What is the position of the Saudi Air Force in terms of military capabilities?







ریاض: سعودی فضائیہ نے فوجی قابلیت کے معاملے میں تمام عرب ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کی جاری رپورٹس کے مطابق سعودی فضائیہ کے پاس مختلف قسم کے 889 جنگی طیارے ہیں اور ان میں سے 279 لڑاکا ، 81 حملہ آور اور 258 ہیلی کاپٹر ہیں ، جن میں سے 34 حملہ آور ہیلی کاپٹر ہیں جبکہ 186 طیارے جنگی تربیت اور 50 طیارے فضائی نقل و حمل کے لیے ہیں۔

واضح رہے ایف 15 ایگل طیاروں کو سعودی فضائیہ کا اہم ہتھیار تصور کیا جاتا ہے اور دشمن پر اندر تک جاکر اسٹرٹیجک ٹھکانوں پر حملہ کرکے واپس آسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سعودی فضائیہ کے پاس ٹورنیڈو طیارے ہیں اور یہ کثیر المقاصد جنگی طیارے ہیں اور متعدد خصوصیات کے مالک ہیں جبکہ یہ حملہ آور دشمن کے تعاقب کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نچلی پرواز کرسکتے ہیں اور ان کی آواز سے زیادہ تیز رفتار ہوتی ہے۔

سعودی فضائیہ کے پاس آئی ایچ 64 اپاچی ہیلی کاپٹر ہیں، یہ امریکی فوج کے اہم لڑاکا ہیلی کاپٹر مانے جاتے ہیں،ہر طرح کے موسم میں حملہ کرسکتے ہیں اور شدید معرکوں میں بہترین کام کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگی طیاروں اور تجربہ کار ہوابازوں کے لحاظ سے سعودی عرب پوری عرب دنیا میں پہلی پوزیشن جبکہ فضائی استعداد کے حوالے سے 139 ممالک میں بارہویں پوزیشن اور جنگی طیاروں کی طاقت کے حوالے سے دنیا میں نویں پوزیشن پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلح افواج پر سالانہ بجٹ کے حوالے سے سعودی عرب دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور سعودی عرب نے فوج کو جدید تر بنانے کے لیے 175 ارب ریال کا بجٹ مخصوص کیا ہوا ہے۔





اپنا تبصرہ بھیجیں