امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ قتل کیس میں اہم پیشرفت –




جارج فلائیڈ اور ان کی فیملی

نیو یارک : امریکی پولیس اہلکاروں‌ کے ہاتھوں قتل ہونے والے سیاہ فام باشندے کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، مقتول جارج فلائیڈ کے اہل خانہ نے بڑی رقم کے عوض منیا پولِس سٹی کونسل سے تصفیہ کرلیا۔

اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق منیا پولِس سٹی کونسل اور جارج فلائیڈ کے اہلخانہ کے تصفیے میں جارج کے اہلخانہ کو 27 ملین ڈالرز کی رقم ادا کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق جارج کے قتل میں نامزد منیا پولِس پولیس کے سابق افسر کے ٹرائل کے لیے جیوری تشکیل دی جارہی ہے جس میں 29 مارچ سے شروع ہونے والی سماعت کے لیے 12 میں سے 6 ججوں کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کا بتانا ہے کہ ریاست منی سوٹا کے شہر منیا پولِس کی سٹی کونسل نے جارج فلائیڈ کے کیس میں متفقہ طور پر پری ٹرائل تصفیے کی منظوری دی جو ریاست منی سوٹا میں اب تک پری ٹرائل کا سب سے بڑا تصفیہ ہے۔

سٹی کونسل سے تصفیے کے بعد جارج کے اہلخانہ کے وکلا کا کہنا تھا کہ جارج کے قتل کی ویڈیو نے تبدیلی اور انصاف کا ناقابل تردید مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک انتہائی غلط موت کے کیس میں سب سے بڑا پری ٹرائل تصفیہ ہمیشہ سیاہ فاموں کو ایک طاقتور پیغام دے گا کہ سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی معنی رکھتی ہیں اس لیے نسلی بنیاد پر لوگوں کے خلاف پولیس کا ظلم ختم ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ 25 مئی کو امریکی پولیس اہلکاروں‌ نے ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کا گلا گھونٹ کر اسے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا تھا جس کے بعد پورے ملک میں ہنگامے اور پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں