” نی تیرے ہتھ ٹٹے نی ” اسریٰ غوری




” نی تیرے ہتھ ٹٹے نی ”
تین دن سے اودھم مچتا دیکھتی جارہی ۔۔۔۔ اور سوچتی جارہی ۔۔۔۔ بس اک ” پتھر ” ہماری مضبوط دینی ، اخلاقی اقدار سے لیکر خاندانی نظام پر زعم کرتی ساری بھرم بازیوں کو زمیں بوس کرتا کیوں دکھائی دے رہا ۔۔۔۔ پتھر پھینکنے والی کو ہماری دہائی دیتی زبانیں ۔۔۔۔

” نی تیرے ہتھ ٹٹے نی تو ساڈے گھر دی بنیاد ہلا چھوڑی ” جیسے کوستی ہر دوسری وال ۔۔۔۔۔۔ ( میں ہر گز برائی کے خلاف آواز بلند کے خلاف نہیں )
آہ ۔۔۔ ایسے میں رہ رہ کر یہ خیال ستا رہا کہ سوال پتھر پھینکنے والے سے زیادہ تو ان بنیادوں کو کمزور ریت کا ڈھیر جیسی ہوجانے پر سوال اٹھنا بنتا ہے نا کہ جس کی بنیاد کی مضبوطی میں اک نہیں کئی مرکب تھے ۔۔۔ سب سے پہلے کائنات کے رب کا حکم جس کی ایسی کھلی حکم عدولی کے علی اعلان اظہار کا اب تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ پھر اخلاقی قدر اسقدر مضبوط تھی کہ کوئی ایسا گناہ اگر کبھی کر بھی جاتا تو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔ پھر خاندانی نظام کہ جس پر ہم مغرب کو ہاتھ اٹھا اٹھا کر طعنے دیتے کہ انکا تو کوئی خاندانی نظام ہے ہی نہیں ۔۔۔۔
ہمارا نظام دیکھو کیسے خوبصورت رشتے ، کیسی محبتیں ، کیسے اکائی ہے کہ جس نے ہمیں اک پاکیزہ معاشرہ دیا ۔۔۔۔۔۔
سوچے جارہی کہ ایسا کیا ہوا کہ یہ سب بس اک پتھر نے ہلا مارا ۔۔۔۔۔

پتھر پھینکنے والی پر بہت بات ہوچکی اب کچھ بات اپنی بنیاد کی کمزوریوں پر ہوجائے تاکہ اگلا کوئی پتھر ان بنیادوں کو بلکل ہی نہ ڈھا دے ۔۔۔۔۔
کچھ نکات ہیں ان میں آپ اضافہ کرسکتے ہیں ۔۔۔
1 ۔ کیا ہماری نسل کا رب کائنات سے وہ تعلق نہیں رہا کہ جو اس کی حکم عدولی کے بیان کو یوں ببانگ دہل حمایت کرنے کی جرات ہورہی ؟؟؟
2۔ کیا اخلاقیات کے نام پر جو اک لحاظ اور حیا تھی کیوں اس کا جنازہ نکل چکا ہے اور آج کی نسل کو اسے دفنانے بہت جلدی ہے ؟؟
3 ۔ خاندانی نظام کی وہ اکائی ، خوبصورتی اسکی دلکشی جو ہر صورت قید رکھتی تھی وہ کیا ہوئی ؟؟؟
کیوں وہی خاندانی نظام اب اک تعفن زدہ لاش بنا پڑا سڑ رہا ہے اور ہر کوئی اس کے قریب جانے سے خوفزدہ ؟؟؟
کیوں بھلا ؟؟؟ کچھ تو عوامل رہے ہونگے نا کچھ تو بنیادوں میں ملاوٹ ہوئی ہوگی نا ، کہیں تو چوک ہوئی نا ۔۔۔۔
کہیں تو ماننا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس نسل کا رب سے وہ تعلق ہی نہیں بنا پائے کہ وہ اک عبد اور معبود کے رشتے کو اور اپنی زندگی میں اسکے مقام اور اہمیت کو سمجھ پاتی ۔۔۔۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ آج اسی رب سے کھلی بغاوت کو یہ نسل کہیں چھپے کہیں کھلے ویلکم کرتی نظر آرہی ۔۔۔
ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہم نے اس نسل کی آبیاری میں اخلاقی اقدار کو بیک ورڈ سمجھتے ہوئے۔۔۔۔۔ بولڈ اور سٹریٹ فارورڈ جیسی اصطلاحات کے نیچے دفنا دیا ۔۔۔۔
نتیجہ ۔۔۔۔ آپ کے سامنے ہے کہ اب وہ اسی اخلاقی اقدار کی قبر پر کھڑے بولڈ سے بولڈ اور سٹریٹ فارورڈ کا تمغہ سجائے اعلان کرتے نظر آرہے ہیں ۔۔۔۔
ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہم نے خاندان کی اکائی پر ضرب خود اپنے ہاتھوں لگائی …. وہ خاندان وہ رشتے جو محبتوں کے ضامن ہوا کرتے تھے وہ خود غرض ، موقع پرست ، ہی نہیں بلکہ دھوکہ دہی سے لیکر ۔۔۔۔ ظالم تک کی صورت میں اس نسل کو ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے اسے اس خوبصورت پاکیزہ رشتے سے ہی خوفزدہ کردیا ۔۔۔ آج اگر یہ نسل بغاوت کو ویلکم کرتی دکھائی دے رہی ہے تو اس کی وجوہات تلاش کیجیے صاحب ۔۔۔۔۔ اپنی انرجی جتنا جلد ہوسکے انکا سدباب کرنے میں لگائیے ۔۔۔۔ رب کے تعلق سے لیکر حیا ، اخلاق اور رشتوں کا سکون اور انکی خوبصورتی واپس لوٹانے کی پلاننگ کیجیے ۔۔۔۔ ورنہ ہاتھ کیا جھولیاں اٹھا کر بھی کوستے رہیں گے ” نی تیرے ہتھ ٹٹے نی ” تو بھی آپ کی بنیاد نہیں بچنے والی ۔۔۔۔۔

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies . Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

اپنا تبصرہ بھیجیں