صومالی فوجی اڈوں پر حملہ، 47 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی




موغا ديشو: صومالیہ میں شدت پسند اسلامی تنظیم الشباب کے جنگجوؤں نے دو فوجی اڈوں پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں 47 اہلکار ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے، حکومتی فورسز اور الشباب کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے اور اب تک کئی لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دارالحکومت موغادیشو کے نزدیک فوجی اڈے پر دو بم دھماکے کیے گئے جبکہ ایک فوجی قافلے پر بھی بم دھماکا کیا گیا،  دھماکے کے بعد فوج اور جنگجوؤں میں گھمسان کی جھڑپ ہوئی ہے۔

صومالی فوج کے ترجمان نے جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 77 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہےکہ پہلی جھڑپ میں 60 جبکہ دوسری میں 17 جنگجو مارے گئے اور اس دوران 9 فوجی اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔

صومالی فوج کے ترجمان کاکہنا تھاکہ جنگجوؤں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے مزید نفری کو بھیجا گیا تھا اور بھرپور جوابی کارروائی کرکے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

دوسری جانب الشباب نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی بیس اور فوجی قافلے پر کیے گئے حملوں میں 47 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اسلحہ اور فوجی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں ہیں۔

خیال  رہے صومالیہ میں صومالی نیشنل آرمی فورسزاور الشباب کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے تاہم گزشتہ 4 برسوں سے اس میں تیزی آئی ہے۔

واضح رہےکہ شدت پسند تنظیم الشہاب، القاعدہ سے منسلک تنظیم ہے جو موغادیشو میں امریکی تعاون پر مشتمل صومالیہ حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح کوششیں کررہی ہے جبکہ صومالیہ کی فوج کے علاوہ افریقن یونین فورسز کے 20 ہزار سے زائد اہلکار صومالیہ میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

یاد رہے اکتوبر 2017 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل کے باہر پرہجوم علاقے میں ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 231 افراد ہلاک اور 275 افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ جوابی کاروائی میں شدت پسند تنظیم کے ٹریننگ کیمپ پر حملہ کیا تھا جس میں تقریباً 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

The post صومالی فوجی اڈوں پر حملہ، 47 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی appeared first on Daily Jasarat News.

اپنا تبصرہ بھیجیں