ماضی کو کہیے الوداع

ماضی انسان کے ذہن پر گہرے نقش کی طرح بیٹھ جاتا یے۔۔۔۔
زیادہ تکلیف دہ ہو تب بھی اور خوبصورت ہو تب بھی۔۔۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر اس میں کوئی بہت خاص بات نہ ہو، تب بھی کچھ لوگوں کے لیے اس کا رومان بہت سحر انگیز ہوتا ہے۔۔
اکثر یہ لاشعوری ہوتا ہے۔۔۔
مگر کئی مرتبہ ہم شعوری طور پر بھی خود کو اس سے باندھے رکھتے ہیں۔۔
تجربات اچھے ہوں یا برے۔۔۔ بار بار ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔۔
اچھے ہوں تو آج سے تقابل کر کر کے جتاتے ہیں کہ جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، وہ تو گذشتہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔۔۔ اور اس طرح ہم حال کی مسرت کو کھو دیتے ہیں ۔۔۔
گذرا ہوا کل برا ہو۔۔۔ تو آج کی مسرتوں کو ماضی کی تلخ یادوں کے استھان پر قربان کرتے رہتے ہیں۔۔ “آج میرے پاس یہ ہے تو کیا۔۔ میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ وقت جب مج۔ ترسا تھا۔۔”
اسی طرح۔۔ ماضی کی وابستگیاں گہری ہوں تو ان یادوں کو ہم آری کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اس آری سے۔۔ نئے بننے والے تعلقات کو پنپنے سے قبل کاٹ دیتے ہیں ۔۔
اچھا تعلق ہو تو اس کی یاد نئے تعلق کو بے وفائی جتاتی رہتی ہے۔۔۔ ہمیں کمانڈ ہیلوسینسشنز ۔۔ (حکمیہ غیبی آوازوں) کی مانند اکساتی رہتی ہے کہ یہ نیا تعلق ویسا کیسا ہوسکتا ہے۔۔۔
بری یادیں ہوں۔۔۔ تو کڑوا زہر بن کر ہر نئے تعلق میں گھل جاتی ہیں ۔۔ اعتبار نہیں کرنے دیتیں۔۔۔۔
گویا کبھی کبھی ہم اپنے ماضی کے اچھے برے مردے اس سنکی کی طرح اپنے وجود کی خوابگاہ میں مسالہ لگا کر محفوظ کرلیتے ہیں۔۔۔ جس نے محبت کی شدت میں اپنی بیوی کی لاش کو اپنی خوابگاہ میں سنبھال کر رکھا تھا۔۔
یہ مردے ۔۔۔ سڑ بھی سکتے ہیں ۔۔ ان تک جاتی کیڑوں کی قطاریں لوگوں کو نظر آتی ہیں ۔۔۔
ہمارے تلخ لہجوں میں ، ہماری بے اعتباری میں ، ہمارے ہر اچھے موقع کو برباد کردینے والے رویے میں ۔۔ ہماری دوری، اوپرے پن اور سرد مہری میں ۔۔ مگر ہمیں نظر نہیں آتیں ۔
ہم اپنے پرانے تعلقات، تنظیموں ،جائے ملازمت،سسرال، قربت کی تعلقات ۔۔۔ جگہوں اور تہذیب اور روایت کے گذر جانے پر کبھی کبھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔۔
نہیں تسلیم کرتے کہ وقت گذر رہا ہے۔۔۔ اور وہ اپنے ساتھ نئے مواقع، امید اور نئے توقعات لے کر آتا ہے۔۔
گذرے ہوے کا غم۔۔۔ بھی فطری احساس ہے اور ضروری بھی ہے۔۔

مگر grief شدید ہونے لگے۔۔۔ تو ابنارمل ہوجاتا ہے۔۔
آپ خود پتہ نہ لگا سکیں تو کسی سے مدد لے لیں کہ حال سے الجھنے کی وجہ یہ ماضی سے غیرضروری اور ابنارمل وابستگی تو نہیں ؟
ہمیں سوچنا ہوگا کہ جہاں ہمارا کل ہمیں ہمارے آج سے جڑنے میں مزاحمت کررہا ہے۔۔۔ اور ہم اپنے آپ میں اس قدر محصور ہوتے جارہے ہیں کہ ہمارے اردگرد والے اس حصار سے باہر ہمین اجنبیوں کی طرح دیکھنے لگے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے۔۔
ماضی کو پیار سے الوداع کہنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اسے خاندانی ورثے میں ملنے والے ہار کی طرح گلے میں ضرور ڈالیں ، مگر اسے اپنے گلے کا طوق اور پیروں کی بیڑیاں نہ بنائیے۔۔
JS
جویریہ سعید

اپنا تبصرہ بھیجیں