قرض حسن اور انفاق فی سبیل اللّٰہ کا بہترین بدلہ




اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت واطاعت کا مکلف کرتے ہوئے، اس روئے زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی شریعت پر عمل کرے اور ایک منصفانہ سماج کی تشکیل کے لئے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یقیناًجسمانی ومالی دونوں طرح کی قربانی درکار ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگز بھلائی نہیں پاؤگے۔ (سورۂ آل عمران ۹۲)

اسی مالی تعاون کے ضمن میں آج قرض حسن ہمارا موضوع ہے ۔ قرض کے معنی کی تفصیل بعد میں آرہی ہے، جبکہ حسن کے معنی بہتر، خوبصورت اور اچھے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی چھ آیات میں بارہ مقامات پر قرض کا ذکر فرمایا ہے اور ہر آیت میں قرض کو حسن کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (سورۂ ہود ۱) یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم با خبر کی طرف سے) سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا ہر ہر لفظ اپنے اندر متعدد مفاہیم رکھتا ہے ، ان مفاہیم کو قرن اول سے مفسرین قلم بند کررہے ہیں اور یہ سلسلہ کل قیامت تک جاری رہے گا ان شاء اللہ۔سب سے قبل قرض کے معنی سمجھیں: قرض کے لغوی معنی کاٹنے کے ہیں، یعنی اپنے مال میں سے کچھ مال کاٹ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا کئی گنا بدلہ عطا فرمائے گا۔

محتاج لوگوں کی مدد کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو مال غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے، کبھی ظاہری طور پر ، کبھی معنوی وروحانی طور پر اس میں برکت ڈال دیتا ہے، اور آخرت میں تو یقیناً اس میں حیران کن اضافہ ہوگا۔قرض حسن سے متعلق ۶ آیات قرآنیہ :کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھاکر واپس کرے، مال کا گھٹانا اور بڑھانا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔  (سورۂ البقرۃ ۲۴۵)اور تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے دور کردوں گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔(سورۂ المائدۃ ۱۲)کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بڑھا چڑھاکر واپس کرے۔ اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ (سورۂ الحدید ۱۱)

مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں، اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دیاہے،ان کو یقیناکئی گنابڑھاکر دیا جائے گا، اور ان کے لئے بہترین اجر ہے۔  (سورۂ الحدید ۱۸) اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنابڑھاکر دے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بردبار ہے۔ (سورۂ التغابن ۱۷)اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو، جو کچھ نیک اعمال تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤگے، وہی زیادہ بہتر ہے، اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔  (سورۂ المزمل ۲۰)قرض حسن سے کیا مراد ہے ؟قرآن کریم میں استعمال ہوئی اس اصطلاح (قرض حسن) سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرنا، مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی کرنا ، نیز اپنے بچوں پر خرچ کرنا مراد ہے غرضیکہ انسانیت کے کام آنے والی تمام شکلیں اس میں داخل ہیں، جیسا کہ مفسرین قرآن نے اپنی تفسیروں میں تحریر فرمایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں