رمضان اور اعتکاف




:رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر محلہ کی مسجد میں ایک دو آدمی اعتکاف کرلیں تو پورے محلہ کی طرف سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی۔ آخری عشرہ کے اعتکاف کے لئے بیس رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے مسجد میں داخل ہونا ضروری ہے۔

اعتکاف کا اصل مقصد شب قدر کی عبادت کو حاصل کرنا ہے، جسکی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ حضور اکرم ا رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایاکرتے تھے۔ ایک سال پورے ماہ رمضان کا اعتکاف فرمایا، جبکہ آخری رمضان میںآپ ا نے ۲۰ روز کا اعتکاف فرمایا۔رمضان کا اہتمام نہ کرنے والوں کے لئے:* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس نے (شرعی) اجازت اور مرض کی (مجبوری) کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھوڑدیا ، (اگر وہ ساری) عمر (بھی) روزے رکھے تب بھی اس کی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ (مسند احمد ، ترمذی ، ابوداؤد) * حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے ثمرات میں بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی حاصل نہیں ، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا۔ (ابن ماجہ ، نسائی)اِس مبارک ماہ میں مندرجہ ذیل اعمال کا خاص اہتمام کرنا چاہئے:* فرض نمازوں کا اہتمام ۔* دن میں روزہ رکھنا۔* نمازِ تراویح کی ادائیگی ۔* قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام۔* اگر مال میں زکوٰۃ واجب ہے تو اس کا حساب لگاکر زکوٰۃ کی ادائیگی ،کیونکہ رمضان میں ستر گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔* حسبِ سہولت عمرہ کی ادائیگی ، کیونکہ رمضان میں عمرہ کی ادائیگی نبی اکرم ا کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے (حدیث)۔

* سنت اور نفل نمازوں کی پابندی ۔* نمازِ تہجد کی ادائیگی ، خاص کر آخری عشرہ میں۔* رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف ، اگر سہولت سے ممکن ہو۔* دعاؤں کا اہتمام ۔* اللہ کا ذکر ، اور دیگر نیک اعمال کی ادائیگی ۔* دوسروں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دینا۔* گناہوں سے بچنا، اور دوسروں کو بھی حکمت کے ساتھ منع کرنا۔* رمضان کے آخر یا عید الفطر کی صبح کو صدقۂ فطر کی ادائیگی ۔ خلاصہ:میرے عزیز بھائیو! ہمارے بعض دوست واحباب ومتعلقین گزشتہ رمضان میں حیات تھے انہوں نے ہمارے ساتھ رمضان المبارک کے روزہ رکھے ، تروایح پڑھیں۔۔۔۔۔۔ لیکن اب وہ دنیوی زندگی کو الوداع کہہ چکے ہیں۔ آئندہ رمضان تک کون حیات رہے گا، اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ لہذا اس مبارک ماہ کے ایک ایک لمحہ کی قدر کریں۔ وقت کو یوں ہی ضائع نہ کردیں۔ دن میں روزہ رکھیں۔ راتوں میں تراویح اور تہجد پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کا خاص اہتمام رکھیں کیونکہ اس ماہ میں ہر نیکی کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور اہل اسلام کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند اور شیاطین کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے۔ ہر روز ملائکہ کے ذریعہ آواز لگوائی جاتی ہے کہ اے طالب خیر! سامنے آ اور متوجہ ہو ۔ اے طالب شر! بس کر گناہوں سے، تائب ہوکر طاعت اور نیکی کی زندگی کو اختیارکر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں