مدفن لڑکی کی لاش نکالنے پر میانمار کے حکام پر تنقید –




میانمار : حکومت مخالف مظاہرے میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکی کی لاش کی بے حرمتی پر حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ میانمار کے حکام کو ایک 19 سالہ لڑکی کی دفن شدہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نکالنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ اس لڑکی کو فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

انیس سالہ چے سِن نامی لڑکی کو میانمار کے دوسرے بڑے شہر مَندالے میں بدھ کے روز ایک مظاہرے کے دوران سر پر گولی ماری گئی تھی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔

ایک گواہ نے میڈیا کو بتایا کہ جس وقت اُس لڑکی کو گولی ماری گئی، وہ پولیس کے سامنے موجود مظاہرین کے ہجوم کو ہدایات دے رہی تھی۔

اگلے دن اُس کی تدفین کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ اُس کی ہلاکت کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی، میڈیا میں رپورٹنگ کے باعث وہ احتجاجی مہم کا ایک استعارہ بن گئی، اکثر موقعوں پر کئی افراد کو اس کی تصویر اٹھائے مظاہرہ کرتے بھی دیکھا گیا۔

بعد ازاں اُس لڑکی کی مَندالے کے ایک قبرستان میں تدفین کردی گئی تاہم سرکاری ٹی وی کے مطابق پولیس نے عدالت کی اجازت سے اس کی لاش قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجا تھا۔

ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کی کھوپڑی سے ملنے والا سیسہ پولیس کی گولیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اسے پولیس کی جانب سے گولی نہیں ماری گئی۔

سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے لاش کو قبر سے نکال کر اس کے پوسٹ مارٹم کو دہشت ناک عمل قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں