لیلہ القدر – ڈاکٹر نوال العین




“لیلہ القدر”اس کا نام قدر کی رات اس لیے ہے ؛ اس میں تقدیریں عرش سے زمین پر آتی ہیں۔ اسی نسبت سے اس کو تقدیر طے ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔اس رات کی عبادت 84 سال کے برابر ہے؛مثال :اگر آپ اس میں استغفراللہ کہتے ہیں تو گویا اپنی ولادت سے لے کر آپ کی عمر کے 84 سال تک آپ نے استغفار کیا۔ اس رات میں ملائکہ کے زمین پر اترنے کی وجہ سے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔

اس طرح اگر ایک مومن دعا کرتا ہے تو اس کی دعاؤں پر گواہ اور آمین کہنے والے شاید اس کی پوری زندگی کی دعاؤں سے زیادہ ہوں۔اس رات میں تقدیر کی مختلف اقسام طے ہوتی ہیں۔ساری زندگی کی تقدیر,سال بھر کی تقدیر,ایک دن کی تقدیر.آپ استطاعت رکھتے ہیں کہ آپ اپنی ایک دن کی تقدیر لکھیں یا ایک سال۔ یہ آپ کی دعاؤں پہ منحصر ہے۔ مثال : اگر اللہ نے آپ کے لیے اگلے سال کے لیے کوئی برائی یا مصیبت لکھ دی ہے جیسے آپ کے کسی عزیز شخص کی وفات۔ آپ کی زوجیت میں کوئی نقصان چاہے وہ مادی ہو یا معنوی یا آپ کے کسی بھی معاملے میں کوئی الٹ معاملہ ہو ۔۔۔۔وغیرہ تو آپ کی اخلاص کے ساتھ مانگی ہوئی دعا آپ کے لیے آسانی کر سکتی ہے۔ اللہ کی عطا کی ہوئ توفیق اور سعادت کے ساتھ آپ کی عافیت کے لیے مانگی ہوئی دعا آپ کے معاملات آپ کے لیے آسان کر سکتی ہے۔لیلہ القدر میں ملائکہ اس بندے کے پاس سے گزرتے ہیں جس کے لیے موت لکھی ہو تو اس کی دعائیں اس کے لیے موت کو مبارک کر دیتی ہیں ۔ اس کے اعمال کو قبول کر دیتی ہیں اور اس کو آگ سے آزاد کر دیتی ہیں۔ایک گھنٹہ 8 سال کے برابر ہےاور ایک منٹ 50 دنوں کے برابر ہے۔ تو پھر آپ کیسے غافل ہو سکتے ہیں؟

اخواتی! اللہ کریم اور رحیم نے ہمارے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور آسمان کے دروازے اور جنت کے دروازے ہمیں پکار رہے ہیں تاکہ ہم توبہ کر لیں۔آپ اس وقت کو مت کھوئیں…لیلہ القدر ایک عظیم رات ہے اس کو بازاروں میں مت ختم کریں کیونکہ رسول اللہ صلعم اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں سخت محنت کرتے اور پوری رات قیام کرتے۔ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمارا آخری رمضان تو نہیں۔اس رات میں ذکر اور صدقہ اور قرآن کی تلاوت زیادہ کریں۔ہم عورتیں کیسے صدقہ کریں جبکہ ہم کماتی نہیں۔نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرواور استغفار میں کثرت کرو کیونکہ میں نے تمھاری اکثریت کو آگ میں دیکھا ہے”یہ حدیث ہمارے خوف کو بڑھا دیتی ہے حل کیا ہے؟صدقات صرف مال کے محصور نہیں بلکہ ہر خیر صدقہ ہے.ہر تہلیل و تکبیر صدقہ ہے.ہر تسبیح و تحمید صدقہ ہے.نیکی کا حکم دینا اور برائ سے روکنا صدقہ ہے.اپنا سوشل میڈیا کے چینل کھول کر نیکی کی بات کو پھیلانا صدقہ ہے.دو رکعتیں چاشت کی نماز صدقہ ہے.برائی سے خود کو روکنا صدقہ ہے.راستے سے کوئی چیز اٹھانا صدقہ ہے.اپنے نوکر کو اپنے جیسا کھلانا صدقہ ہے.

۔علم سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا صدقہ ہے۔ کسی کو پانی پلانا صدقہ ہے۔لیکن اس کی اساس اخلاص اور ثواب کی تمنا ہے یعنی نیتیاد رکھیں کہ صدقہ گناہ کو ایسے ختم کرتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے-اس لیے اپنے آپ کو لیلہ القدر کو پانے کے لیے تیار ہوں اور اس قیمتی خزانے کو مت کھوئیں۔

ٹرانسلیٹر :اسماء خالد- خلاصہ لیکچر ڈاکٹر نوال العین

اپنا تبصرہ بھیجیں