کوثر انور




مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ محبت اندھی کیسے ہوتی ہے .محبت تو اچھائی سے ہوتی ہے, ہر خیر سے محبت ,محبوب کے محبوب ہونے کی شرط اس کی اچھائی ہے .محبوب کے ظاہری حلیے کہ بارے میں محبت اندھی تو کیا میں کہتی محبوب نظر بھی نہ آئے تو کام چل جائے گا ۔ (مسکراہٹ)

مجھے پہلی نظر کی محبت پہ بلکل یقین نہیں, محبت آہستہ آہستہ روح میں اترتی ہے. پہلی نظر کی محبت تو پہلی غلطی کے ساتھ ہی ختم بھی ہو جاتی ہے. (افسوس محبت کے نام کے ساتھ مذاق) دشمن (یہ لفظ پڑھتے ہی آپ حیران ہوئے ہونگے محبت کے ٹاپک میں دشمن کا ذکر خیر)مجھے لگتا ہے دشمن آپکی کمزوری کے ذریعے آپ پر آسانی سے حملہ آور ہوتا ہے.میرے چھوٹے سے ذہن میں بس اتنا آتا ہے کہ محبت انسان کی کمزوری ہے اور شیطان کی سب سے بڑی چال بھی محبت کے عقیدوں میں عجیب خلط ملط اور نہ سمجھ میں آنے والی دشواریوں کو ڈال دیتا ہے. خیر تمہید بہت ہوئی میں اپنے اصل مدعے پر آنا چاہوں گی آج کل ایک ڈرامہ جس کا نام خدا اور محبت ہے .اس کا تیسرا سیزن جو کافی مشہور ہورہا ہے ہماری نوجوان نسل میں ۔ میں نے یہ ناول پڑھا تھا اور رائیٹر ہاشم ندیم صاحب کیا کمال لکھتے ہیں ایسا لگتا ہے آپکا ہاتھ تھام کر محبت کی نگری میں وہ اپکو محبت کے دیس کی سیر کروارہے ہوں کبھی محبت کے میدانوں کی کبھی محبت کے دریاؤں کی تو کبھی محبت کے جلتے ریگستانوں کی تو کبھی محبت کے برف سے ڈھکے پہاڑوں کی تو کبھی ٹھنڈے چشموں کی .

تعریف میرے خدا کی جس نے انھیں رائیٹر بنایا .مجھے انکے ناول کے افتباس سے بننے والے ڈرامے اور اس کی شہرت سے کوئی اعتراز نہیں بس جو پڑھا تھا اور جو پیغام سمجھ میں آیا تھا وہ کہیں اس ڈرامے اور مداحوں کی زباں سے وہ پیغام ذرا کم ہی نظر آیا ناول پڑھ کر جو میری عقل سمجھی تھی کہ جب دو دل ایک ساتھ رہنے میں ذھنی و جسمانی سکون ڈھونڈ لیں تو زمانہ ہمیشہ اپنی جھوٹی شان وشوکت اور کبھی مذھب تو کبھی قومیت کبھی دلی ناپسندیدگی کو انکے راہ میں آڑے لاتا ہے جبکہ ہمارے اللہ نے نکاح کی جو شرائط بتائی ہیں ان میں دو لوگوں کا ایک دوسرے نکاح میں آنا انکی دل کی رضا سے ہو کافی ہے . پھر کیا ہوتا جب زمانہ آپکے نکاح اور آپ کے ساتھی چنے میں اپنی مرضی تھوپتا ہے .گزارا ہو ہی جاتا ہے انسان کا مگر روح زخمی رہتی ہے گزارا ہو ہی جاتا ہے مگر ذہن بےزار رہتا ہے گزارا ہو ہی جاتا مگر دل بےچین رہتا ہے یہ جو زندگی کا ساتھی ہوتا ہے نہ اسکا آپکے ذہن سے مطابقت رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے . مجھے لگتا مرد اور عورت کو اللہ نے جو زمین پر نکاح میں آئے ہوئے ساتھی کا جو ہدیہ دیا ہے زمین پر اپنے دشمن سے نمٹنے کا ساماں دیا ہے. جو کہ کبھی فدیہ اور کبھی کبھی جزیہ بن کے رہ جاتا ہے۔ آ خری بات سماج کامیابی ضمانت بھی اسی درد کو ساتھ رکھنے میں ہے ورنہ آپ معاشرے میں ناکامی کا تاج لے کر بیٹھیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں