ایک ملاقات کشمیر کے ساتھ – سیدہ ابیحہ مریم




اسٹوڈیو میں ایک نشست جاری ہے جو “ا۔۔ب۔۔ج چینل” پر براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔ آج کے ٹاک شو میں صحافی نے کشمیر سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے اور ابھی دونوں محوگفتگو ہیں۔ صحافی: جی جناب کشمیر! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پچھلے ہفتہ ہی آپکا یوم یکجہتی، پاکستان بھر میں منایا گیا ہے، تو آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

کشمیر: دیکھئے صاحب، بات یہ ہے کہ زبان کی حد تک تو مجھ سے ہمدردی یورپی ممالک کے بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن میں مسرور تو اس وقت ہوتا ہوں جب پاکستانیوں کی طرف سے میرے لئے کسی دھرنے، مال وصول ہونے یا میرے مکینوں کیلئے دعاؤں کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔ ان کا جذبہ قابلِ ستائش ہوتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان ایک دن مجھے اس غلامی سے نجات دلوا لے گا انشاءاللہ۔صحافی: واہ بھئ! اتنا اعتماد ہے اپ کو پاکستانیوں پر؟کشمیر: جی بلکل کیونکہ پاکستان میرا ہی ہے اور میں اسی کا حصہ ہوں۔ مجھ پر سات سو سال مسلمانوں نے حکومت کی۔ 1941 میں میری آبادی میں مسلمانوں کا تنا سب 80 فیصد تھا۔ پہلے مجھ پر سکھوں نے حملہ کیا اور قابض ہو گئے۔

پھر انگریزوں نے مجھ پر حکمرانی کی مگر کچھ ہی عرصے بعد مجھے ایک معاہدے “معہدہءِ امرتسر” کے تحت سکھ راجہ گلاب سنگھ کو پچاس لاکھ کے عوض فروخت کر دیا۔ جولائی 1947 میں قرارداد کی منظوری کے باوجود مہاراجہ نے میرا پاکستان سے الحاق نہ ہونے دیا اور میرے مکینوں پر مزید ستم ڈھانے شروع کر دئیے۔ پھر 24 اکتوبر1947 کو پاکستانی فوج نے ہی میرے ایک حصے کو آزاد کرایا اور اسے آزاد کشمیر کا نام دیا تھا اور مجھے یقین ہے کہ اسی طرح مجھے بھی آزاد کروا لیا جاۓ گا! صحافی: زبردست محترم! آپ نے تو اسکول کے زمانے میں پڑھائے جانے والے اسباق کی یاد تازہ کر دی۔
کشمیر: ہممم۔۔ یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے اور میرے مسائل کو محض تعلیمی نصاب کی حد تک محدود کر دیا ہے

جبکہ ہم تو آپس میں بھائی ہیں اور ہمارا تعلق تو ایسا ہے کہ ایک کا غم دوسرے کا دکھ اور ایک کی خوشی دوسرے کا سکھ ہے۔ پاکستان تو پاکستان، دنیا کے تمام ممالک میں موجود مسلمانوں کو میرے بچوں کی پرواہ ہونی چاہئیے، آپ کو متحد ہونا چاہئیے، میرے لئے لڑنا چاہئے۔ صحافی: اچھا سر، جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں لڑنا چاہئے تو ذرا اس پر تفصیلاً روشنی ڈالئے کیونکہ ہر کوئی تو نہیں لڑ سکتا میدان میں آکر۔۔۔ کشمیر: جہاد۔۔۔ وہ عمل جو اللہ کو بے حد محبوب ہے اور اس پر عمل کرنے والا اُس سے زیادہ پسند ہے، تو اس کی بہت سی اقسام ہیں مثلاً، جہاد بالسان، جہاد بالقلم، جہاد بالمال، جہاد بالسیف وغیرہ اور جو شخص ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو اُس کے لئے جہاد بانفس ہے۔ اب آگے آپ کا انتخاب ہے۔

دیکھیں جناب! کتنا اتنا ہے کہ اپنی نیت کو خالص کریں جو کام بھی کریں، دنیا کے سامنے نمبر بڑھانے کےلئیے نہیں بلکہ اللہ کے سامنےثواب کمانے کیلئے کریں۔ انشاءاللہ میں یہاں سے لے کر آزادی تک کا سفر آپ کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے ذریعے طے کروں گا! صحافی: انشاءاللہ ضرور، اب میرے خیال سے کافی وقت ہوگیا ہے۔ آپ کو جانا ہوگا کیونکہ بھارت نے گفتگو کے لئے آپ کو اتنی ہی مہلت دی تھی۔ اگلا پروگرام ہم کچھ دنوں بعد کریں گے اور آپ سے پوچھیں گے کہ آپ آزادی کہ کتنا نزدیک پہنچے۔ اسی کے ساتھ ناظرین ہم اپنی نشست برخاست کرتے ہیں۔ آپ لوگ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتے رہئے گا تاکہ ہم کشمیر اور اس کے بچوں کی اُمیدوں پر اُتر کر اسے آزاد کراسکیں۔ اب مجھے اجازت دیجئے، اللہ حافظ ۔

کیمرے بند کر دیئے گئے لیکن کشمیر کے آنسو بند نہ ہوئے۔ وہ جیسے روتے ہوۓ آیا تھا ویسے ہی روتے ہوۓ لوٹ گیا۔
~ سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا
ایک بستی جسے لوگ کشمیر کہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں