اسلحے سے تشدد ایک وبا ہے، اسے روکنا ہوگا: جو بائیڈن




جمعہ 9 اپریل 2021 7:24

امریکا میں فائرنگ سے سالانہ 40 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسلحے کے ذریعے تشدد کو ’ایک وبا‘ اور ’بین الاقوامی شرمندگی‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں اس مسئلے کے تدراک کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں فائرنگ کے واقعات کو ’صحت عامہ کا بحران‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’خدا کے لیے، یہ ایک وبا ہے اور اسے روکنا ہوگا۔‘

انہوں نے اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ اور نائب صدر کمیلا ہیرس کی موجودگی میں کانگریس کے ارکان اور اسلحے پر کنٹرول کے حوالے سے کام کرنے والے ایکٹوسٹس کو کہا کہ ’یہ ایک بین الاقوامی شرمندگی ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ‘دعائیں بہت ہو گئیں، اب عمل کا وقت ہے۔‘
تاہم امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے کئی گھنٹے بعد ٹیکساس میں ایک مسلح شخص نے کچن کے کیبنٹ بنانے والے پلانٹ میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا اور چار افراد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مسلح شخص اسی پلانٹ میں ملازم تھا لیکن فوری طور پر فائرنگ کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا۔

امریکی صدر کی تقریر کے چند ہی گھنٹے بعد ٹیکساس میں فائرنگ کا واقعہ ہو گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کانگریس کے اسلحے کے خریداروں کے پس منظر کی سخت جانچ پڑتال جیسے نئے قوانین پر متفق نہ ہونے کے ساتھ، جو بائیڈن نے چھ ایگزیگٹیو اقدامات کا اعلان کیا۔
امریکی صدر کے بقول ’ان سے بحران کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
ریپبلیکنز نے فوری طور پر ان تجاویز کی شدید مخالفت کی جبکہ کانگریس میں پارٹی کے سینیئر رہنما کیون میکارتھی نے ’غیرآئینی مداخلت‘ کے حوالے سے انتباہ کیا ہے۔
جو بائیڈن نےاپنی تقریر کے دوران اسلحے پر کنٹرول کے حامی اور سابق سرکاری افسر ڈیوڈ چپ مین کی بیورو آف الکوحل، تمباکو، آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کے بطور سربراہ نامزدگی کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تجاویز محض آغاز ہیں اور کانگریس پر زور دیا کہ وہ پس منظر کی جانچ پڑتال اور اکثر بڑے پیمانے پر قتل عام میں استعمال ہونے والی طاقتور رائفلز کی فروخت کے خاتمے جیسے دور رس اقدامات اٹھائے۔
واشنگٹن میں اسلحے پر پابندیوں کے خلاف اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے اسلحے کے ذریعے تشدد کے خلاف کام کرنے والی ایجنسی اے ٹی ایف کا 2015 سے سینیٹ سے منظور شدہ کوئی سربراہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں ہر سال فائرنگ سے 40 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ حال ہی میں کولوراڈو، جارجیا اور کیلیفورنیا میں فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی طرف سب کی توجہ مبذول ہے جبکہ آدھی سے زیادہ سالانہ ہلاکتیں خودکشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

واپس اوپر جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں