دنیا کی پہلی بچی کی پیدائش جس پر کرونا بے اثر ہے –




فلوریڈا: امریکا میں ایک ایسی بچی کا جنم ہوا ہے جس کے خون میں کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز موجود ہیں، اس حوالے سے اس بچی کو دنیا کی پہلی نوزائیدہ بچی قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کے علاقے پام بیچ کاؤنٹی میں رواں برس جنوری کے آخر میں پیدا ہونے والی بچی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کی پہلی بچی ہے جو کو وِڈ 19 کے اینٹی باڈیز کے ساتھ پیدا ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بچی کی ماں کو دوران حمل کرونا وائرس کے خلاف ویکسین لگائی گئی تھی۔

پام بیچ کے مقامی ماہرین امراض اطفال ڈاکٹر پال گلبرٹ اور ڈاکٹر چاڈ روڈنِک نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے علم کے مطابق یہ ایسی پہلی بچی ہے، اور اس کی ماں ایک فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکر ہے، جنھیں 36 ہفتوں کے حمل کے وقت موڈرنا ویکسین دی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے بعد اس کے آنول نال سے خون کا نمونہ لیا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ماں سے بچی کو اینٹی باڈیز منتقل ہوئی ہیں یا نہیں، کیوں کہ حمل کے دوران دوسری ویکسینز میں بھی ایسا ہوتا ہے، خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ بچی میں نئے کرونا وائرس کے اینٹی باڈیز موجود ہیں۔

اسرائیل میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وائرس کے خلاف ویکسین لینی والی حاملہ خواتین اپنے بچوں کو بھی یہ تحفظ منتقل کر دیتی ہیں۔ یروشلم یونی ورسٹی کی تحقیق میں فروری میں ایسی 20 حاملہ خواتین کو فائزر کی ویکسین دی گئی تھی، اور ان سب کے بچوں میں پلیسینٹا (آنول نال) کے ذریعے اینٹی باڈیز منتقل ہوئیں۔

تاہم گلبرٹ اور روڈنِک کا کہنا ہے کہ ویکسین لینے والی ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو پھر بھی کرونا وائرس انفیکشن کا خطرہ لاحق رہتا ہے، اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے کہ ایسے بچوں کو کتنے عرصے تک تحفظ فراہم ہوتا ہے، نیز یہ بھی تعین کرنا ہے کہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خون میں کتنے اینٹی باڈیز کا ہونا ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ فائزر کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک تحقیقی مطالعے کے لیے 4 ہزار حاملہ خواتین کو کلینکل ٹرائل کے لیے رجسٹرڈ کرے گی، تاکہ ان پر کرونا ویکسین کے اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں