ہیری اور میگھن کے انٹرویو پر طوفان کھڑا ہوگیا –




برطانیہ کے شاہی خاندان سے علیحدہ ہوجانے والے جوڑے شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگھن مرکل کے تہلکہ خیز انٹرویو نے طوفان کھڑا کردیا ہے، ایک طرف تو میگھن کی ہمت کی داد دی جارہی ہے، تو دوسری طرف انہیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔

جوڑے نے معروف امریکی ٹی وی میزبان اوپرا ونفرے کو اپنا انٹرویو دیا تھا جو اتوار کی شب نشر کیا گیا، اس انٹرویو میں میگھن مرکل نے کھل کے شاہی خاندان کے کئی راز افشا کردیے۔

جوڑے نے شاہی خاندان کے ساتھ اور اس کے عین درمیان میں رہتے ہوئے روز مرہ کی زندگی کے تجربات کو بہت تلخ قرار دیا۔ ان دونوں کا کہنا تھا کہ وہ شاہی خاندان کی زندگی سے اس قدر نالاں تھے کہ انہوں نے شاہی طرز زندگی ترک کر کے امریکا میں آباد ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انٹرویو برطانوی شاہی خاندان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

شہزادے اور ان کی اہلیہ کے اس انٹرویو میں دیے گئے بیانات پر معروف شخصیات، سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں سبھی نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

دونوں کے اس انٹرویو کو امریکا میں عمومی طور پر سراہا گیا ہے اور اس جوڑے کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا، اکثریت نے شاہی خاندان کے چھوڑنے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔

معروف امریکی ٹینس اسٹار سیرینا ولیمز نے میگھن مرکل کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اپنی بے لوث دوست قرار دیا۔ سیرینا کا کہنا تھا کہ وہ مجھے روز ایک نیک انسان کی زندگی کا درس دیتی ہے۔ میگھن کے الفاظ اس پر گزرنے والے ظلم اور اسے پہنچنے والے دکھ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

معروف شاعرہ اور سماجی کارکن امینڈا گورمن نے کہا کہ میگھن کی شکل میں شاہی خاندان نے معاشرے میں تبدیلی، تخلیق نو اور مفاہمت لانے کا ایک سنہری موقع کھو دیا ہے۔

سیاہ فام شہریوں کے حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی بیٹی بیرونیس کنگ نے میگھن مرکل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاہانہ اقدار تباہ کاریوں اور نسل پرستی سے پیدا ہونے والی مایوسی اور نا امیدی کے خلاف ڈھال کی حیثیت نہیں رکھتی۔

دوسری جانب برطانیہ میں دونوں کے اس انٹرویو پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک معروف براڈ کاسٹر پیئرس مورگن نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ یہ انٹرویو برطانوی شاہی خاندان کی سخت تذلیل، ملکہ اور شاہی خاندان کے ساتھ سراسر دھوکہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میگھن کے بیانات لغو اور تخریبی ہیں۔ انہوں نے اپنے مفاد کے لیے اس قسم کی احمقانہ باتیں کیں مگر مجھے تعجب ہیری کے رویے پر ہے۔ انہوں نے میگھن کو یہ سب کچھ کہنے کیسے دیا؟ یہ ان کے خاندان کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔

برطانیہ کی ایک وزیر وکی فورڈ نے میگھن کی طرف سے نسل پرستانہ رویے کا شکار ہونے کی شکایات سامنے آنے پر کہا کہ ہمارے معاشرے میں نسل پرستی کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے تو کوئی بیان نہیں دیا جائے گا، البتہ شاہی خاندان کی جانب سے بھی تاحال اس پر کوئی تبصرہ یا وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

ماہرین کے مطابق چونکہ جوڑے نے شاہی خاندان کی کسی خاص شخصیت کا نام لینے سے گریز کیا ہے، لہٰذا شاہی محل بھی چپ سادھے ہوئے ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں