مذاق اڑانا – نیر تاباں




يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ( الْحُجُرَات: 11)

اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

ایمان والے کہاں ہیں، ذرا پاس ہو جایئں کہ اللہ آپ کو بلا رہے ہیں۔بات شروع ہوتی ہے کہ ایک گروپ/گروہ دوسرے گروپ/گروہ کا مذاق نہ اڑائے۔ ہم تو یہ کام نہیں کرتے اسلئے آگے بڑھتے ہیں، کیا خیال ہے؟ یا یوں کرتے ہیں، تھوڑی دیر رک کر سوچ لیتے ہیں کہ کہیں ہم پٹھانوں کو بے وقوف کہہ کر ان کا مذاق تو نہیں اڑا رہے؟ یا شیخوں کو کنجوس کہہ کر؟ یا دین دار ہیں تو پورے دنیا دار طبقے کو حقیر تو نہیں خیال کرتے؟ دنیا دار ہیں تو دینداروں کا مذاق تو نہیں اڑاتے؟ سوچیں سوچیں۔ مرد ہیں تو عورتوں پر لطیفے گھڑ رہے ہیں۔ خواتین ہیں تو عورت مارچ کے نام پر حضرات کو نیچا دکھانے پر تُلی ہیں۔ پنجابی سندھیوں سے بہتر ہیں۔ آرائیں جٹ ذات سے اچھے ہیں۔ حالانکہ کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، سوائے تقوٰی کے۔ یہی مفہوم ہے نا حدیث کا؟

یہاں عورتوں کا نام الگ سے لینے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو کہا گیا کہ مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کیساتھ ایسا نہ کریں۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ مرد اور عورتوں آپس میں بیشک مذاق اڑاتے پھریں، بلکہ یہاں مخلوط ٹھٹھے بازی کی حوصلہ شکنی ہے (اس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے)۔ دوسری بات یہ کہ عورتوں کا نام بالخصوص اس لئے لیا گیا کہ ہم عورتوں میں غیبت کرنے، طعنے دینے کی زیادہ عادت ہے۔ رشتہ دیکھنے جائیں تو واپس آ کر کیا کیا ان لوگوں پر تبصرے نہیں کئے جاتے۔ بہو بنا کر لے آئیں تو “تمہاری ماں، تمہارا گھر، تمہارا خاندان۔۔۔” کے طعنے روزانہ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ بہو ہے تو جیسے موقع ملے سسرال کے لئے جلے کٹی سنانے سے باز نہیں آتی۔ زیادہ بچوں والیوں کو تو خوب خوب باتیں سنائی جاتی ہیں۔ حالانکہ
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ۔۔۔۔۔۔ ہر غیبت کرنے والے، طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے۔

ایک بات یہاں دیکھیے۔ فرمایا، “ممکن ہے وہ لوگ ان (مذاق اڑانے والوں) سے بہتر ہوں۔”
عبادات و معاملات میں بہتر ہوں، اللہ کی نظر میں بہتر ہوں، قیامت کے دن بہتر ہوں۔۔۔ ممکن ہے! حقیر وہ ہے جو رب کی نظر میں حقیر ہے، وہ نہیں جسے بندے حقیر جانتے ہیں۔ ہر بار جب کسی کا مذاق اڑانے لگیں، سوچیں “ممکن ہے یہ مجھ سے بہتر ہو”۔ جب آپ خود کو کمتر اور دوسرے کو بہتر سمجھیں گے تو پھر مذاق اڑانا بنتا بھی نہیں
اچھا، کسی کا مذاق اڑانے کے پیچھے آخر وجہ کیا ہوتی ہے؟

۔ اختلاف!
یونہی راہ چلتے ہم کسی کا مذاق نہیں اڑاتے۔ مذاق اڑایا وہیں جاتا ہے جہاں کوئی اختلاف آ جائے۔ چونکہ ہمیں اختلاف اور مخالفت میں فرق کرنا نہیں آتا اسلئے دوسرے کی تحقیر کر کے خود کو سکون دینے کے لئے مذاق اڑانے والا سستا کام کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک سکالر کے نام سے فیک اخباری تراشا جا بجا یہاں دیکھنے کو ملا۔ تحقیق کا مادہ تو چونکہ ہم میں ہے نہیں، مخالفت میں بہتان لگانے سے باز نہیں آتے۔ بنانے والے نے تو جو بنایا سو بنایا، ثواب کی نیت سے جنہوں نے شیئر کیا وہ اپنی خیر منائیں۔ آیت میں الزام تراشی کا نام الگ سے لیا گیا ہے۔ اور جب ہو بھی جھوٹ؟

۔ حسد:
کوئی شکل میں بہتر ہو، خاندان میں، مال میں، دنیاوی طور پر آگے ہو، دینی اعتبار سے آگے بڑھ جائے تو ہم خود آگے بڑھنے کے بجائے اس کو پیچھے دھکیلتے ہیں۔ مذاق اڑا کر اسے ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس کو جو بھی ملا، یہ اللہ کی بانٹ ہے۔ اس انسان کا مذاق اڑا کر دراصل اللہ کی تخلیق کا اور اسکے فیصلوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے!

۔ خود کو عقلِ کل سمجھنا:
ایسے میں آپ کو ہر کوئی جاہل اور احمق دکھائی دیتا ہے اور آپ اسکا مذاق اڑانے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کبر بس اللہ کو ہی سجتا ہے۔ انسان کے دل میں رائی برابر تکبر بھی اسکے جہنم میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔کچھ مذاق بظاہر بے ضرر بھی ہوتے ہیں۔ جیسے بچوں کو خوار کر کے، رلا کر، مذاق اڑا کر پتہ نہیں کس جذبے کی تسکین کی جاتی ہے۔ پہلے یہ کام محفلوں میں ہوتا تھا۔ اب آسانی ہو گئی ہے، کسی اور کی موجودگی بھی ضروری نہیں۔ بچے کو ذلیل کریں، کھپائیں، رلائیں، اور اسکی ویڈیو بنا کر فیس بک پر ڈال دیں۔ بس پھر مزے لیں! اسی طرح کامیڈی شوز ہیں۔ اللہ کی تخلیق پر جگتیں لگانا، الٹی سیدھی شکلیں بنانا، گھٹیا ترین جملے استعمال کرنا، کسی کی عزت تار تار کر دینا اور ہنستے رہنا، عجیب! یہی طریقہ جب ہنسی مذاق کے نام پر محفلوں میں اپنایا جاتا ہے، کسی کا کانفیڈینس لیول چاہے ساری عمر کیلئے ختم ہو جائے۔۔۔۔

مذاق اڑانے اور طعنے دینے کے علاوہ الزام تراشی کا اور برے نام نہ رکھنے کا ذکر ہے۔ کسی سے کوئی گناہ ہو گیا، وہ چاہے توبہ کر چکا ہو لیکن آپ جب بیٹھیں اسکا ایمان کا لیول چیک کر اسکو شرمندہ کریں، دورِ جاہلیت کی اسکی غلطی پر اسکے برے نام رکھیں۔ سیاست سے ذرا مثالیں ڈھونڈیں۔ فلاں شادی سے پہلے ہی بھاگ گئی تھی، فلاں زانی ہے، شرابی ہے۔ فلاں کو تو نماز تک نہیں آتی، کلمہ نہیں آتا۔ سلِپ آف ٹنگ ہو جائے اسکو پندرہ بار ریپیٹ پر لگا کر اسکا ٹھٹھا کریں گے۔ یہ ہیں ہم ایمان والوں کی اخلاقی اقدار! اپنے آپ سے شرمندہ ہونے اور توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ برے نام رکھنے کی مزید مثالیں بھی سیاست سے ڈھونڈ لیں۔ یوتھیا، قومِ یوتھ (قومِ لوط کے وزن پر)، ڈیزلی، جماع۔تی، پٹواری۔۔۔۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے تکلیف ہو رہی ہے لیکن نام لینا ضروری ہے تا کہ ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں۔

بھینگا، تیلا پہلوان، وغیرہ سب برے نام ہی ہیں جو کسی کی برائی کو نمایاں کرنے کے لئے رکھے جاتے ہیں لیکن بالخصوص فرمایا: “کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے” اور ہمارا یہ حال یہ جو دینی سکالر پسند نہ ہو، جو سیاسی اختلاف رکھتا ہو، اسکو تو فورا دائرہ اسلام سے باہر دھکا دو۔ مومن ایک جسم کی مانند ہیں۔ کیا کوئی اپنے ہی جسم کو یوں عیب لگاتا ہے؟ اور جب آپ اپنے جسم کو خود ہی عیب لگائیں تو عیب دار تو پھر آپ خود بھی ہوئے! دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے کے اپنے ہاتھ بھی صاف نہیں رہتے۔

جو ہو گیا، وہ تو پلٹ نہیں سکتا۔ ہاں توبہ کی جا سکتی ہے۔ توبہ کی شرائط پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں:اخلاص ہو، شرمندگی ہو، چھوڑ دیا جائے، دوبارہ نہ دہرانے کا عہد کیا جائے۔ آج کل جب ہم اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی کا ورد کر رہے ہیں، بہتر ہو اپنے گناہوں پر واقعی شرمندہ ہو کر معافی طلب کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں