یو اے ای حکومت کا بڑا فیصلہ –




دبئی : متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شہریوں اور رہائشیوں کے لئے پہلا محفوظ ڈیجیٹل قومی شناختی کارڈ متعارف کرنے کے اپنے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر “متحدہ عرب امارات پاس” ایپلی کیشن میں صارفین کو رجسٹر کرنے کے لئے چہرے کی بائیو میٹرک شناخت استعمال کرے گی۔

“متحدہ عرب امارات پاس ایپ” پہلی قومی ڈیجیٹل شناخت اور حل ہے جو صارفین کو اسمارٹ فون پر مبنی توثیق کے ذریعے تمام امارت میں سرکاری خدمت فراہم کرنے والوں سے اپنی شناخت کراسکتی ہے۔

یہ صارفین کو اعلیٰ سطح کی حفاظت کے ساتھ دستاویزات پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کرنے کا اہل بناتی ہے۔ ایپ ڈیجیٹل تبدیلی کو بھانپنے اور کاغذات کے لین دین کو ختم کرنے میں متحدہ عرب امارات کے حکومتی اہداف کو پورا کرتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیشل آئی ڈی ایک سمارٹ ٹیکنالوجی ہے جس کیلئے حکومت کا مقصد اسے مختلف شعبوں میں استعمال کرنا، اس سے فائدہ اٹھانا اور سرکاری اور نجی شعبے کی خدمات میں اضافہ کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے بائیو میٹرک چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا مقصد عوام کی زندگی کو آسان بنانا اور انہیں آسان، تیز رفتار اور مؤثر خدمات فراہم کرنا ہے۔

فی الحال “متحدہ عرب امارات پاس ایپ” پر رجسٹرڈ افراد کی تعداد 1.38 ملین سے زیادہ ہے جن میں تصدیق شدہ اکاؤنٹس والے6لاکھ 28 ہزار افراد شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کے چیف آف گورنمنٹ سروسز محمد بن طلحہ نے کہا ہے کہ جدید تصورات، آلات اور فعال خدمات کو اپنانا معاشرے کے تمام طبقات کی زندگی کو آسان بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے پائیدار نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ڈیجیٹل حکومت کے سربراہ اور ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حماد عبید المنصوری نے کہا کہ ڈیجیٹل شناختی ایپ کے اندراج کے عمل میں چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کا استعمال مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے پروجیکٹ کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈیجیٹل شناختی اطلاق میں بائیو میٹرک چہرے کی شناخت کے استعمال کے ساتھ سرکاری خدمات کے مراکز کا دورہ کرنے کی ضرورت کے بغیر پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ایک تصدیق شدہ اکاؤنٹ بنایا جاسکتا ہے۔

اندراج کے عمل میں 20 منٹ کا وقت لگتا ہے۔ یہ ایپلی کیشن صارفین کو تمام سرکاری اور نیم سرکاری ویب سائٹوں اور اپیلی کیشنز میں محفوظ طریقے سے داخل ہونے اور 130 سے ​​زائد حکومتوں، سرکاری، وفاقی اور مقامی اداروں کی فراہم کردہ 6000 سے زیادہ خدمات سے فائدہ اٹھانے کا اہل بناتی ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں