اُف یہ بلی – عزا کرامت




جی تو یقیناً موضوع پڑھ کر آپ کو ہمارے وبالِ جان کے بارے میں پتا تو چل ہی گیا ہو گا۔۔۔ جی ہاں ناظرین یہ بامشکل دو فٹ دکھائی دینے والی چھوٹی سی بلی۔ ناظرین آپ اس کی شکل و صورت پہ نا جائے یہ مخض دیکھنے میں معصوم سی پیاری چھوٹی سی لگتی ہے بلکل ویسے ہی جیسے پوری کلاس میں ٹیچرز کو جو سب سے معصوم بلکل دنیا سے بے خبر لگنے والا بچہ ہوتا ہے.

جبکہ تمام کارناموں کے پیچھے وہی شریف ذہن ہوتا ہے۔ سب سے بڑی خامی تو اس کی یہ ہے کہ اسے اپنے مالک سے ہر وقت چپکے رہنے کا بڑا ہی شوق ہے پھر چاہے کچن ہو کہ کمرہ ہر جگہ اس کی امد تو ضروری ہے۔۔ اور اگر کسی ایسے شخص کو دیکھ لیں جن سے مالک ذرا سا گھل مل گیا ہے تو پھر اُس غریب کی تو خیر نہیں ۔۔۔۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے کہ ہم بھی بلی والے ہیں۔۔۔ اصل میں تقریباً روز ایسی عظیم شخصیات سے میل ہو ہی جاتا ہے۔۔۔اور تو اور جس دن کسی ایسے شخص سے ملاقات نا ہو تو محترمہ بلی صاحبہ اس دن اپنا دیدار کروانے آجاتیں ہیں۔۔۔ یہ کہنے کو تو کسی کی پالتوں بلی نہیں ہے اور اس کا کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن لیکن لیکن یہ صرف کہنے کی حد تک ایسا ہے۔۔۔

ہمیں تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھر میں نہیں بلکہ اس برخودار کے گھر میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہتے ہیں وہ بھی ایسا کرایہ دار جس نے چھ سات ماہ کا کرایہ نہیں دیا اور مکان مالک کو دیکھ کر کمرے میں ہی نظر بند ہو جاتیں ہیں کہ وہ باہر سے ہی واپس ہو لیں۔۔۔ آپس کی بات ہے ایک بار پنجھیں کھانے کے بعد کبھی اسکے قریب بھی نہیں بٹکے بلکہ اب تو اگر خواب میں بھی بلی کو دیکھ لیں تو ڈر کے مارے گھبرا جاتے ہیں۔۔۔۔ اور آپ لوگ اسے بہت ہی شریف سمجھتے ہیں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اچھے خاصے باشعور لوگ اس کے عشق میں اندھے ہو جاتے ہیں اور بدلے میں یہ کیا دیتی ہے کچھ بھی نہیں اُلٹا گھر آۓ مہمانوں کے بچوں پہ حملہ کر کے آپکو بے عزت کروا دیتی ہے۔۔۔ ایسے ہی ایک دن کلاس میں باتوں سے بات نکلی تو معلوم ہوا کہ مابدولت کی کیمسٹری کی اچھی خاصی میم بھی اس پر فدا ہیں وہ نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتا رہیں تھیں کہ

” مجھے بلی بہت پسند ہے لیکن میرے پاس ایک بھی نہیں ہے۔۔۔”. اور اُس وقت ہم بیٹھے دل ہی دل میں یہ کہ رہے تھے کہ”

ہاۓےےےےےے ہماری بیچاری میم جسے اپنے حق میں بُرا خیال کر رہی ہیں وہی اُن کے لیے نعمت ہے مگر کہتے بھی تو کیا کہتے بس دُعا ہی کر سکتے تھے لہذا دل کی اتھا گہرائیوں سے دعا کی کہ یااللہ میری میم اور اُن کے ساتھ ساتھ سب لوگوں کو جو اس کے پیار میں پاگل ہیں بچا لے۔۔۔۔

اور اسی کہ ساتھ ہمیں دیجیے اجازت۔۔ باتیں تو بہتتت ہے مگر وقت کی تنگی کہ باعث آج کے لیے اتنا ہی۔۔۔۔۔ کیا ہے نا اگر ہم ایک دفعہ شروع ہو جاۓ تو پھر روکتے نہیں ۔۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔۔ تو پھر ملتے ہیں آپ سے ایک نئے موضوع کے ساتھ تب تک کے لیے اپنا خیال رکھیے اور آپکا بہت شکریہ ہمیں جھیلنے کے لیے ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں