ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی – سمیرا امام




ہم اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو ایسے دانشور نظر آتے ہیں جو دقیق مسائل کا انبار لگا دیتے ہیں اور پھر خود ہی اعلامیہ جاری فرماتے ہیں کہ یہ جدید دنیا کے مسائل ہیں اور انکا حل فقط مغرب کے پاس ہے اسلام انکا حل دینے سے قاصر ہے وغیرہ وغیرہ۔۔

اگر ان مغرب پسند دانشوروں سے پوچھا جائے کہ وہ اسلام کو کتنا جانتے اور کتنا سمجھتے ہیں تو وہ آپکو کسی مسجد کے مؤذن یا کسی مدرسے کے فارغ التحصیل مُلا کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھیے ان فلاں مولانا صاحب سے بحث ہوئی اور اُن فلاں قاری صاحب سے مناظرہ ہوا ( اب مولانا اور قاری چاہے ان معاملات کے ایکسپرٹ نہ ہوں) وہ حل پیش نہ فرما سکے ۔۔خود تو محترم اسلام کے نام پہ فقط اتنا ہی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کا نازل کردہ وہ نظام ہے جو مغرب کو پسند نہیں اب چونکہ مغرب کو ہی عقل کل سمجھتے ہیں اور ان کے فرمان کو نص سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو جو انھیں پسند نہیں ہوتا وہ ایسے دانشوروں کو بھی پسند نہیں . یہ ذہنی ابتری کے شکار وہ دانشور ہیں جو اپنی پہچان بھول کر سنگ مر مر پہ چلنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے ہیں ۔ یہ دین کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے ہیں کیونکہ اسلام ان کو سکوں کی جھنکار نہیں سناتا بلکہ آزمائش کی بھٹی سے گزرنے کی بابت کہتا ہے ۔

اسلام ان سے شراب طہور کا وعدہ کرتا ہے لیکن اسکی قیمت نفس کو لگام دینا ہے جبکہ مغرب انھیں مسلمان اور اسلام کو برا بھلا کہنے پر اسی دنیا میں بہک جانے کے مواقع فراہم کرتا ہے یہ وہ سرکش ہیں جو دنیا کے تھوڑے کو بہت جان کر اپنی عاقبت کے در پے ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اسلام سے جان چھڑا لینے میں ہی دنیا کے مزے ہیں یہ بھی انکی خام خیالی ہے لیکن یہ اس سے باہر آنے کو تیار نہیں . جب یہ جدید مسائل اور انکے حل کی بات کرتے ہیں تو اپنے تئیں عقل کل ہونے کا یقین کرلیتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں وہی درست ہے۔۔مبینہ مسائل کا حل چونکہ ان کے پاس نہیں ہوتا لہذا اپنی لا علمی اور کم عقلی کے سبب: یہ اسے اسلام کی خامی سمجھتے ہیں . اسلام نے قیامت تک آنے والے تمام مسائل کا حل قرآن میں پیش کر دیا ہے اب ان سے کوئی پوچھے کبھی قرآن کھولا بھی ہے۔ انکی مثال تو ان شیاطین کی سی ہے جو آسمانوں تک جا کے کان لگا کے سننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہاں کیا فیصلے ہو رہے ہیں اور ادھوری بات سن کر شہاب ثاقب کے وار سے بچنے کے لیے واپس دنیا میں دوڑے آتے ہیں اور اس ادھوری بات کے سبب دنیا میں لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں .

یہ دانشور بھی دین کی بات کو ادھر ادھر سے سن کر اپنی مرضی کا مفہوم پہنا لیتے ہیں اور اسے ہی درست سمجھتے ہیں . ہماری آنکھ میں درد ہو تو آئی اسپیشلسٹ سے چیک کرواتے ہیں کان میں درد ہو تو ای این ٹی کے پاس جاتے ہیں دل کے لیے دل کے سرجن کو ڈھونڈتے ہیں ہڈیوں کامسئلہ ہو تو آرتھو پیڈک چاہیے ایک جسم لیکن ہر ہر عضو کا اسپیشلسٹ الگ ۔ لیکن جب بات آئے دین کی تو مُلا پہ غصہ نکال کے حق ادا کر دیتے ہیں۔۔دین کو سمجھنے کے لیے فقط مُلا ہی کافی نہیں ہے۔ درحقیقت اس مُلائیت کے بھی درجے ہیں۔ مسائل کی بابت سوال کرنا ہے تو فقیہہ اور مجتھد سے رابطے کی ضرورت ہے۔ اب مسائل کی بھی الگ الگ نوعیت ہے۔ ہمیں اگر کوئی مقدمہ درپیش ہے تو دیوانی مقدمے کا وکیل الگ ۔ فوجداری کا الگ فیملی کورٹ الگ ۔ یہی درجات دین میں بھی موجود ہیں۔ جن لوگوں کی طبیعت میں فتنہ ہے تو وہ فوجداری والے عالم سے فیملی کورٹ کامسئلہ پوچھیں گے اور جنائیات ۔۔۔۔ کی بابت سوال دیوانی مقدمات کے اسپیشلسٹ سے پوچھیں بے۔

اگر وہ بے چارہ علم نہ رکھتا ہو تو کہیں گے دیکھا اسلام کے پاس حل نہیں۔ جناب اسلام کے پاس حل ہے آپکے پاس عقل نہیں کہ کس علم کا عالم کون ہے۔۔اورويسے بھي آپ کونسا حق تک پہنچنا چاہتے ہیں آپ تو اعتراض کے لیے نکتہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ جواب ملنے کےبعد بھی گمراہی آپکا مقدر رہے گی . جیسے مسائل کے عالم فقہاء ہیں ویسے ہی حدیث کے عالم محدث ہیں ۔ قران کے عالم مفسر ہیں ۔ ہر علم کا مخصوص عالم ہے۔ دین کوئی دو جمع دو کا پہاڑہ نہیں کہ سب کو دو دونی چار رٹا ہوا ہو ۔ دین اسلام ہی تمام علوم کا مآخذ ہے یہ دین ایک بحر بیکراں ہے جس کی متعدد شاخیں ہیں . جب بچہ جماعت نہم اور دہم میں بائیولوجی،فزکس،کیمسٹری کو جاننے کی ابتداء کرتا ہے تو پہلے ہی سبق میں ان مضامین کی شاخوں کی بابت بتلا دیا جاتا ہے ۔ یہی حال دین کے علم کا ہے۔ لیکن یہ مغرب سے متاثر دانشور کنوئیں کے وہ مینڈک ہیں جو کنوئیں کے اندر ہی سے سمندر کی گہرائی کے اندازے لگاتے ہیں ۔

انھوں نے سمندر کو کبھی دیکھا تک نہیں ہوتا ۔ ظاہر سی بات ہے جس شے کو دیکھا نہ ہو اسکا تصور بھلا کیونکر ممکن ہے لہذا ان کے لیے بھی دین کےبحر بیکراں جیسے علم کا تصور ممکن نہیں انکا کام ٹرانا ہے انکے ٹرانے سے اسلام پہ کوئی آنچ نہ پہلے کبھی آئی نہ کبھی آئے گی دشمنان اسلام کا موجود ہونا کوئی نئی بات نہیں یہ پیغمبروں کے دور میں بھی رہے ہیں یہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ ابلیس نے اپنے اور اپنے قبیلے کیلئے قیامت تک اللہ سے مہلت لے رکھی ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں