حقوق نسواں اور آزادی نسواں – آمنہ عثمانی




حق سے کیا مراد ہے؟ حق کی تعریف یہ ہے کہ جو چیز انسان کے فائدے کے لیۓ ہوتی ہے وہ حق کہلاتی ہے اور جو اسکے ذمہ عائد ہوتی ہے وہ فرض کہلاتی ہے اور یہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ آزادی سے کیا مراد ہے? آزادی ہر جاندار کا فطری حق ہے, فطری آزادی کے ساتھ ساتھ آزادی کا ایک مفہوم غیروں سے آزاد ہونا اور ایک قوم کی حیثیت سے خود اپنے ملک میں آزاد ہونا بھی ہے,

غرض کہ آزادی کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ”انسان کے لیۓ ان تمام اختیارات کی آزادی جو دوسروں کے لیۓ نقصان کا باعث نہ ہو”
اب بات کرتے ہیں آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے بارے میں ان کے درمیان بہت معمولی فرق ہے جسے سمجھ لیا جاۓ تو بحث ہی ختم ہو جاۓ اسلام میں عورت کو اس کی زندگی کے مختلف درجات میں اس کی فطرت کے مطابق حقوق دیے ہیں . مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں اسکی کی قدر کرنا اسکی عزت کرنا اس سے محبت کرنا اس کی اچھی پرورش کرنا اس کی حفاظت کرنا اس کو اچھی تعلیم دلوانا یہ سب اس کے حق ہیں اور ان حقوق کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتاۓ ہوۓ اصول کے مطابق استعمال کرنا عورت کی آزادی ہے
جب کسی کو اس کا حق نہ دیا جاۓ تب تناؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور مغربی معاشرے میں بھی عورتوں کو ان کے جائز بنیادی حقوق دلوانے کے لیۓ مختلف تنظیمیں بنیں اور ان تنظیموں نے وہاں کی عورتوں پر ہونے والے مظالم کی نشاندہی کی,

پھر آہستہ آہستہ یہ حقوق نسواں کا نعرہ آزادی نسواں کے نعرے میں بدل گیا اس میں شدت پسندی نظر آنے لگی اس کے ذریعہ عورتوں کو مردوں کی غلامی سے نجات دلانے کا تصور پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں مغرب کا خاندانی نظام تباہ ہونا شروع ہوگیا, معاشرتی برائیوں نے تیزی سے جنم لینا شروع کردیا اور اسکے ساتھ ساتھ عورتوں کی سوچ میں جو تبدیلی آئی وہ یہ تھی کہ عورتیں بچوں کی دمہ داری سے جان چھڑانے لگیں جس کے نتیجے میں مغرب کا معاشرہ تباہی کے دھانے ہر پہنچ گیا اور ان سب کے نتیجے میں وہاں کی عورت کو نہ توجائز حقوق ملے اور نہ ہی وہ آزادی مل سکی جسکی وہ خواہاں تھی اور جسکو وہاں آزادی کہا جاتا ہے وہ بھی جنسی خواہشات کے پردے میں لپٹی ہوئی ہے, اور اسی نام نہاد آزادی کے نتیجے میں طلاقوں کی بھرمار, انگنت نفسیاتی مسائل, بے شمار جنسی بیماریاں, خد کشیاں, خاندانی اور سماجی ابتری نے مغرب کو حیوانوں کی سطح سے بھی بہت نیچے گرا دیاہے۔۔۔۔

اپنے معاشرے کو تباہ حال کرنے کے بعد مغرب والوں نے بہت عیاری سے مشرقی عورت خصوصأ اسلامی دنیا کی عورتوں کو بھی اسی گڑھے میں پیھنکنے کی سازش کی جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں بھی آزادی نسواں کی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں تاکہ اسلامی معاشرے میں بھی وہ ہی خرابیاں اور بیماریاں پیدا ہو جائیں جو مغربی معاشرے میں ہیں اسلامی معاشرے میں عورت کا اصل مقام اسکا گھر ہے وہ مرد کو اسکے اخراجات کا ذمہ دار قرار دیتا ہے, اسلامی معاشرے میں عورت کو چراغ خانہ بن کر رہنے کی تلقین کی گئ ہے نہ کہ چراغ محفل, جس طرح مغرب نے آزادی کے نام پر عورت کو اسکے گھر سے نکال کر زبردستی اس کے بچوں سے دور اور محروم کر کے اسے کارخانوں اوردفتروں میں لا بٹھایا اسی طرح مغرب مسلمان عورتوں کو بھی محرومی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں