شفٹنگ – حمیرا حیدر




گھر کی شفٹنگ کرنا تھی تو کئی ماہ سے حسب منشی گھر کی تلاش جاری تھی۔ بالآخر ایک گھر موزوں لگا۔ جو ضروری چیزیں تلاش رہے تھے وہ تقریبا میسر تھیں۔  کرائے کا معاہدہ وغیرہ ابھی نہیں ہوا تھا۔ مگر ابھی سے فکر شروع ہو گئی تھی کہ دوسرے گھر منتقل ہونا ہے۔ ساتھ ہی ذہن میں گھر کی ترتیب کی جا رہی تھی، اس گھر سے اس گھر فلاں سامان  اس جگہ رکھوں گی۔ یہ نیلے پردے اس بیڈ سیٹ کے ساتھ اچھے لگیں گے۔۔۔ ارے اس کمرے میں تو ہلکا گلابی رنگ ہے۔ تو یہ کمرہ  بچوں  کے لئے موزوں رہے گا خاص طور پر بیٹی کے لئے۔

معلوم نہیں کیوں ہم نے رنگوں کو بھی مونث مذکر بنا دیا ہے۔ہلکا  گلابی رنگ لڑکیوں کے لئے اور ہلکا نیلا رنگ لڑکوں کے لئے خدا معلوم کس نے منتخب کر لیا؟ اور ہم اس رنگوں کے ایسے پابند کہ اللہ کا رنگ نہ خود اپنایا نہ اولاد کو اس رنگ میں رنگا ہاں بچے کو لباس اس کی صنف کے رنگ کے مطابق  ہی پہنانا ہے۔  اسی چکر میں ہم بچے کی پیدائش سے لے کر جب تک بچے ہمارے بس میں ہوتے یہی کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنی مرضی کے رنگ ان پر تھوپنے کا نتیجہ بعض دفعہ یہ بھی  نکلتا ہے ؛ ایک خاتون کی وفات ہوئی تو دیکھا کہ ان کے شادی شدہ دیور نے گلابی رنگ زیب تن کررکھا تھا۔ ایک تو فوتگی والا گھر اور ایسا رنگ ۔۔ حال ہی میں کسی خاص برانڈ کے ملبوسات کی تصاویر دیکھیں خاتون اور مرد ماڈلز نے بالکل ہم رنگ اور  یکساں ڈیزائین کے  کپڑےزیب تن کئے ہوئے تھے۔ اس لئے بچوں پر زبردستی اپنی مرضی کے رنگ مسلط نہ کئے جائیں کیونکہ اس کے بھی ایسے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ تو میں بتا رہی تھی کہ ہر وقت ذہن میں شفٹنگ اور وہاں کی سیٹنگ ہی چل رہی تھی۔ فلاں الماری اس جگہ  فلاں میز وہاں ٹھیک لگے گی۔ بچوں کی سائیکل تو باہر سیڑھیوں کے نیچے مناسب رہیں گی۔ قریب ہی پارک ہے۔  شام کو بچے کھیلیں گے اور میں واک بھی کر لوں گی۔ شاید وزن میں کوئی کمی ہی آ  جائے۔ گراونڈ فلور ہے تو پہلے ہی کیڑے مار ادویات چھڑک لوں گی۔ اپنی ایک عزیز آنٹی جن کا گراونڈ فلور پر رہنے کا تجربہ تھا ان کو کال کر کے پوچھا کہ کیا گراونڈ فلور پر چوہے تو نہیں ہوتے؟ بجلی پانی کتنے دن میں منتقل ہو جائے گی؟ قریب مسجد بھی ہے۔

اس قدر فکر اور  قبل از وقت پلاننگ کا سن سن کر میاں اکتا کر  کہنے لگے ابھی معاملات طے بھی نہیں ہوئے اور لگتا ہے تم اس گھر میں جاکر بس بھی گئی ہو۔
ان ہی خیالات کے بیچ اچانک ایک اور خیال آیا۔  جس گھر شفٹ ہونا ہے اس کے مالک سے بات بھی ابھی طے  نہیں ہوئی۔ معلوم نہیں وہ کسی اور سے بات کر چکا ہو۔ معلوم نہیں وہاں جا بھی سکیں یا نہیں۔ اور چلے بھی گئے تو یہ ملک اپنا نہیں مکان بھی تو کرائے کا ہی ہے۔ 

جبکہ ایک گھر ہے جہاں جانا یقینی ہے۔ خوشی سے جانا ہو یا ناخوشی سے مگر جہاں جانا ہے۔  وہ واحد ذاتی زمین ہے جس کا کوئی اور  دعوے دار نہیں ہو گا۔ بلا شرکت غیرے مالک تاوقتیکہ نشان تک مٹ جائے۔ وہاں معلوم نہیں کہ جہنم کا گڑھا منتظر  ہے یا جنت کا باغیچہ؟ جہاں پر ساتھ روشنی اپنے اعمال کی خود لے کر جانی ہے۔ جہاں پر وحشت کے  علاج کے لئے کوئی پارک نہیں ہے اگر دنیا میں کیا نہ گیا۔ وہاں چھوٹے بڑے ہر سائز کے کیڑے ہو سکتے ہیں پر کوئی کیڑے مار سپرے کام نہیں کرے گا۔ جہاں فرنیچر کی گنجائش ہی نہیں اور زیادہ سے زیادہ   اینٹ کا ایک تکیہ۔۔۔۔ اور اگر کہیں گناہوں کا وزن بہت زیادہ ہوا تو۔۔۔

ہم واقعی بےحدغفلت میں ہیں۔ ہماری پلاننگ صرف چند روزہ دنیا ہے۔ قبر کی اور  آخرت کی کتنی فکر اور کتنی پلاننگ ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں