی کہ میں خواب دیکھ رہی تھی . یہ مومنہ کی زندگی کا وہ لمحہ تھا جب اللہ نے اسے اپنوں کے لیے کچھ کر دیکھانے کا موقع دیا …. آج ہمارے پاس بھی وقت ہے اپنے بھائیوں کے لیے کچھ کر دیکھانے کا یہ نا ہو کہ حشر میں جا کر ان بھائیوں کے سامنے شرمندگی اٹھائیں

انا المومنون اخوۃ – امتہ اللہ فاطمہ” ایک تبصرہ

  1. تحریر میں سورۃ الحجرات کی آیت کو انما المؤمنون اخوا لکھا گیا ہے جبکہ دراصل لفظ اخوة ہے۔ براہ کرم اسکی تصحیح فرمائیں۔
    والسلام
    ایک بہن۔

اپنا تبصرہ بھیجیں