خوفناک بنگلہ – عائشہ فردوس




حارث اور ماریہ دونوں بہن بھائی تھے۔ ان دونوں کو سیر کرنے کا اور ڈراؤنی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا بہت شوق تھا-آج کل ان کے پھوپھی زاد بھائی، حامد بھائی ان کے گھر آئے ہوئے تھے جو کہ اسلام آباد میں رہتے تھے۔ حامد بھائی کو بھی ان ہی کی طرح کے شوق تھے۔ ان دونوں کو حامد بھائی کے ساتھ بہت مزہ آرہا تھا۔
ہر روز وہ ان دونوں کو کمرے کی لائٹیں بند کر کے اور خوفناک ماحول بنا کر دونوں کو ڈراؤنی کہانیاں سناتے۔ ایک روز حامد بھائی نے حارث اور ماریہ کو بتایا کہ “شہر سے باہر ایک پرانا خوفناک بنگلہ ہے جو کہ عرصے سے بند پڑا ہوا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں پر آسیب رہتے ہیں۔ لوگ رات کو ادھر جانے سے بہت گھبراتے ہیں اور دن کے وقت بھی اس طرف جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔” یہ بات سن کر حارث اور ماریہ کی آنکھیں چمک گئیں۔ حارث فوراً سے بولا، “حامد بھائی! کیوں نہ ہم لوگ وہاں پر ایک رات گزاریں۔ پھر ہم بھی اصلی آسیب کو دیکھ لیں گے۔” حامد بھائی پہلے تو ذرا سا ہچکچائے کیونکہ ان کو واپس اپنے گھر بھی جانا تھا اور ان کو تھوڑا سا ڈر بھی لگ رہا تھا لیکن پھر آخر کار انہوں نے بھی حامی بھر لی-یہ طے پایا کہ تینوں سیر کے بہانے باہر جائیں گے اور ایک رات کھنڈر میں گزار کر واپس آ جائیں گے۔ آخر کو امی ابو کو تو اصل بات نہیں بتائی جا سکتی ورنہ وہ منع کر دیتے۔
آخر مقررہ رات آ پہنچی اور وہ گھر سے نکل گئے۔ راستے بھر تینوں آپس میں باتیں کرتے رہے۔ لیکن جب وہ کھنڈر کے سامنے پہنچے تو وہ چپ ہو گئے۔ کیونکہ اصلی کھنڈر کہانیوں کے کھنڈرات سے زیادہ خوفناک تھا۔ لیکن اب تو وہ آ ہی گئے تھے لہذا اندر جائے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔تینوں ایک ساتھ اندر داخل ہوئے۔ اندر ہو کا عالم تھا۔ ہر چیز گرد اور مٹی سے اٹی پڑی تھی۔ اونچی اونچی دیواروں پر مکڑیوں کے جالے بنے ہوئے تھے اور چھت پر ایک عجیب سی چمک تھی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ مزید خوفزدہ ہوگئے۔انہوں نے سامنے دیکھا تو پانچ کمرے تھے اور ان سب کے دروازے بند تھے۔ حارث سامنے والے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازے کو دھکیلا۔ حیرت انگیز طور پر دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ ایک عجیب سی چرمراتی آواز کے ساتھ کھلنے لگا۔ اسی لمحے ایک بڑا سا پرندے نما جانور اس کے سر پر سے اڑا۔ حارث چیخ کر پیچھے ہٹا اور اس نے اوپر دیکھا۔ پوری چھت پر چمگادڑیں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کی آنکھیں ہی تھیں جو اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ “آف! اتنی بڑی بڑی چمگادڑیں!” ماریہ نے حیرت سے کہا۔
اتنے میں وہ دروازہ جو حارث نے کھولا تھا آہستہ آہستہ کھل چکا تھا۔ انہوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان کو فورا ہی رک جانا پڑا کیونکہ باقی کمروں کے بھی دروازے کھلنے لگے تھے۔ وہ تینوں باہر نکلنے کے لیے مڑے تو دیکھا کہ بڑا دروازہ انتہائی خاموشی کے ساتھ بند ہو چکا تھا۔ وہ دروازوں سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ اچانک دروازوں میں سے دھواں خارج ہونا شروع ہو گیا۔ اور پھر دھواں اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ نظر آنا بند ہو گیا۔ اور ساتھ ہی عجیب عجیب سی آوازیں بھی سنائی دینا شروع ہو گئیں۔ “میں نے منع کیا بھی تھا کہ یہاں مت آؤ۔ بڑے بڑے لوگ یہاں سے گھبرا کر چلے کئے مگر تم کو ہی شوق چڑھا تھا۔” حامد بھائی نے چیخ کر کہا۔”کیا! میں نے کہا تھا؟! یہ تو آپ نے بتایا تھا اس جگہ کے بارے میں اور کہا تھا کہ چلو یہاں چلتے ہیں اور ماریہ نے بھی آپ کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ منع تو میں کر رہا تھا۔” حارث نے بھی جواب دیا۔ ماریہ نے کہا، “میں نے کب کہا تھا؟ یہ آپ دونوں کا پروگرام تھا۔
ارے وہ کیا ہے؟!”انہوں نے دیکھا کہ ایک عجیب سا ہیولا ان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔ اگرچہ اندھیرے اور دھوئیں میں دیکھنا بہت مشکل تھا لیکن وہ کسی طرح سے دروازے تک پہنچ گئے۔ انہوں نے اس خوفناک منظر کو دیکھنے سے بچنے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اور تینوں نے مل کر زور لگایا۔ دوسری ہی کوشش پر دروازہ کھل گیا اور وہ باہر آ کر گرے۔ جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو وہ کھنڈر کے باہر پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کسی طرح اس کھنڈر سے دور بھاگنے کی کوشش کی۔ بھاگتے بھاگتے آخر وہ شہر میں داخل ہو گئے اور اپنے گھر چلے گئے۔ حامد بھائی، حارث اور ماریہ نے آئندہ اس قسم کے شوق پالنے سے توبہ کر لی۔ اب جب بھی کوئی ڈراؤنی بات ہوتی ہے تو ان کو بہت ڈر لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں