یقین اور ایمان ہمارا سرمایہ حیات ہے۔ افشاں نوید




ایکسپو سینٹر میں بہت تسلی بخش انتظام تھا ویکسین لگوانے کا۔ ویکسین لگوانے کے بعد سب کو ایک بڑے ہال میں کچھ دیر ٹہرنا ہوتا تھا تاکہ کسی کے ساتھ ایمرجنسی ہو تو بروقت ڈاکٹرز مہیا ہو سکیں۔ کل ہمارے پیچھے بیٹھے ایک صاحب نے ایک گز کے فاصلے پر بیٹھے دوسرے صاحب سے پوچھا”اچھا یہ بتائے مجھے جو ویکسین لگی ہے یہ “یہودی” تو نہیں ہے؟”

اچھے خاصے پڑھے لکھے معلوم ہوتے تھے سائل!!! اس پر دائیں بیٹھے ہوئے صاحب نے لطف لیتے ہوئے جواب دیا ” ارے نہیں جناب! آپ کو “خالص مسلم” ویکسین لگی ہے۔ اس پر وہ الجھے ہوئے انداز میں بولے “بیماروں کو دی جاتی ہے دوا، کمپنی نے سب کے لئے لازم کیوں کی ہے سمجھ میں نہیں آرہا؟ دنیا کہاں جا رہی ہیں کیا سازشیں ہو رہی ہیں ہمارے خلاف.” وہ ادھیڑ عمر کے شریف النفس جس خوف اور بے اعتمادی کا شکار تھے ہم من حیث القوم اسی نفسیاتی کیفیت میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ آپ سوچیں ایک خوف زدہ اور بے اعتماد انسان کیا کوئی ڈھنگ کا کام کر سکتا ہے۔ اسرائیل ہی مسلمانوں کو کمزور نہیں کررہا۔مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے دشمن ہمیشہ امپورٹڈ ہی نہیں ہوتے۔۔۔ ہم اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے چوکنا رہیں۔ شر کا علم ہونا خود ایمان کی علامت ہے۔ اب مسلمانوں نے جوش و خروش سے روزے رکھے۔ نمازیں پڑھیں۔ معتکفین سے چاند رات کی خوشی کوئی پوچھے۔ رمضان روحانی طور پر مسلمان کو اتنا بلند کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ عید رمضان کا تحفہ ہے۔ روز عید آپ سے کہا جائے کہ آج عید نہیں ہے تیسواں روزہ ہے۔خیر آپ عید تو منا لیں۔ ایک روزہ قضا رکھ لیجئے گا۔ عید پر ہماری گفتگو کے بہت سارے صحت مندعنوانات ہو سکتے تھے۔ مگر لوگ اپنی چھتوں سے چاند کی تصویریں کھینچ کر اپنی وال پر لگا کر پوچھتے رہے بتائیں پہلے یہ پہلی کا چاند ہے یا دوسری تاریخ کا۔۔

گھر کی ماسیاں تک اسی موضوع پر بات کرتی رہیں۔۔ زندہ قوموں کےرویے بھی صحت مند ہوتے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں بیمار سوچیں دے کر ہمارے اعصاب مضمحل کیا جا رہے ہیں۔ رات سات بجے سے بارہ بجے تک الیکٹرانک میڈیا پاکستان کا کیسا چیچک زدہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔اچھے اچھے اہل دانش حصہ بن جاتے ہیں ان موضوعات کا ۔گویا ہم گیند آنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ہر گیند کے پیچھے ہاکی لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔۔ اب عوام اس کو شک میں ڈال دیا گیا کہ پاکستان نے امریکہ کو اڈے فراہم کر دیے ہیں۔ اپوزیشن حکومتی اقدامات پر قوم کو ہمہ وقت شک میں ڈالتی ہے۔ ریاستی ادارے عدلیہ کے اوپر وہ بحث کر رہے ہیں کہ اب کوئی وفا کے قابل ہی نہیں رہا گویا۔۔۔ اسی لیے اب شک کرنا ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شک کرتی ہیں۔ ہر سیاست دان دوسرے کو مشکوک ٹہرا رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وسوسہ شیطان ڈالتا ہے۔اس سے خدا کی پناہ مانگیں۔ کوئی تقریب میں ہم سے بڑھ کر مل لے تو شک کرتے ہیں کہ شائد ہمارے بیٹے یا بیٹی سے رشتے کا خواہشمند ہے۔ ہمارے بیٹے کی اچھی پوسٹ ہے شائد ان کا بیٹا بے روزگار ہوگا۔۔ جو تقریب میں ہم سے نہ ملے اس پر شک کرتے ہیں کہ ہمارے حاسدین میں سے ہے۔۔۔ اس شک کی بہت بڑی وجہ ہمارے غیر ذمہ دارانہ رویے ہیں۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ” ویکسینیشن کے دو سال بعد انتقال ہو جائے گا” یہ لغو پوسٹ لاکھوں دفعہ شئیر ہوئی۔ ہم محض دل لگی کے لیے افواہیں فاروڈ کرتے رہتے ہیں۔ ہم ابھی تک یہی ماننے کو تیار نہیں کہ کرونا بیماری ہے۔۔ دنیا بھر کی دانش کام آئی تو ویکسین تیار ہوئی۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ جسم میں “چپ” ڈالی جارہی ہے۔جہاں ہمارے خیالات بھی اغیار کے کنٹرول میں آ جائیں گے۔ جتنا کچھ اغیار کے کنٹرول میں آ چکا ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جو کچھ کنٹرول میں جا چکا اس کی واپسی کیسے ممکن بنائیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کریں اس چار انچ کی اسکرین کے ذریعے آپ کے اوقات جو زندگی تھے،کسی کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔۔ وقت ہے پروایکٹو ایجنڈے کا۔ ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کا۔ خوف سے نکلیں.. افواھوں کو پھیلانے میں حصہ دار نہ بنیں۔ اعتماد سے جئیں.. یقین اور ایمان ہمارا سرمایہ حیات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں