دل سے دلی: امریکہ کے غلام




بدھ 24 مارچ 2021 5:47

معصوم دہلوی -نئی دہلی

کمبھ کے میلے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں (فوٹو: گیٹی امیجز)

اگر ہندوستان کی شمالی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ کی مانیں تو امریکہ نے دو سو سال تک انڈیا کو غلام بنا کر رکھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی۔
ایک دو سال کی بات ہوتی تو سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس زمانے میں کمیونی کیشن کا نظام اتنا اچھا نہیں تھا۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ اٹھارہویں صدی میں واٹس ایپ نہیں تھا، اس لیے ہوسکتا ہے کہ خبر پھیلنے میں دیر ہو گئی ہو اور تب تک امریکہ کو بھی معلوم ہو گیا ہو کہ یہاں تو کوئی دوسرا ملک پہلے سے حکمرانی کر رہا ہے، اس لیے وہ لوٹ گیا ہو، ورنہ امریکہ کے سامنے کس کی چلتی ہے؟

اب تاریخ کا ذکر آ ہی گیا ہے تو یہ سچ نہیں ہے کہ امریکہ کے سامنے کبھی کسی کی نہیں چلتی تھی۔ اٹھارہویں صدی میں امریکہ خود بھی غلام تھا اور وہاں برطانیہ کی تیرہ کالونیاں تھیں۔ ان کالونیوں نے متحد ہو کر 1776 میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور آخرکار 1781 میں برطانوی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے والا امریکہ پہلا ملک تھا۔
بہرحال یہ بھی ہو سکتا ہےکہ وزیراعلیٰ صاحب کو لگتا ہو کہ سب گورے سات سمندر پار ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں اور یہ بس ہم جنوبی ایشیا کے لوگ ہی ہیں جو آپس میں لڑتے رہتے ہیں، لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کی بات ماننا ضروری نہیں ہے۔

اٹھارہویں صدی میں امریکہ خود بھی غلام تھا اور وہاں برطانیہ کی تیرہ کالونیاں تھیں (فوٹو: اولڈ امریکہ)
اگر ہوتا تو بس یوں سمجھ لیجیے کہ مشکل ہو جاتی کیونکہ آج کل وہ زبردست فارم ہیں اور روزانہ کوئی ایسی بات کہہ ڈالتے ہیں جو اخبار والوں کو مجبوراً فرنٹ پیج پر چھاپنا پڑتی ہے۔
ہمارے خیال میں ان کی زیادہ غلطی بھی نہیں ہے کیونکہ وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالے ہوئے انہیں دو تین ہفتے ہی ہوئے ہیں۔ بہت کچھ ابھی سیکھنا باقی ہے لیکن وہ سکھانے کی جلدی میں ہیں۔
ان کا پہلا دلچسپ بیان ان خواتین کے بارے میں تھا جو پھٹی ہوئی جینز پہنتی ہیں۔ کسی غریب کا مذاق اڑانا کہاں اچھی بات ہے۔
غریبوں کے ساتھ تو خود زندگی مذاق کرتی ہے لیکن وزیراعلیٰ صاحب ان عورتوں کا ذکر کر رہے تھے جو فیشن میں پھٹی ہوئی جینز پہنتی ہیں۔

گذشتہ کئی دنوں سے انڈیا میں روزانہ 40 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں جہاز میں بیٹھا تو برابر میں ایک بہن جی بیٹھی ہوئی تھیں۔، میں نے جب ان کی طرح دیکھا تو نیچے ’گم بوٹ‘ تھے، جب اور اوپر دیکھا تو گھٹنے پھٹے تھے، ہاتھ دیکھے تو کئی کڑے تھے، ان کے ساتھ میں دو بچے تھے۔ میں نے پوچھا کیا کرتی ہیں آپ، جواب ملا، ایک این جی او چلاتی ہوں۔ گھٹنے نظر آ رہے ہیں، سماج کے بیچ میں جاتی ہو، بچے ساتھ میں ہیں، انہیں کیا ’سنسکار‘ (اقدار یا تربیت) دیتی ہوگی۔‘
اب یہ خوشحال عورتیں بھی کہاں مانتی ہیں۔ کاش اس خاتون نے اپنی جینز میں رفو کرا لیا ہوتا، 100 دوسو روپے سے زیادہ نہیں لگتے لیکن بچوں کا مستقبل سنور جاتا، وہ اچھے انسان بنتے اور لوگ جب بھی ان سے ملتے تو یہ ہی کہتے: یہ اس ماں کے بچے ہیں جس نے کبھی پھٹی ہوئی جینز نہیں پہنی، ایسے بچے تو الگ ہی نظر آتے ہیں۔
یا پھر وزیراعلیٰ نے ایئرپورٹ سے تاریخ کی ایک کتاب خرید لی ہوتی۔ وہ مطالعے میں لگے رہتے، نہ کسی خاتون کے گھٹنے پر نظر جاتی اور نہ یہ کنفیوژن ہوتی کہ ہم پر حکومت کرنے والے کون لوگ تھے اور کہاں سے آئے تھے۔
لیکن یہ نہیں ہوتا تو کچھ اور ہوتا۔ ان کی ریاست میں ہی ہریدوار شہر بھی ہے، جہاں کمبھ کا میلا لگتا ہے۔ اس موقع پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں، بس مجمع اور جذبہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا آپ نے حج کے دوران دیکھا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کمبھ میلے میں شرکت کرنے والوں کے لیے کورونا کی پابندیاں ہٹا دی ہیں (فوٹو: گیٹی امیجز)
لیکن یہ کوروناوائرس کا وقت ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انڈیا میں دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ گذشتہ کئی دنوں سے روزانہ 40 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس لیے ڈر ہے کہ کہیں کمبھ کے میلے سے حالات اور نہ بگڑ جائیں، لیکن جہاں لاکھوں لوگ جمع ہوں وہاں عقیدت مندوں سے یہ کہنا کہ ذرا احتیاط برتیے گا، بس ایسا ہی ہے جیسے کسی نئے زمانے کی لڑکی سے یہ کہنا کہ وہ اپنی پھٹی ہوئی جینز میں رفو کرا لے، شاید دکان دار نے غلطی سے دے دی ہے۔
اس لیے وزیراعلی ان باریکیوں میں پڑے ہی نہیں رہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ میلے میں جو چاہے آ سکتا ہے۔ کوروناوائرس کو روکنے کے لیے عائد کی جانے والی تمام غیرضروری پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں کیونکہ خوف پر عقیدہ بھاری پڑتا ہے۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہوگا لیکن اگر کورونا وائرس پھیلتا بھی ہے تو غلطی وزیراعلیٰ کی نہیں لوگوں کے عقیدے کی ہوگی۔ اگر آپ کا عقیدہ ہی پختہ نہیں ہے تو کم سے کم اس کے لیے تو حکومت کو دوش مت دیجیے، اور ہاں آخر میں بس تھوڑا سا گہرا فلسفہ اور کورونا وائرس کے دوران حکومت نے بڑی تعداد میں لوگوں کو مفت اجناس فراہم کیں۔ جس گھر میں جتنے زیادہ فرد تھے، ظاہر ہے کہ انہیں اتنا ہی زیادہ اناج ملا۔
وزیراعلیٰ سے ان لوگوں کی تکلیف برداشت نہیں ہوئی جنہیں کم اناج ملا۔ جن لوگوں کے گھر میں دس افراد تھے، انہیں پچاس کلو چاول ملے، جن کے گھر میں بیس تھے انہیں سو کلو۔
اتنا اچھے چاول لوگوں نے خرید کر کبھی کھائے ہوں گے، لیکن اس کے باوجود لوگ ایک دوسرے سے جل رہے ہیں کہ کسی کو 10 کلو ملے اور کسی کو ایک کوئنٹل، غلطی کس کی ہے؟ اس نے 20 بچے پیدا کیے اور تم نے دو، جب وقت تھا تو دو بچے کیوں پیدا کیے، بیس کیوں نہیں؟
جن لوگوں کے پاس ابھی وقت ہے، انہیں اب معلوم ہوگیا ہوگا کہ کیا کرنا ہے، لیکن بس اتنا یاد رکھیے گا کہ نہ ہمیشہ کوروناوائرس رہے گا اور نہ مفت اناج کی سکیم۔
باقی آپ جانیں اور آپ کے حکمران
 

واپس اوپر جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں