بنگلادیشی حکومت کے ناقد کی دوران حراست ہلاکت‘ مظاہرے شروع







ڈھاکا: بنگلادیش میں حکومت کے ناقد کی جیل میں ہلاکت کے خلاف شہری احتجاج کے دوران غائبانہ نماز جنازہ ادا کررہے ہیں‘ چھوٹی تصویر بلاگر مشتاق احمد کی ہے

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش میں حکومت کے ناقد کی دوران حراست ہلاکت پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ خبررساں اداروں کے مطابق 53سالہ مشتاق احمد ایک لکھاری اور سوشل میڈیا بلاگر تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پرریاست مخالف سرگرمیوں اور افواہیں پھیلانے کا مرتکب ہوا۔ اسے غازی پور کی کاشم پور جیل میں رکھا گیا تھا۔ جمعرات کے روز اسے طبیعت بگڑنے پر جیل کے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز ڈھاکا میں صبح سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مشتاق احمد کو دوران حراست انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ 9ماہ تک حراست کے دوران حکومت نے انہوں بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا۔





اپنا تبصرہ بھیجیں