شب قدرمیں کیا کیا جائے ؟ _ عزیزہ انجم




اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے ۔آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی رض تم سے ایک شخص ہدایت پالے یعنی اچھی بات سیکھ لے یہ اس سے بہترہے کہ تمہارے پاس سو سرخ اونٹ ہوں ۔ ہر رمضان شب قدر کے حوالے سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ شب قدر میں کیا عمل کیا جائے کیا عبادت کی جائے ۔عموما ہمارے ہاں صرف رات گذارنے اور رات جاگنے کا تصور پایا جاتا ہے ۔
بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اوراحتساب کے ساتھ اس کے پچھلے گناہ بخش دئے گئے ۔


،جس نے رمضان کی راتوں میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کے پچھلے گناہ بخش دئے گئے ، جس نے لیلتہ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کے پچھلے گناہ بخش دئے گئے ۔ احتساب اپنا جائزہ لینے اور اپنا analysis کرنے کا نام ہے ۔اللہ کو محض چند مراسم کی ادائیگی مطلوب نہیں ۔اپنے اندر کے انسان کو بدلنا اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش مطلوب ہے ۔ شب قدر میں کیا کریں ۔ سورہ القدر کا ترجمہ اور تشریح مختلف تفاسیر سے پڑھیں ۔علما کے لیکچر اور أڈیوز سنیں ۔
شب قدر سے متعلق لٹریچر پڑھیں ۔ خرم مراد صاحب کی رمضان سے متعلق بہت چھوٹی چھوٹی کتابیں ہیں ۔آسان انداز گفتگو میں عملی باتیں ۔ ایک دو کتابیں اچھی طرح سمجھ کر ضرور پڑھیں ۔قرآن کے تیسویں سپارے عم یتسالون کی وہ سورتیں جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں انہیں تفسیر سے پڑھیں ان پر غور کریں تدبر کریں ۔مثلا سورہ ماعون میں ایک دوسرے کو چھوٹی چھوٹی چیزیں دینا اور شئیر کرنے کو نیکی کہا گیا ہے اور ایسانہ کرنے والے کو برا انسان بتایا گیا ہے ۔سوہ ھمزہ میں چغل خوری طعنہ دینا اور بخل کرنے کو آگ میں ڈالنے والی برائیاں بتایا گیا ہے ۔


نفس کے تزکیہ اور سیلف کنٹرول کرنے کی ترغیب ہے ۔مال کو اڑادینا اور اس پر خوش ہونے کو ناپسند کیا گیا ہے،مولانا منظور نعمانی صاحب کی معارف الحدیث منتخب احادیث کا بہترین مجموعہ ہے ۔اس میں سے کتاب الصلوات کتاب الزکات کتاب الدعا کا مطالعہ کریں ۔ دعاؤں کو اردو ترجمے کے ساتھ شعور کے ساتھ مانگیں ۔راتوں کو جاگنے میں بھی اپنی ڈیوٹیز اور اپنی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر ٹائم ٹیبل بنائیں ۔ اول رات اور آخر رات کا قیام اور کچھ سولینا بہتر ہے اگر اگلے دن اپنی ڈیوٹی صحیح سے ادا کرنی ہے ۔
اللہ کو میرا ایک بہتر مسلمان بننا پسند ہے ۔ایک بہتر معاشرے کا ذمہ دار فرد بننا پسند ہے ۔ دین کے اصل تصور اور عبادت کے اصل مقصد کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے ۔ اور ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان گزارنے کا ایک بہتر طریقہ بھی یہی ہے ۔ اور ایک آخری بات ۔اس چھوٹے سے فتنے سے خود کو بچانا بھی بڑا ضروری ہے جو ہماری انگلیوں کی دسترس میں ہے ۔ اللہ کرے کہ ہم میں اور آپ ایک بہتر رمضان گزار کر ایک نئ اور بہتر زندگی گزاریں ۔ یہی رب کی رضا اور مغفرت کا راستہ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں