ہمارا میڈیا اور مسلم معاشرے کا تاریخی پس منظر – نبیلہ جنید




معاشرے کے بناؤ بگاڑ میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور دنیا کے سامنے اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتا ہے اور لوگوں کی ترجیحات پر تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے ۔میڈیامملکت کا چوتھا ستون ہے ۔ اگر میڈیا مثبت کردار ادا کرے تو شبنم کی مانند تر و تازگی پھیلائے گا ۔اور معاشرے پر مثبت اثرات ہونگے اور میڈیا اگر منفی کردار ادا کرے گا تو معاشرے کی اخلاقیات اور تہذیب و ثقافت کے ڈھانچے کو دیمک کی مانند چاٹ جائے گا ۔

ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان جو اسلام کے قیام کے لیے حاصل کیا گیا اور اب مدینے کی ریاست بننے جارہا ہے ۔ یہاں ہر شخص میڈیا کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ۔ آٹے میں نمک کے برابر لوگ ہیں ۔ جو اس سے بچے ہوئے ہیں ۔ یہاں تعلیم مہنگی ہے موبائل سستا ۔ یہاں خوراک مہنگی ہے انٹرنیٹ پیکج سستا ہے ۔ یہاں علاج مہنگا ہے اور بے حیائی سستی ہے۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا انفارمیشن اور ایجوکیشن کو فروغ دینے کے بجائے فرسٹریشن اور ڈپریشن پھیلا رہے ہیں ۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر ضیاء الحق کا دور دیکھیں تو دیکھا جا سکتا ہے ۔ کہ انہوں نے آتے ہی میڈیا کو کنٹرول کیا کہ اب کوئی عورت سر ڈھانکے بغیر میڈیا پر نہیں آئے گی ۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں نیوز کاسٹر بھی سر ڈھانک کر آتی تھیں ۔ اور اس دور کے ڈرامے ( عروسہ اور کسک ) وغیرہ دیکھیں تو کلیوں والے ڈھیلےلمبے کرتے اور بڑے بڑے دوپٹوں سے سر ڈھکے ہوئے نظر آئیں گے۔

یہی فیشن معاشرے میں رائج تھا ۔ پھر ضیاء الحق کی شہادت کے بعد میڈیا نے سر سے دوپٹہ سرکایا ۔ اور دبے پاؤں لوگوں کی ذہن سازی کی ۔ تو ( تنہائیاں اور دھوپ کنارے جیسے ) ڈرامے نظر سے گزرے جن میں لباس ڈھیلے تھے لیکن سر سے دوپٹے اتر چکے تھے ۔ تو معاشرے میں یہی دستور بن گیا خواتین سر ڈھکنے میں شرم محسوس کرنے لگیں ۔ پھر نئی صدی میں قدم رکھتے ہی میڈیا نے تیزی سے کروٹ بدلی لباس تنگ اور اونچا کر دیا اور آستینیں آدھی ہو گئیں ۔ تو بازاروں سے پوری آستین کے کپڑے غائب ہوگئے ۔ لوگ لمبے ڈیلی اور پوری آستین کے کپڑے پہنتے ہوئے شرمانے لگے کہ جیسے پرانے کپڑے پہن لئے ہوں ۔ پھر میڈیا بالکل ہی آزاد ہو گیا اور میڈیا سے آستینیں ہی غائب ہوگئیں اور بازاروں میں آستین کے بغیر کپڑے ملنے لگے۔آستین کی جگہ دھجی پن سے لگا کر دی جانے لگی کہ لوگ مشقت میں آکر یہ بھی لگانا چھوڑ دیں ۔ پھر میڈیا نے دوپٹے ہی غائب کر دیئے ۔

تو دیکھا جا سکتا ہے فیس بک (جو کہ آئینہ کی طرح ہے ) پر معاشرے کے عام لوگ اپنی تصویریں اور ویڈیوز بغیر دوپٹے کے اپ لوڈ کر دیتے ہیں ۔ گھر کے اندر اور باہر میں کوئی فرق ہی نہیں رہا چار دیواری کا تقدس پامال ہو گیا ۔ اور اب تو میڈیا پر لباس کو بھی اپنے آپ کو لباس کہتے ہوئے شرم آنے لگی ہے ۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کوئی تہذیب و ثقافت نہیں ہے ؟ ہمارا میڈیا جو ہنس کی چال چل رہا ہے میوزک اور مورتیوں کے ذریعے غیرملکی ثقافت ہمارے معاشرے پر مسلط کر رہا ہے ۔ ڈراموں میں شادیوں میں مرد عورت بچے بوڑھے دلہن دولہا سب کو ساتھ ناچتے ہوئے دکھایا جارہا ہے ۔ اب جس شادی میں جاؤ تو سب ایک ساتھ ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یہی زمانے کا دستور بن گیا ہے ۔ ٹاک شو میں سیاسی لڑائیاں اور مارننگ شو میں بیہودہ شادیاں اور طلاقیں دیکھائی جا رہی ہیں

پڑوسی ملک کی طرح گھٹیا اسکرپٹ ، ذومعنی ڈائیلاگ ، بیہودہ کامیڈی ، سازش ، مکاریاں ، محترم رشتوں کی بے حرمتی دکھا کر ساری حدیں پار کر دی گئیں ہیں ۔ ایک ڈرامے میں تو مختاراں مائی کو ایک عظیم عورت کے طور پر متعارف کرایا گیا ۔ کہ امیر بننے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا یہ بھی ایک آسان طریقہ ہے ۔ رشتوں کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔ہماری نسل بالی وڈ اور ہالی وڈ کے نشے میں ڈوبی ہوئی ہے اور پڑوسی ملک ہمارے بچوں کو اپنا کلچر ، عبادات ، رسومات اور اپنی زبان گھول کر پلا رہا ہے ان کی نہ ختم ہونے والی سیریز ہیں جو بچے دیکھ رہے ہیں ۔ ہماری قوم خاموش تماشائی بنی اپنے نسلوں کو اس دلدل میں دھکیل رہی ہے ۔ کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے ۔ جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے ۔ ہمارے پاس بچوں کے لئے کچھ نہیں ہے نہ ہی کوئی تعلیمی نہ معلوماتی اور نہ ہی کوئی اصلاحی پروگرام ہیں ۔

ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی ڈرامہ ارتغل کو متعارف کرایا جو کہ خوش آئند ہے ۔ اس ڈرامے میں اسلامی اقدار اور روایات اخلاقیات اور نظام عدل کا پرچار کیا گیا ہے ۔ جو کہ مسلم معاشرے کیلئے بہتری کا باعث ہو سکتا ہے ۔ اس پر لوگوں نے بہت اعتراض کیا بہت شور مچایا اور فتوے آنے لگے ۔ ترکی ایک سیکولر ریاست ہے اس سے پہلے بھی ہمارے میڈیا پر ترکی کے حیا سوز ڈرامے دکھائے جاتے رہے ہیں لیکن لوگ خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے ۔ دراصل یہ میڈیا کا دور ہے جس میں ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔ہمیں دوسروں کو نہیں بلکہ اپنے میڈیا کو سدھارنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس بگاڑ سے بچ سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں