Yemeni journalists call for release of colleagues held by Houthi rebels








یمنی صحافیوں کا ایک گروپ جو حوثی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بن چکا ہے، عالمی برادری سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ باغیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ اُن کے چار صحافی ساتھیوں کو سزائے موت سے آزاد کروائے۔

سعودی اتحاد کی یمن میں مداخلت کے بعد سن 2015 ء کے موسم گرما میں دارالحکومت صنعا میں عبد الخالق آمران ، اکرم الولیدی ، ہرت حمید اور توفیق المنصوری کو 6 دیگر صحافیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

10 افراد پر مشتمل گروپ پر آخر کار جاسوسوں کے الزامات عائد کیے گئے جن میں ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کو کمزور کرنے کے لئے “دشمن کے ساتھ تعاون” اور “جھوٹی خبروں اور افواہوں کو پھیلانا” بھی شامل ہے۔

رہا ہونے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اپریل 2020 میں ایک حوثی مقرر جج کے سامنے ان کی سماعت سے قبل انہیں برسوں تک تشدد ، بھوک جانوروں جیسے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام 10 افراد کو مجرم قرار دیا گیا تھا لیکن چھ کو سخت نگرانی کی شرائط میں رہا کیا گیا تھا جبکہ دیگر چاروں کو سزائے موت سنائی گئی۔

ملزمان کے عزیزوں اور دفاع کے وکلاء کو مقدمے کی سماعت میں شرکت کی اجازت نہیں تھی اور ایک اپیل منسوخ کردی گئی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان 10 افراد کو اپنے کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

چھ چھ آزاد صحافی اور ان کے اہل خانہ یمن چھوڑنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ قاہرہ میں رہائش پذیر ہیں۔ سزا سنانے کے ایک سال بعد ان کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت ان کے ساتھیوں کی رہائی کے لئے بات چیت کے لئے کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔









اپنا تبصرہ بھیجیں