کرونا خاتمے کے حوالے سے بڑی پیش گوئی –




نیویارک: ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے کرونا وبا کے خاتمے کے حوالے سے نئی پیش گوئی کردی۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ’کرونا ویکسین کی جلد تیاری کرشمہ ہے مگر تمام ممالک کو اس کی عدم فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے حالات معمول کے مطابق نہیں ہوں گے‘۔

بل گیٹس نے پیش گوئی کی کہ ’اگر دنیا کے تمام ممالک کو کرونا ویکسین کی مناسب خوراکیں بروقت فراہم کردی گئیں تو 2022 کے آخر تک حالات 2019 کی طرح معمول پر آجائیں گے‘۔

مائیکروسافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ ’امریکی حکومت کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا میں رواں سال موسمِ خزاں تک صورت حال بہت بہتر ہوجائے گی البتہ حالات معمول پر آنے میں مزید ایک سال لگے گا’۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس : بل گیٹس نے امیر ممالک کو خوشخبری سنا دی

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ’رواں سال کے آخر تک امریکا میں اسکولوں سمیت تمام تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں جبکہ ریسٹورنٹس، کھیلوں کے میدانوں کو بھی کسی حد تک کھول دیا جائے گا‘۔

اس موقع پر بل گیٹس نے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی سطح پر وبا کے خاتمے کے لیے اُس طرح اقدامات نہیں کیے گئے جس طرح کام ہونا چاہیے تھا، سب سے بڑا ویکسنز کی تمام ممالک کو فراہمی ہے کیونکہ ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا، اگر امیر ممالک نے ویکسین کو خود تک محدود رکھا تو ووائرس پھیل سے زیادہ متعدی اور خطرناک ہوسکتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس : اب کیا ہونے والا ہے ؟ بل گیٹس کی چند پیشگوئیاں

مائیکروسافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں وائرس دوبارہ پھیلنے کے خطرے پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ کرونا کی نئی قسم پہلے سے زیادہ خطرناک ہے جس کی رپورٹ میں تشخیص ہوتی اور نہ ہی علامات ظاہر ہوتی ہیں‘۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں