خوش نصیب لوگ کون ؟؟




ذکر اللہ کی بڑی عظمت، اہمیت اور برکات ہیں۔ ذکر اللہ سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور انسان کی روحانی ترقی ہوتی ہے۔ ذکر ِ اللہ سے قلوب  منور ہو جاتے ہیں۔ ذکرِ اللہ ہی وہ راستہ اور دروازہ ہے جس کے ذریعے ایک بندہ بارگاہ الٰہی تک پہنچ سکتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب بھی اور جہاں بھی کچھ بندگانِ خدا اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت ِ الٰہی ان پر چھا جاتی ہے اور ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے مقربین فرشتوں میں ان کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا مَیں تم کو وہ عمل بتاﺅں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے مالک کی نگاہ میں پاکیزہ تر ہے اور تمہارے درجوں کو دوسرے تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور اللہ کی راہ میں سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بھی زیادہ اس میں خیر ہے اور اس جہاد سے بھی زیادہ تمہارے لئے اس میں خیر ہے، جس میں تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارو اور وہ تمہیں ذبح کریں اور شہید کریں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا:ہاں یا رسول اللہﷺ ! ایسا قیمتی عمل ضرور بتایئے! آپ نے فرمایا:وہ اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کی حاجت ومراد رب کریم پوری ) فرمائیں گے ۔ مشکل پریشانی رنج وغم میں مبتلا شخص وہ یہ  ذکر کرے اللہ تعالیٰ آپ کی ہر مشکل دور ہوجائیگی ، اللہ کے ذکر میں نماز، تلاوت ِ قرآن حکیم، دُعا اور استغفار سب شامل ہیں۔ بقول حافظ ابن القیم (بحوالہ مدارج السالکین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں